BR100 Decreased By (-0.4%)
BR30 Decreased By (-0.65%)
KSE100 Decreased By (-0.29%)
KSE30 Decreased By (-0.22%)
BAFL 56.50 Increased By ▲ 0.03 (0.05%)
BIPL 24.84 Increased By ▲ 0.21 (0.85%)
BOP 30.05 Decreased By ▼ -0.07 (-0.23%)
CNERGY 12.75 Decreased By ▼ -0.23 (-1.77%)
DFML 18.13 Increased By ▲ 0.64 (3.66%)
DGKC 186.90 Decreased By ▼ -0.32 (-0.17%)
FABL 93.20 Decreased By ▼ -0.51 (-0.54%)
FCCL 51.00 Decreased By ▼ -0.65 (-1.26%)
FFL 14.43 Decreased By ▼ -0.06 (-0.41%)
GGL 18.89 Decreased By ▼ -0.15 (-0.79%)
HBL 302.50 Decreased By ▼ -1.28 (-0.42%)
HUBC 198.80 Decreased By ▼ -0.16 (-0.08%)
HUMNL 9.75 Decreased By ▼ -0.10 (-1.02%)
KEL 5.97 Decreased By ▼ -0.09 (-1.49%)
LOTCHEM 26.15 Decreased By ▼ -0.02 (-0.08%)
MLCF 90.33 Decreased By ▼ -0.90 (-0.99%)
OGDC 315.40 Increased By ▲ 2.01 (0.64%)
PAEL 34.73 Decreased By ▼ -0.51 (-1.45%)
PIBTL 14.23 Decreased By ▼ -0.48 (-3.26%)
PIOC 235.00 Decreased By ▼ -4.62 (-1.93%)
PPL 221.00 Decreased By ▼ -0.36 (-0.16%)
PRL 90.89 Decreased By ▼ -0.33 (-0.36%)
SNGP 90.30 Decreased By ▼ -0.57 (-0.63%)
SSGC 23.39 Increased By ▲ 0.09 (0.39%)
TELE 7.40 Decreased By ▼ -0.21 (-2.76%)
TPLP 12.02 Decreased By ▼ -0.54 (-4.3%)
TRG 54.35 Decreased By ▼ -1.44 (-2.58%)
UNITY 7.95 Decreased By ▼ -0.07 (-0.87%)
WTL 1.00 No Change ▼ 0.00 (0%)

باخبر ذرائع نے بزنس ریکارڈر کو بتایا کہ کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) میں ترسیلی اور تقسیم کے نقصانات (ٹی اینڈ ڈی نقصانات) پر قابو پانے میں ناکامی پر پاور ڈویژن کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے، کیونکہ مارچ 2025 تک مجموعی نقصانات 143 ارب روپے تک پہنچ چکے ہیں، جو کہ ماہانہ اہداف سے تجاوز کر چکے ہیں۔

ذرائع کے مطابق، وزارتِ خزانہ بھی وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے ذمہ بجلی کے واجبات 30 جون 2025 سے قبل ”ایٹ سورس“ منہا کرنے پر غور کر رہی ہے۔

ای سی سی کے حالیہ اجلاس میں پاور ڈویژن نے بتایا کہ اس کے انتظامی کنٹرول میں 11 ڈسکوز کام کر رہی ہیں، جنہیں سرکاری اداروں سے متعلق 2023 کے گورننس اور آپریشنز ایکٹ اور پالیسی کے تحت چلایا جا رہا ہے۔

فیصل آباد، اسلام آباد، لاہور، ملتان اور ہزارہ کی ڈسکوز کے بورڈز 24 جولائی 2024 کو تشکیل دیے گئے، جبکہ گوجرانوالہ، پشاور، کوئٹہ اور قبائلی علاقوں کی ڈسکوز کے بورڈز 21 اگست 2024 کو قائم کیے گئے۔ حیسکو اور سیپکو کے بورڈز کی ازسرنو تشکیل کے لیے سمریاں وزیر اعظم آفس کو اگست و ستمبر 2024 میں ارسال کی گئیں۔

