پاکستان نے اپنے ایٹمی ہتھیاروں سے متعلق بھارتی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کے بیان کی شدید مذمت کی ہے جو انہوں نے اپنے دورہ مقبوضہ کشمیر کے دوران دیا تھا۔ دفتر خارجہ نے جمعرات کو بھارتی وزیر دفاع کے بیان کو غیر ذمہ دارانہ قرار دیا اور کہا کہ اس سے پاکستان کی دفاعی صلاحیتوں سے متعلق نئی دہلی کا اضطراب اور مایوسی ظاہر ہوتی ہے۔
دفتر خارجہ کے بیان کے مطابق، یہ ریمارکس بھارت کی خود ساختہ ’جوہری بلیک میلنگ‘ کی ذہنیت کو ظاہر کرتے ہیں جس کا پاکستان نے مؤثر طور پر روایتی دفاعی صلاحیتوں کے ذریعے مقابلہ کیا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ بھارت کی خود ساختہ ایٹمی بلیک میلنگ، جس کا وہ خود شکار ہے، کے بغیر بھی پاکستان کی روایتی دفاعی صلاحیتیں بھارت کو روکنے کیلئے کافی ہیں۔
دفتر خارجہ نے بھارتی وزیر پر انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے مینڈیٹ کے بارے میں ”نری جہالت“ کا الزام بھی عائد کیا اور اس بات زور دیا کہ اقوام متحدہ کا جوہری نگران ادارہ—اور عالمی برادری—کو جوہری سلامتی کی خلاف ورزیوں کے بھارتی ریکارڈ پر تشویش ہونی چاہیے۔
پاکستان نے بھارت میں جوہری اور تابکار مواد کی چوری اور غیر قانونی اسمگلنگ کے متعدد واقعات کو اجاگر کیا اور اس بات پر سنجیدہ خدشات کا اظہار کیا کہ نئی دہلی اپنے جوہری اثاثوں کی حفاظت کرنے کی اہلیت رکھتا بھی ہے یا نہیں۔
بیان کے مطابق صرف گزشتہ برس بھارت کے شہر دہرادون میں پانچ افراد کو ایک ریڈیوایکٹیو آلہ کے ساتھ گرفتار کیا گیا تھا جو مبینہ طور پر بھابھا ایٹومک ریسرچ سینٹر سے چوری کیا گیا تھا۔
بیان میں مزید کہا گیا ایک اور واقعے میں، ایک گروہ کو کیلیفورنیم نامی خطرناک اور تابکار مادہ، جس کی قیمت 10 کروڑ ڈالر تھی، غیر قانونی طور پر رکھنے پر گرفتار کیا گیا۔
دفتر خارجہ نے نشاندہی کی کہ صرف 2021 میں کیلیفورنیم کی چوری کے تین واقعات رپورٹ ہوئے تھے۔
پاکستان نے بھارت میں جوہری تحفظ کی سنگین خامیوں پر گہری تشویش ظاہر کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ ان معاملات کی ”مکمل اور شفاف تحقیقات“ کی جائیں جبکہ نئی دہلی کو فوری اقدامات کرنے کی ضرورت ہے تاکہ اپنے جوہری اثاثوں اور تنصیبات کو محفوظ بنایا جا سکے۔


Comments
Comments are closed.