وزیراعظم شہباز شریف نے منگل کو ٹیکس چوری کے خلاف بھرپور کارروائی کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ نہ صرف انفرادی افراد اور شعبوں کو ٹیکس سے بچنے پر سخت احتساب کا سامنا کرنا پڑیگا بلکہ حکومتی افسران کو بھی جوابدہ ٹھہرایا جائے گا جو ان کی معاونت کرتے ہیں۔
فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی کارکردگی کا جائزہ لینے کے لیے اعلیٰ سطح کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ ٹیکس بیس کو وسیع کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔
انہوں نے حکام کو ہدایت کی کہ ٹیکس چوری کے خلاف جنگ کے لیے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کیا جائے اور خاص طور پر سیمنٹ کے شعبے میں جون تک ڈیجیٹل مانیٹرنگ سسٹمز کے نفاذ کو تیز کیا جائے۔
انہوں نے صوبائی حکومتوں سے کہا کہ وہ وفاقی حکام کے ساتھ قریبی ہم آہنگی میں کام کریں تاکہ تمباکو کی صنعت سے ٹیکس کی آمدنی کو بڑھایا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ وہ افراد اور شعبے جو ٹیکس ادا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں مگر نہیں کرتے، انہیں ٹیکس نیٹ میں شامل کرنا چاہیے۔ہمیں ٹیکس نیٹ کو وسعت دینی ہوگی تاکہ عام آدمی پر ٹیکس کی شرح کم کی جا سکے۔
شہباز شریف نے ٹیکس سے متعلق زیر التوا مقدمات کے جلد از جلد حل کی ضرورت پر زور دیا تاکہ عوامی فنڈز کی وصولی کو یقینی بنایا جا سکے، اور اپنی انتظامیہ کے عزم کا اعادہ کیا کہ مالیاتی شفافیت اور نفاذ کو مضبوط کیا جائے گا۔
ایف بی آر کی جاری اصلاحات کی تعریف کرتے ہوئے شہباز شریف نے اپنی اقتصادی ٹیم کی کوششوں کو سراہا اور اعتماد ظاہر کیا کہ اس مالی سال میں 10.6 فیصد جی ڈی پی کے برابر آمدنی کا ہدف حاصل کیا جائے گا۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ سیمنٹ کے کارخانوں میں ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے تعارف سے اضافی ٹیکس آمدنی میں اربوں روپے حاصل ہوئے ہیں۔
چینی کے شعبے میں بھی اسی طرح کے سسٹم نے نومبر 2024 سے اپریل 2025 کے درمیان آمدنی میں 35 فیصد اضافہ کیا ہے۔
شہباز شریف نے اقتصادی منظرنامے کو مستحکم اور بہتر قرار دیتے ہوئے کہا کہ حالیہ پالیسی اقدامات کی بدولت ترقی ہو رہی ہے۔ اللہ کے کرم سے قومی معیشت مستحکم ہے اور ترقی کی جانب بڑھ رہی ہے، انہوں نے تمام متعلقہ فریقوں سے قومی ترقی کے لیے اپنے فرائض کی تکمیل کی اپیل کی۔
اس اجلاس میں وفاقی وزرا اعظم نذیر تارڑ، محمد اورنگزیب، احسن اقبال، عطااللہ تارڑ کے علاوہ ایف بی آر کے چیئرمین اور اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025


Comments
Comments are closed.