وفاق گندم قیمتوں سے دستبردار، پاسکو بند کرنے کا اعلان
حکومت نے قومی اسمبلی میں باضابطہ اعلان کیا ہے کہ وہ سرکاری گندم خریداری ادارہ پاسکو کو بند کررہی ہے، ساتھ ہی گندم کی قیمتوں پر کنٹرول ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، اس فیصلے سے اوپن مارکیٹ میں ہلچل اور غیر یقینی صورتحال پیدا ہو جائے گی۔
قومی اسمبلی کے سوالات کے اجلاس کے دوران وزیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چودھری نے اراکین کو حیران کرتے ہوئے تصدیق کی کہ وفاقی حکومت اب گندم کی قیمتیں مقرر نہیں کر رہی جس کے نتیجے میں کسان اوپن مارکیٹ کے رحم و کرم پر چھوڑ دیے گئے ہیں۔
گندم کو اب مکمل طور پر مارکیٹ کے حوالے کر دیا گیا ہے اور پاسکو کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، اس اقدام پر حکومتی اور اپوزیشن ارکان نے سخت تنقید کی ہے اور خبردار کیا ہے کہ اس سے کسان مڈل مین اور عالمی اناج کارٹلز کے رحم و کرم پر چھوڑ دیے جائیں گے جو ان سے ناجائز فائدہ اٹھائیں گے۔
طارق فضل چودھری نے کہا کہ جب حکومت گندم خرید نہیں رہی تو پاسکو کا کوئی مطلب نہیں رہتا۔ اسے ختم کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایت پر ایک کمیٹی اور مشیر مقرر کیے گئے ہیں تاکہ اس ادارے کے اثاثے منصفانہ اور شفاف طریقے سے’ طے کیے جائیں۔
تاہم، اپوزیشن اراکین کے ساتھ حکومت کے اپنے اتحادی خاص طور پر پی پی پی نے اس بیان کو قبول نہیں کیا اور پاسکو کی بندش کی شدید مخالفت کرتے ہوئے خبردار کیا کہ اس فیصلے سے گندم کے کارٹلز کو بڑھوا ملے گا اور کسانوں کو شدید نقصان پہنچے گا۔
پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے رہنما اعجاز حسین جھاکرانی نے کہا کہ یہ آزادانہ پالیسی تباہی کی نوید ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاسکو کو بند کرنے سے ہمارے کسان متاثر ہوں گے۔ انہیں اوپن مارکیٹ میں منصفانہ نرخ نہیں ملیں گے، ہمیں ان کی حمایت کے لیے واضح اور مؤثر نظام کی ضرورت ہے۔
پی پی پی کی حنا ربانی کھر جو خود پنجاب کے شیخوپورہ کے جاگیردار کسان خاندان سے تعلق رکھتی ہیں نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ حکومت یورپی کسانوں کو گندم کی درآمد کے ذریعے ریلیف دے رہی ہے جب کہ ہمارے اپنے ملکی کاشتکاروں کو نظر انداز کر دیا گیا ہے۔ واضح ہے کہ اس حکومت کے پاس کسانوں کے لیے کوئی ٹھوس اور مربوط حکمت عملی موجود نہیں ہے۔
وزیر خوراک کے نمائندے ڈاکٹر چودھری نے بحث کو کم کرنے کی کوشش میں ٹھوس اعداد و شمار پیش کیے اور غصے میں بھرے اراکین کو بار بار یقین دلایا کہ پاسکو کو ختم کرنے کا فیصلہ بالآخر کسانوں کے فائدے میں ہوگا۔
انہوں نے بتایا کہ سال 2023-24 میں ایک ایکڑ گندم کی کاشت کا خرچہ حیرت انگیز طور پر 114,809 روپے تک پہنچ گیا، جبکہ سرکاری امدادی قیمت صرف 40 کلوگرام کے لیے 2,300 سے 2,400 روپے کے درمیان رہی، جو کہ کسانوں کی بقا کے لیے انتہائی ناکافی ہے۔
یہ قیمت نہ صرف غیر منصفانہ تھی بلکہ ناقابل برداشت بھی تھی۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ اسی لیے حکومت نے پیچھے ہٹ کر مارکیٹ کو عمل میں آنے دیا تاکہ کسانوں کو بہتر قیمتیں مل سکیں۔’
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ آئندہ سال کے لیے گندم کی ایک نئی پالیسی تیار کی جا رہی ہے جس کا مقصد فصل کی فراہمی کے سلسلے میں نجی سرمایہ کاری کو فروغ دینا ہے، تاہم یہ دیکھنا باقی ہے کہ آیا یہ پالیسی چھوٹے کسانوں کو قیمتوں کے اتار چڑھاؤ سے بچا پائے گی یا نہیں۔
پاکستان تحریک انصاف کے سابق بریگیڈیئر اور سیالکوٹ سے تعلق رکھنے والے سیاستدان اسلم گمن نے خبردار کیا کہ پاسکو کو ختم کرنے سے گندم کے کارٹلز کو مارکیٹ پر قبضہ کرنے کا موقع مل سکتا ہے۔
’پاسکو اربوں روپے کی خریداری کا انتظام کرتا ہے۔ اسے بغیر مکمل اور سخت نگرانی کے بند کرنا فراہمی میں خلل ڈالے گا اور چالاک عناصر موقع پر قابض ہو جائیں گے،
اسی دوران، وزیر آبی وسائل معین وٹو نے اعلان کیا کہ نیلم جہلم ہائیڈرو پاور منصوبے کی بحالی کا کام جلد شروع کر دیا جائے گا، جب اس کے منہدم شدہ سرنگوں کی حتمی تحقیقات مکمل ہو جائیں گی۔ انہوں نے وعدہ کیا کہ یہ مرمت دو سال کے اندر مکمل کر لی جائے گی۔
وزیر ہاؤسنگ اینڈ ورکس ریاض حسین پیرزادہ نے دعویٰ کیا کہ ہاؤسنگ اسکیموں کو تیز رفتاری سے آگے بڑھایا جا رہا ہے اور اب عوامی و نجی شراکت داری اس عمل کو تقویت دے رہی ہے۔
وزیر مملکت برائے قومی صحت خدمات مختار احمد ملک نے بھی کہا کہ ملک میں دوا کی کوئی قلت نہیں ہے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025


Comments
Comments are closed.