مورگن اسٹینلے کیپیٹل انٹرنیشنل (ایم ایس سی آئی) انکارپوریٹڈ.، جو کہ سرمایہ کاری سے متعلق اہم فیصلہ سازی میں معاونت فراہم کرنے والا عالمی شہرت یافتہ ادارہ ہے، نے مئی 2025 کے انڈیکس جائزے کے تحت اپنی فرنٹیئر مارکیٹ (ایف ایم) اور ایف ایم اسمال کیپ انڈیکس میں پاکستان کی تین اور چار کمپنیوں کو شامل کرنے کا اعلان کیا ہے۔
دریں اثنا تین پاکستانی کمپنیوں کو ایف ایم اسمال کیپ انڈیکس سے خارج کر دیا گیا ہے۔
ایم ایس سی آئی کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق، ایم ایس سی آئی فرنٹیئر مارکیٹس انڈیکسز میں تین پاکستانی کمپنیوں کو شامل کیا گیا ہے۔ ان کمپنیوں میں فوجی سیمنٹ کمپنی، ڈی جی خان سیمنٹ کمپنی، اور میپل لیف سیمنٹ شامل ہیں۔ یہ تبدیلیاں 30 مئی 2025 کے اختتام سے مؤثر ہوں گی۔
ٹاپ لائن سیکیورٹیز نے اپنی تجزیاتی رپورٹ میں کہا کہ ان تین سیمنٹ کمپنیوں کی شمولیت سے ایم ایس سی آئی فرنٹیئر انڈیکس میں پاکستانی کمپنیوں کی کل تعداد 23 سے بڑھ کر 26 ہو گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق ٹاپ لائن نے مزید کہا کہ تین سیمنٹ کمپنیوں کی شمولیت 26 بیسس پوائنٹس وزن کی نمائندگی کرتی ہے۔ اگر دنیا بھر میں فرنٹیئر مارکیٹ انڈیکس سے منسلک فنڈز کا حجم 2 سے 3 ارب ڈالر کے درمیان فرض کیا جائے، تو ان کمپنیوں میں متوقع سرمایہ کاری کا تخمینہ 50 سے 80 لاکھ ڈالر کے درمیان لگایا جا رہا ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی واضح کیا گیا کہ فرنٹیئر مارکیٹ اسٹاکس کے انتخاب کے لیے کم از کم فری فلوٹ کی حد 7.8 کروڑ ڈالر اور کل مارکیٹ کیپ کی حد 15.5 کروڑ ڈالر مقرر ہے۔
ٹاپ لائن کے مطابق، انٹرلوپ، سیئرل لمیٹڈ اور ایبٹ لیبارٹریز ان حدود پر پورا نہ اترنے کے باوجود ”بفر رول“ کے تحت انڈیکس میں برقرار رکھے گئے ہیں۔
دریں اثنا، چار پاکستانی سیکیورٹیز کو ایم ایس سی آئی فرنٹیئر مارکیٹس اسمال کیپ انڈیکسز میں شامل کیا گیا ہے، جن میں آرکروما پاکستان، التحور، اینگرو پالیمر اینڈ کیمیکلز اور پاکستان ری انشورنس شامل ہیں۔
جبکہ ڈی جی خان سیمنٹ کو اسمال کیپ سے مرکزی انڈیکس میں منتقل کر دیا گیا ہے، اور دو کمپنیوں—اے جی پی فارما اور ایگری ٹیک لمیٹڈ—کو فہرست سے خارج کر دیا گیا ہے۔
یاد رہے کہ ستمبر 2021 میں پاکستان کو ابھرتی ہوئی مارکیٹ (امرجنگ مارکیٹ ) کے درجے سے واپس فرنٹیئر مارکیٹ میں شامل کر دیا گیا تھا، جب کہ اسے چار سال قبل ایف ایم انڈیکس سے ای ایم میں ترقی دی گئی تھی۔


Comments
Comments are closed.