اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے بدھ کے روز منعقدہ ٹریژری بلز (ٹی بلز) کی نیلامی میں قلیل مدتی حکومتی سیکیورٹیز پر منافع کی شرح میں 90 بیسس پوائنٹس تک نمایاں کمی دیکھی گئی، جو حالیہ مانیٹری پالیسی میں نرمی کے بعد مارکیٹ کے ردِعمل کی عکاسی کرتی ہے۔
14 مئی 2025 کو وفاقی حکومت کی جانب سے اسٹیٹ بینک نے پرائمری ڈیلرز کے ذریعے 1 ماہ، 3 ماہ، 6 ماہ اور 12 ماہ کے مدت کے حکومتی ٹریژری بلز (ایم ٹی بیز) کی نیلامی کے لیے ٹینڈرز طلب کیے، جن کی ادائیگی 15 مئی 2025 کو ہونا تھی۔
اس نیلامی میں پرائمری ڈیلرز نے بھرپور دلچسپی کا مظاہرہ کیا، اور مجموعی بولیوں کا حجم 1.987 ٹریلین روپے تک جا پہنچا۔ سب سے زیادہ دلچسپی 1 ماہ کے ٹی بلز میں دیکھی گئی جن کے لیے 667.6 ارب روپے کی بولیاں موصول ہوئیں۔ دیگر دورانیے کے بلز میں 3 ماہ کے لیے 453.55 ارب روپے، 6 ماہ کے لیے 225.15 ارب روپے، اور 12 ماہ کے لیے 641.6 ارب روپے کی بولیاں دی گئیں۔
وفاقی حکومت نے مجموعی طور پر 664 ارب روپے کی بولیاں قبول کیں، جن میں 102 ارب روپے کی نان-کمپیٹیٹو بولیاں شامل ہیں۔ اگرچہ یہ رقم 550 ارب روپے کے نیلامی ہدف سے زیادہ ہے، مگر 716 ارب روپے کی میچور ہونے والی رقم سے کم رہی۔
مختلف مدت کے ٹی بلز پر کٹ آف منافع کی شرح میں 66 سے 90 بیسس پوائنٹس تک کمی واقع ہوئی۔ اب 1 ماہ کے ٹی بل پر منافع 11.25 فیصد، 3 ماہ پر 11.24 فیصد، 6 ماہ پر 11.28 فیصد، اور 12 ماہ کے ٹی بل پر منافع 11.35 فیصد مقرر کیا گیا ہے۔
منافع کی شرح میں اس کمی کی بنیادی وجہ رواں ماہ مانیٹری پالیسی کمیٹی کی جانب سے پالیسی ریٹ میں 100 بیسس پوائنٹس کی کمی ہے۔ اس فیصلے سے سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ ہوا ہے اور مارکیٹ میں مزید شرح سود میں کمی کی توقعات مضبوط ہوئی ہیں۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025


Comments
Comments are closed.