خام تیل کی قیمتوں میں جمعہ کو معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا، واضح رہے کہ تیل کی قیمتوں میں گزشتہ سیشن میں نمایاں کمی دیکھی گئی تھی۔ ہفتہ بھر میں قیمتوں میں 1 فیصد سے زائد کا ممکنہ فائدہ متوقع ہے، کیونکہ امریکہ اور چین کے درمیان تجارتی بہتری کی امیدوں نے ایرانی تیل کی ممکنہ سپلائی کی واپسی کے خدشات کو پس منظر میں دھکیل دیا ہے۔
برینٹ کروڈ فیوچرز 17 سینٹ یعنی 0.26 فیصد اضافے کے ساتھ 64.70 ڈالر فی بیرل پر آگیا،امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ کروڈ فیوچرز بھی 18 سینٹ یا 0.29 فیصد بڑھ کر 61.80 ڈالر پر پہنچ گئے۔
گزشتہ سیشن میں قیمتیں دو فیصد سے زیادہ گراوٹ کا شکار ہوئیں، جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ ایران کے ساتھ جوہری معاہدے کے قریب پہنچ چکا ہے اور تہران نے ”جزوی طور پر“ شرائط قبول کر لی ہیں۔ تاہم، مذاکرات سے واقف ایک معتبر ذرائع نے بتایا کہ اب بھی کئی اہم اختلافات باقی ہیں جنہیں حل کرنا باقی ہے۔
ہفتے کے آغاز میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا تھا جب دنیا کے دو سب سے بڑے تیل صارف اور معیشتیں، امریکہ اور چین، نے اپنی تجارتی جنگ کو 90 دن کے لیے معطل کرنے پر اتفاق کیا، جس دوران دونوں فریقین نے تجارتی محصولات میں بڑی کمی کا اعلان کیا۔
امریکہ اور چین کے سنگین تجارتی محصولات کے باہمی تبادلے نے عالمی معیشت کی سست روی اور تیل کی طلب میں شدید کمی کے خدشات کو جنم دیا تھا۔
تیل کی تجارت بنیادی طور پر سپلائی کی صورتحال سے متاثر ہوتی ہے، خاص طور پر اگر واشنگٹن اور تہران کے درمیان کوئی معاہدہ ہوتا ہے تو اس کے نتیجے میں ایرانی تیل دوبارہ مارکیٹ میں آ سکتا ہے، جو قیمتوں کو نمایاں طور پر بدل سکتا ہے۔
اے این زیڈ بینک نے اپنے کلائنٹس کو بھیجے گئے نوٹ میں کہا کہ جیوپولیٹیکل خطرات میں کمی نے مارکیٹ کے جذبات پر اثر ڈالا ہے جو پہلے ہی اوپیک کے دیگر ارکان کی جانب سے سپلائی میں اضافے کے خدشات کی وجہ سے دباؤ میں تھے۔
بین الاقوامی انرجی ایجنسی نے جمعرات کو کہا کہ وہ توقع کرتی ہے کہ اس سال عالمی تیل کی سپلائی روزانہ 1.6 ملین بیرل بڑھ جائے گی، جو پچھلے اندازے سے 380,000 بیرل روزانہ زیادہ ہے، کیونکہ سعودی عرب اور دیگر اوپیک پلس اراکین اپنی پیداوار میں کمی کو ختم کر رہے ہیں۔


Comments
Comments are closed.