بجٹ اسٹریٹیجک، طویل مدتی ترقی پر مرکوز ہوگا، وزیر خزانہ
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ حکومت آئندہ مالی سال 2025-26 کے وفاقی بجٹ کو ایک سٹریٹیجک دستاویز کے طور پر تیار کرنے کا ارادہ رکھتی ہے، جو مالیاتی ترجیحات کو پائیدار، برآمدات پر مبنی ترقی کے وسیع تر مقصد کے ساتھ ہم آہنگ کرے۔
وزیرخزانہ نے یہ ریمارکس پاکستان بزنس کونسل (پی بی سی) کے سابق چیئرمین شبیر دیوان کی قیادت میں ایک گروپ سے ملاقات کے دوران دیے جس کا اعلامیہ وزارت خزانہ کی جانب سے جاری کیا گیا۔
اعلامیہ کے مطابق یہ ملاقات حکومت کے کاروباری اور صنعتی برادری کے اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ جاری مشاورتی عمل کا حصہ تھی۔ وفاقی حکومت آئندہ مالی سال کا بجٹ 2 جون کو پیش کرے گی۔
ملاقات کے دوران محمد اورنگزیب نے کہا کہ برآمدات پر مبنی ترقی صرف حکومت کی ترجیح نہیں بلکہ پاکستان کی اقتصادی استحکام اور پائیداری کیلئے واحد قابل عمل راستہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ معیشت کے ہر شعبے کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا، اگر پاکستان بار بار کے معاشی اُتار چڑھاؤ سے نکلنا چاہتا ہے اور 25ویں آئی ایم ایف پروگرام میں جانے سے بچنا چاہتا ہے تو پیداواری صلاحیت میں اضافہ اور بیرونی سمت میں پالیسیوں کا اختیار کرنا ضروری ہے۔
انہوں نے ایک بار پھر کہا کہ موجودہ تحفظاتی نظام کو ختم کرنا ضروری ہے تاکہ مارکیٹ پر مبنی مقابلے کی فضا قائم کی جاسکے۔ غیر ضروری تحفظ کا دور ختم ہونا چاہیے۔ وزیراعظم اس تبدیلی کو آگے بڑھانے کیلئے ذاتی طور پر اجلاس کی صدارت کررہے ہیں۔
وفاقی وزیر نے مزید یہ بات واضح کی کہ ساختی رکاوٹوں کو حل کرنا - جیسے کہ بلند مالیاتی اخراجات، بلند توانائی ٹیرف اور پیچیدہ ٹیکس نظام - مقامی صنعت کو مقابلہ کرنے کے قابل بنانے اور ملک کو پیداواری اور برآمدات پر مبنی ترقی کی طرف لے جانے کے لیے انتہائی ضروری ہے۔
اس موقع پر حکومت کے ٹیرف ریٹینالائزیشن پروگرام پر بھی بات کی گئی جس کا مقصد کاروباری آپریشنز کو متاثر کرنے والی تضادات اور عدم ہم آہنگیوں کو دور کرنا ہے۔
ملاقات کے دوران شبیر دیوان نے حکومت کی کوششوں کا خیرمقدم کیا اور پالیسی کی تسلسل اور پیش گوئی کو بہتر بنانے کیلئے نجی شعبے کے نقطہ نظر کا اشتراک کیا۔
محمد اورنگزیب نے یقین دہانی کرائی کہ تمام اسٹیک ہولڈرز کی آراء کو آئندہ اصلاحات کے مرحلے کی تشکیل میں مدنظر رکھا جائے گا۔ انہوں نے پبلک پرائیویٹ تعاون کی اہمیت پر زور دیا تاکہ ایک مضبوط، پیداواری اور عالمی سطح پر مربوط اقتصادی فریم ورک تشکیل دیا جاسکے۔


Comments
Comments are closed.