انٹربینک مارکیٹ میں جمعرات کو ڈالر کے مقابلے روپے کی قدر میں 0.04 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ۔
کاروبار کے اختتام پر ڈالر کے مقابلے روپیہ 11 پیسے کی بہتری سے281.61 روپے کا ہوگیا۔
یاد رہے کہ بدھ کو روپیہ 281.72 کی سطح پر بند ہوا تھا۔
بین الاقوامی سطح پر جمعرات کو امریکی ڈالر کمزور رہا جس کی وجہ ایک متحرک ہفتے میں امریکہ اور چین کے درمیان محصولات کے عارضی معاہدے کی خبریں تھیں، اس کے علاوہ تجزیہ کاروں کے خیال میں واشنگٹن کچھ تجارتی معاہدوں کے تحت ڈالر کو کمزور رکھنے کی کوشش کررہا ہے جس کی بدولت جنوبی کوریا کے وون کی قدر میں مزید اضافہ ہوا۔
ایشیائی کرنسی پھر سے غیر مستحکم رہی کیونکہ سرمایہ کاروں نے اس خبر کا تجزیہ کیا کہ جنوبی کوریا اور امریکہ کے حکام نے گزشتہ ہفتے ڈالر/وون کے تبادلہ شرح پر مذاکرات کیے۔
اس سے قیاس آرائیاں پیدا ہوئیں کہ واشنگٹن تجارتی مذاکرات کے دوران ایشیائی ممالک کے ساتھ ڈالر کو کمزور رکھنے کا خواہاں ہے، حالانکہ بلومبرگ کی ایک رپورٹ نے اس بات کو کم اہمیت دی ہے۔
تاہم، امریکی انتظامیہ کی ڈالر پالیسی کے حوالے سے خدشات سرمایہ کاروں کو محتاط رکھیں گے اور مستقبل میں ایشیائی کرنسیوں کو سہارا دیں گے۔
وون کی قدر ڈالر کے مقابلے میں 0.8 فیصد اضافے کے ساتھ 1,396.22 پر پہنچ گئی جو پچھلے سیشن میں 0.6 فیصد کے اضافے کے بعد ہے۔ وون گزشتہ سال ابھرتی ہوئی ایشیائی کرنسیوں میں سب سے کمزور رہی جس نے ڈالر کے مقابلے میں 14 فیصد کی کمی دیکھی تاہم اس سال تقریباً 6 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
ڈالر میں اچانک اتار چڑھاؤ مئی کے شروع میں تائیوان کی کرنسی میں ہونے والے دو روزہ زبردست اضافے کی یاد دلاتا ہے، جب کہ اس کا اختتام بھی واشنگٹن میں امریکی-تائیوان تجارتی مذاکرات کے ساتھ ہوا تھا۔
ڈالر انڈیکس 0.11 فیصد کمی کے ساتھ 100.89 پر بند ہوا تاہم یہ چوتھے مسلسل ہفتے منافع میں رہنے کے راستے پر ہے۔
جمعرات کو سرمایہ کاروں کی توجہ ریٹیل سیلز کے اعداد و شمار پر مرکوز ہوگی جبکہ وہ امریکہ اور چین کے درمیان کشیدگی میں کمی کے بعد ممکنہ تجارتی معاہدوں کی مزید تفصیلات کے منتظر رہیں گے۔
دونوں ممالک نے پیر کو اعلان کیا کہ وہ یکم اپریل سے ایک دوسرے کی مصنوعات پر عائد زیادہ تر محصولات کو 90 دن کے لیے معطل کررہے ہیں جس کے نتیجے میں مارکیٹ میں عارضی سکون کا رجحان دیکھا گیا۔


Comments
Comments are closed.