بے نظیر انکم پروگرام کے ذریعے بجلی پر براہ راست سبسڈی، آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کو روڈ میپ پیش
باخبر ذرائع نے بزنس ریکارڈر کو بتایا کہ حکومت نے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کے مستحقین کو براہ راست بجلی سبسڈی فراہم کرنے کے لیے ایک روڈ میپ عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) اور ورلڈ بینک کو پیش کر دیا ہے۔
یہ اقدام توانائی کے شعبے میں وسیع تر اصلاحات کا حصہ ہے، جس کا مقصد غیر مؤثر بجلی کے استعمال میں کمی، نقصانات پر قابو پانا اور پاکستان کے ماحولیاتی اہداف کا حصول ہے۔ موجودہ سبسڈی نظام، جو عمومی ٹیرف فرق اور کراس سبسڈیز پر مبنی ہے، اس سے بجلی کا ضرورت سے زیادہ استعمال ہوا اور زیادہ فائدہ امیر طبقے کو پہنچا، جس سے شعبے کی مالی پائیداری متاثر ہوئی۔
یہ اصلاحاتی خاکہ وزیراعظم کی سماجی تحفظ ڈویژن (پی اے ایس ایس) کی سربراہی میں قائم کمیٹی نے تیار کیا، اور اس میں حائل رکاوٹوں کو دور کیا گیا۔ بجلی کی سبسڈی کا براہ راست منتقلی کا نظام آئی ایم ایف کے ریسیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فیسلٹی (آر ایس ایف) پروگرام کے تحت ایک اہم اصلاحاتی اقدام ہے۔
ذرائع کے مطابق پاور ڈویژن، بی آئی ایس پی اور وزارتِ خزانہ کے درمیان کئی اجلاسوں کے بعد اور ورلڈ بینک کے تعاون سے یہ ڈرافٹ روڈ میپ تیار کیا گیا، جسے حالیہ ملاقاتوں میں آئی ایم ایف کے ساتھ شیئر کیا گیا۔ نئے طے شدہ ٹائم لائنز کے تحت، مستحق صارفین کی شناخت اور تصدیق کا عمل 31 دسمبر 2025 تک مکمل کیا جائے گا، جبکہ جون 2026 تک اہلیت کے معیار کو حتمی شکل دی جائے گی۔ مالی سال 2027 کے بجٹ سے ٹیرف ڈیفرینشل سبسڈی (ٹی ڈی ایس) ختم کر دی جائے گی، اور صرف مستحق صارفین کے لیے براہ راست سبسڈی مختص کی جائے گی۔ اس نظام پر مکمل منتقلی کی آخری تاریخ جنوری 2027 مقرر کی گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق وزیر توانائی نے اس روڈ میپ کا ابتدائی جائزہ لیا ہے اور پاور پلاننگ اینڈ مینجمنٹ کمپنی (پی پی ایم سی) کو ہدایت دی ہے کہ وہ صارفین پر متوقع اثرات کا تجزیہ کرے، جس کی رپورٹ مئی 2025 کے وسط تک متوقع ہے۔ اس کے بعد یہ منصوبہ وزیر اعظم کو پیش کیا جائے گا اور پھر کابینہ سے منظوری لی جائے گی، جس کی توقع جون 2025 کے وسط تک کی جا رہی ہے۔
وزارت خزانہ کے ذرائع نے بتایا کہ حکومت نے آئی ایم ایف کو یقین دہانی کرائی ہے کہ بجلی اور گیس کی سبسڈیز کو بی آئی ایس پی سے منسلک کیا جائے گا، تاکہ صرف کم آمدنی والے گھرانے ہی اس سہولت سے مستفید ہو سکیں۔ گیس سبسڈی کے لیے بھی اسی طرز پر نظام متعارف کرانے پر غور ہو رہا ہے، جس کا تجزیہ جون 2026 تک مکمل کیا جائے گا۔
توانائی کی بچت کے فروغ کے لیے، حکومت پاکستان مختلف برقی آلات جیسے پنکھے، ایل ای ڈیز، ریفریجریٹرز، ایئر کنڈیشنرز اور موٹرز کے لیے ”مینیمم انرجی پرفارمنس اسٹینڈرڈز“ (ایم ای پی ایس) جون 2027 تک نافذ کرے گی۔
وفاقی اور صوبائی سطح پر ایم ای پی ایس پر عمل درآمد کو لازمی بنانے کے لیے نئی خریداری پالیسی دسمبر 2025 تک متعارف کرائی جائے گی۔ نیشنل انرجی ایفیشنسی اینڈ کنزرویشن اتھارٹی (این ای ای سی اے) دسمبر 2025 سے ایم ای پی ایس پر عمل درآمد کی سہ ماہی رپورٹنگ کا آغاز کرے گی۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025


Comments
Comments are closed.