BR100 Decreased By (-0.08%)
BR30 Increased By (0.08%)
KSE100 Decreased By (-0.11%)
KSE30 Decreased By (-0.2%)
BAFL 57.72 Decreased By ▼ -0.44 (-0.76%)
BIPL 27.23 No Change ▼ 0.00 (0%)
BOP 34.58 Increased By ▲ 0.18 (0.52%)
CNERGY 13.68 Increased By ▲ 0.57 (4.35%)
DFML 18.42 Increased By ▲ 0.02 (0.11%)
DGKC 215.81 Increased By ▲ 2.15 (1.01%)
FABL 99.27 Decreased By ▼ -0.29 (-0.29%)
FCCL 57.55 Decreased By ▼ -0.51 (-0.88%)
FFL 16.50 Increased By ▲ 0.27 (1.66%)
GGL 24.00 Increased By ▲ 0.02 (0.08%)
HBL 334.31 Decreased By ▼ -3.85 (-1.14%)
HUBC 212.96 Decreased By ▼ -0.40 (-0.19%)
HUMNL 10.51 Decreased By ▼ -0.07 (-0.66%)
KEL 7.36 Decreased By ▼ -0.07 (-0.94%)
LOTCHEM 27.51 Decreased By ▼ -0.16 (-0.58%)
MLCF 101.93 Decreased By ▼ -0.82 (-0.8%)
OGDC 318.48 Decreased By ▼ -0.44 (-0.14%)
PAEL 42.86 Decreased By ▼ -0.24 (-0.56%)
PIBTL 16.72 Increased By ▲ 0.09 (0.54%)
PIOC 274.51 Increased By ▲ 1.51 (0.55%)
PPL 230.62 Increased By ▲ 1.17 (0.51%)
PRL 76.73 Increased By ▲ 5.93 (8.38%)
SNGP 102.23 Decreased By ▼ -2.35 (-2.25%)
SSGC 27.10 Decreased By ▼ -0.31 (-1.13%)
TELE 8.56 Increased By ▲ 0.03 (0.35%)
TPLP 15.45 Decreased By ▼ -0.31 (-1.97%)
TRG 60.09 Decreased By ▼ -0.20 (-0.33%)
UNITY 11.47 Decreased By ▼ -0.25 (-2.13%)
WTL 1.21 Increased By ▲ 0.01 (0.83%)
پاکستان

حکومت نے درآمدی ڈیوٹیوں کے مرحلہ وار خاتمے کی منظوری دیدی

سرمایہ کاری کے فروغ اور برآمدات میں اضافہ کے لیے وفاقی حکومت نے جمعہ کو درآمدی ڈیوٹیوں میں نمایاں کمی کا فیصلہ کیا...
شائع اپ ڈیٹ

وفاقی حکومت نے درآمدی ڈیوٹیوں میں نمایاں کمی کا فیصلہ کیا ہے جس کے تحت اضافی کسٹمز ڈیوٹی (اے سی ڈی) اور ریگولیٹری ڈیوٹی (آر ڈی) کو مرحلہ وار ختم کیا جائے گا، یہ اقدام سرمایہ کاری کے فروغ اور برآمدات میں اضافے کے لیے کیا گیا ہے۔

وزیرِ اعظم آفس (پی ایم او) سے جاری بیان کے مطابق وزیرِاعظم شہباز شریف نے معیشت کو سہارا دینے کیلئے ایک جرات مندانہ قدم اٹھاتے ہوئے نئی جامع ٹیرف پالیسی کا اعلان کیا ہے جس کے تحت آئندہ چار سے 5 برسوں میں اضافی کسٹمز ڈیوٹی جو اس وقت 2 فیصد سے 7 فیصد تک ہے اور ریگولیٹری ڈیوٹی جو 5 سے 90 فیصد تک عائد ہے کو ختم کردیا جائے۔

علاوہ ازیں وزیرِ اعظم نے کسٹمز ڈیوٹی (سی ڈی) کو زیادہ سے زیادہ 15 فیصد تک محدود کرنے کی تجویز کی بھی منظوری دے دی ہے حالانکہ اس وقت بعض اشیاء پر سی ڈی کی شرح 100 فیصد سے بھی تجاوز کرجاتی ہے۔

دریں اثنا کسٹمز ڈیوٹی کی شرح (سی ڈی سلیبز) کی تعداد کم کرکے 4 کر دی گئی ہے، جس کے بارے میں حکومت کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے درآمدات سے متعلق قانونی پیچیدگیاں نمایاں طور پر کم ہوں گی اور مختلف صنعتوں کے لیے مساوی مواقع یقینی بنائے جا سکیں گے۔

یہ پیش رفت وزیراعظم آفس میں منعقدہ نیشنل ٹیرف پالیسی سے متعلق ایک اہم اجلاس کے دوران سامنے آئی۔

اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت مضبوط معیشت کے قیام، روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور مہنگائی کے مکمل اور دیرپا خاتمے کے لیے ہر ممکن کوشش کرے گی۔

وزیراعظم نے کہا کہ بنیادی اقتصادی اصلاحات کے لیے جامع منصوبہ وسیع مشاورت کے بعد مرتب کرلی گئی ہے۔

اس اقتصادی بحالی کے ایجنڈے کے تحت وزیراعظم نے درآمدی محصولات میں تدریجی کمی کی منظوری دی ہے۔

یہ اقدام معیشت کی بہتری کی جانب ایک اہم سنگِ میل سمجھا جا رہا ہے اور برآمدات کی بنیاد پر ترقی کا راستہ ہموار کرے گا۔

یہ فیصلہ بے روزگاری کو کم کرنے اور مہنگائی کو قابو میں لانے میں مددگار ثابت ہوگا، اس کے علاوہ، اس سے بین الاقوامی سرمایہ کاری میں اضافہ متوقع ہے جو نئی روزگار کے مواقع پیدا کرے گا۔

وزیراعظم آفس کے مطابق اس فیصلے سے غیر ملکی سرمایہ کاری کے مواقع بڑھیں گے اور ملکی صنعتوں کو خام مال، درمیانی مصنوعات اور سرمایہ کاری کے آلات تک آسان اور سستی رسائی حاصل ہوگی۔

اجلاس کے دوران وزیراعظم نے تجویز کے تمام پہلوؤں کا تفصیل سے جائزہ لیا۔ انہوں نے زور دیا کہ ٹیکسز میں کمی نہ صرف کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کو مستحکم کرے گی بلکہ کسٹمز ڈیوٹیوں سے حاصل ہونے والی موجودہ آمدنی سے زیادہ محصولات بھی جمع کرنے میں مدد دے گی۔

وزیراعظم شہباز شریف نے عمل درآمد کے لیے ایک کمیٹی بھی تشکیل دی۔

اجلاس میں وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان، وفاقی وزیر برائے اقتصادی امور احسن اقبال، وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، وفاقی وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک، وزیراعظم کے خصوصی معاون ہارون اختر، اور متعلقہ محکموں کے اعلیٰ حکام بھی شریک تھے۔

Comments

Comments are closed.