بجلی کے شعبے کے گردشی قرضے پر کسی حد تک قابو پانے کے بعد اب گیس کا گردشی قرضہ ایک بڑا دردِ سر بنتا جا رہا ہے، جو رواں مالی سال کے ابتدائی سات مہینوں میں مبینہ طور پر تقریباً 500 ارب روپے بڑھ چکا ہے۔ صورتحال اس وقت مزید بگڑ گئی جب فروری میں سب سے قابلِ بھروسہ اور بروقت ادائیگی کرنے والے صارفین — یعنی کیپٹو پاور پلانٹس — کے لیے گیس کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ کیا گیا۔
قومی گرڈ کے ذریعے بجلی کی کھپت بڑھانے کے لیے حکومت نے آئی ایم ایف کو قائل کیا کہ کیپٹو پاور صارفین کے لیے گیس کے نرخ بڑھائے جائیں۔ اس کے جواب میں نہ صرف ٹیرف میں اضافہ کیا گیا بلکہ ایک بھاری لیوی بھی عائد کر دی گئی۔ نتیجتاً، کیپٹو صارفین تیزی سے گیس کے استعمال سے کنارہ کشی اختیار کر رہے ہیں۔
گیس پہلے ہی اضافی مقدار میں موجود تھی، جبکہ حکومت قطر سے ہر ماہ اوسطاً 10 ایل این جی کارگو (یعنی 1,000 ایم ایم سی ایف ڈی) درآمد کرنے کے معاہدے کی پابند ہے۔ ان میں سے 9 سے 9.3 کارگو سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ (ایس این جی پی ایل) کو، جبکہ 0.7 سے 1 کارگو سوئی سدرن گیس کمپنی (ایس ایس جی سی) کو دیے جاتے ہیں۔
دونوں کمپنیوں کے حکام کے مطابق، ٹیرف اور لیوی کے نفاذ کے بعد کیپٹو پلانٹس کی گیس کھپت میں نمایاں کمی آئی ہے — جو 340 ایم ایم سی ایف ڈی سے گھٹ کر 160 ایم ایم سی ایف ڈی ہو گئی ہے۔ ایس این جی پی ایل کی کھپت 160 سے کم ہو کر 60 ایم ایم سی ایف ڈی پر آ گئی ہے، جبکہ ایس ایس جی سی کی کھپت 180 سے 100 ایم ایم سی ایف ڈی رہ گئی ہے۔
کیپٹو صارفین طویل عرصے سے ایک منافع بخش ذریعہ تھے، جو دیگر گیس صارفین کو کراس سبسڈی فراہم کرتے تھے۔ اب ان کے سسٹم سے اخراج کے باعث گیس کا گردشی قرضہ تیزی سے بڑھنے کی توقع ہے۔ صورتحال اس وقت مزید بگڑ سکتی ہے اگر وہ کیپٹو صارفین، جنہوں نے اس لیوی کے خلاف عدالت سے حکمِ امتناع حاصل کر رکھا ہے، وہ احکامات ختم ہو جائیں۔ ایس این جی پی ایل کے مطابق، ان کی کیپٹو کھپت مزید گھٹ کر محض 15 سے 20 ایم ایم سی ایف ڈی تک جا سکتی ہے۔ ایس ایس جی سی میں بھی حالات اتنے ہی نازک ہیں، جہاں ایک تہائی صنعتی صارفین حکمِ امتناع کے تحت ہیں۔
ایس این جی پی ایل اتنی بڑی مقدار میں گیس سنبھالنے کی صلاحیت نہیں رکھتی، کیونکہ تقریباً تمام ایل این جی اسی کے نیٹ ورک سے گزرتی ہے۔ مانگ میں کمی کے باعث مقامی گیس کی پیداوار کو محدود کیا جا رہا ہے — شمالی نیٹ ورک میں تقریباً 50 فیصد گیس بند کی جا چکی ہے۔ سستی ملکی گیس کی فراہمی کم ہو رہی ہے اور سب سے زیادہ ادائیگی کرنے والے صارفین سسٹم سے نکل رہے ہیں۔ ایک چھٹی جماعت کا طالب علم بھی سمجھ سکتا ہے کہ اس کا نتیجہ صرف مزید نقصان اور گردشی قرضے میں اضافے کی صورت میں نکلے گا۔
ایک سینئر ایس این جی پی ایل افسر نے کہا کہ ہماری پائپ لائنوں میں گیس کا دباؤ خطرناک حد تک بڑھ چکا ہے، جس سے دھماکے کا خطرہ لاحق ہے — سسٹم میں موجود گیس پر قابو پانا ممکن نہیں رہا،انہوں نے مزید بتایا کہ ہمارے پاس آئندہ پانچ سالوں کے لیے 200 زائد آر ایل این جی کارگو پہلے سے شیڈیول ہیں، جن کی موجودہ قیمتوں پر مالیت 7 ارب ڈالر بنتی ہے۔
زیادہ تشویش ناک بات یہ ہے کہ کیپٹو پاور پلانٹس کے نرخوں میں تبدیلی سے پہلے ہی گیس کی اضافی فراہمی ایک مسئلہ بن چکی تھی — اور اب ہر ماہ دو اضافی کارگو بھی غیر ضروری ہو چکے ہیں۔ اس کے باوجود حکومت نے نرخوں میں اضافہ کر دیا، اور لیوی کا حساب طلب کی بلند ترین سطح کو بنیاد بنا کر لگایا۔
اس اقدام کا مقصد یہ تھا کہ گرڈ سے بجلی کو زیادہ پرکشش بنایا جائے، اور لیوی کے ذریعے حاصل ہونے والی رقم سے بجلی کے نرخوں کو سبسڈی دی جائے تاکہ کیپٹو صارفین گرڈ کی طرف منتقل ہوں۔ لیکن سب صارفین ایسا نہیں کر رہے۔ شمالی صنعتی صارفین گرڈ کی ناقابلِ بھروسہ فراہمی کا حوالہ دیتے ہوئے متبادل ذرائع کی طرف جا رہے ہیں۔ جنوبی علاقوں میں کاروباروں کے لیے کراچی الیکٹرک کے نیٹ ورک سے منسلک ہونے کی بھاری لاگت ہے — اور وہ بھی متبادل کی تلاش میں ہیں۔
کچھ بھی مؤثر ثابت نہیں ہو رہا۔ ایک ٹاسک فورس تشکیل دی گئی ہے اور یہ معاملہ اب سینیٹ کی اسٹینڈنگ کمیٹی کے سپرد ہے۔ حکومت کو فوری طور پر اپنی اس پالیسی پر نظرِ ثانی کرنی چاہیے جس کے تحت کیپٹو پاور صارفین کو نرخوں کے ذریعے قومی گرڈ کی طرف دھکیلا جا رہا ہے۔ فی الحال، یہ حکمتِ عملی مسائل حل کرنے کے بجائے خود ایک بڑا مسئلہ بن رہی ہے۔ اگر ایسی منتقلی واقعی مطلوب ہے، تو حکومت کو سب سے پہلے قطر کے ساتھ ’خریدنے کی لازمی شرط‘ پر دوبارہ مذاکرات کرنے چاہئیں، اور دو کے بجائے ایک ایل این جی ٹرمینل سے درآمدات کو مرکوز کرنے پر غور کرنا چاہیے۔


Comments
Comments are closed.