ای سی سی کے 4 نومبر 2024 کے اجلاس میں دی گئی ہدایت کی روشنی میں پاور ڈویژن نے ڈسکوز کی گورننس سے متعلق پیش رفت سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ حیسکو اور سیپکو کے سوا تمام ڈسکوز کے بورڈز تشکیل دے دیے گئے ہیں۔ ان بورڈز کا مقصد بہتر کارپوریٹ گورننس، اسٹریٹجک نگرانی، اور آپریشنل کارکردگی کو فروغ دینا ہے۔

پاور پلاننگ اینڈ مانیٹرنگ کمپنی (پی پی ایم سی) نے تمام ڈسکوز کی ماہانہ کارکردگی مانیٹر کرنے کا نظام متعارف کروایا ہے جو کہ آپریشنل، تجارتی اور مالیاتی اشاریوں پر مبنی ہے تاکہ ہر کمپنی کو اس کی کارکردگی کا جوابدہ بنایا جا سکے۔

قومی بجلی پالیسی کے تحت تمام ڈسکوز کے بورڈز اور چیف ایگزیکٹو آفیسرز نے فروری 2025 میں ایک اسٹریٹجک روڈ میپ پر دستخط کیے۔ اس میں نقصانات میں کمی، بل وصولی، بجلی چوری کی روک تھام، صارف خدمات، سیفٹی ضوابط کی پابندی، اسکیڈا اور جی آئی ایس نظام کی تنصیب، ای آر پی سسٹم آٹومیشن، اور تقسیم کار ٹرانسفارمر سطح تک توانائی آڈٹ جیسے اقدامات شامل ہیں۔

پاور ڈویژن نے بتایا کہ ان اہداف کے حصول کے لیے ایک منظم ایکشن میٹرکس ترتیب دیا گیا ہے، جس میں فیڈر ری ہیبیلیٹیشن، ٹرانسفارمرز میں اضافہ، گرڈ اسٹیشن کی توسیع، کیپیسٹر کی تنصیب، ایچ ٹی و ایل ٹی لائنوں کی بہتری، ایریل بنڈل کیبلز (اے بی سی) اور ایڈوانس میٹرنگ انفراسٹرکچر (اے ایم آئی) کی تنصیب جیسے اقدامات شامل ہیں۔

ڈسکوز کے گورننس کے امور سے متعلق ای سی سی کو آئین کے قواعد و ضوابط کے تحت سمری پیش کی گئی، جس میں بتایا گیا کہ حیسکو اور سیپکو کے سوا دیگر تمام کمپنیوں کے بورڈز قائم ہو چکے ہیں اور ان کے تحت کام کی بہتری دیکھی گئی ہے۔

فورم کو بتایا گیا کہ پاور ڈویژن کے ٹیکنیکل بازو پی پی ایم سی کے ذریعے کمپنیوں کی کارکردگی کی مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے۔ تاہم یہ بھی بتایا گیا کہ نقصانات میں کمی کے حوالے سے پاور ڈویژن کو دیے گئے اہداف پورے نہیں ہو سکے، جبکہ بعض کمپنیوں، خاص طور پر لیسکو کے نقصانات میں اضافہ ہوا ہے۔

ای سی سی نے زور دیا کہ اس رجحان کو روکنے کے لیے ایک مؤثر حکمت عملی مرتب کی جائے۔ فورم کو بتایا گیا کہ کیسکو میں 70 فیصد نقصانات زرعی ٹیوب ویلز کی وجہ سے ہیں، جن کی شمسی توانائی پر منتقلی سے بہتری ممکن ہے۔

پاور ڈویژن نے حکومتی اداروں کے ذمہ واجب الادا رقم کی ادائیگی کے لیے وزارت خزانہ کی مداخلت کی درخواست کی اور بتایا کہ ڈسکوز اور متعلقہ صوبائی حکومتوں کے درمیان واجبات کی مفاہمت کے بعد ایٹ سورس کٹوتی کا طریقہ کار پہلے سے موجود ہے۔

تفصیلی بحث کے بعد ای سی سی نے پاور ڈویژن کو ہدایت کی کہ وفاقی و صوبائی اداروں کے واجبات کے مفاہمتی اعداد و شمار وزارت خزانہ سے شیئر کیے جائیں تاکہ ان کی جلد از جلد ادائیگی ممکن ہو سکے۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025

Comments

Comments are closed.