ڈالر کے مقابلے روپے کی قدر میں کمی
انٹربینک مارکیٹ میں بدھ کو ڈالر کے مقابلے روپے کی قدر میں 0.04 فیصد کی کمی ریکارڈ کی گئی۔
کاروبار کے اختتام پر روپے کے مقابلے ڈالر 10 پسے کے اضافے سے 281.47 پر بند ہوا۔
یاد رہے کہ منگل کو روپیہ 281.37 پر بند ہوا تھا۔
عالمی سطح پر بدھ کو ڈالر مستحکم رہا کیونکہ فیڈرل ریزرو کا اجلاس ایک غیر یقینی معیشت کے لیے پالیسی طے کرنے کے لیے متوقع تھا، جبکہ ایشیا میں بڑے سرمایہ کار امریکی اثاثوں سے نقد رقم نکالنے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔
امریکہ اور چین کے درمیان ہفتہ کو متوقع مذاکرات کی خبر نے تجارتی جنگ سے متعلق خدشات کم کردیے، جس نے امریکی ڈالر اور مارکیٹ میں سرمایہ کاروں کے اعتماد کو متزلزل کر رکھا تھا۔ فیڈ چیئرمین جیروم پاول سے توقع کی جا رہی ہے کہ وہ مرکزی بینک کے آئندہ اقدام سے قبل مزید معاشی اعداد و شمار کا انتظار کرنے کا عندیہ دیں گے۔
گزشتہ ہفتے سے ڈالر کی فروخت میں کچھ کمی دیکھنے میں آئی ہے، جو عالمی سطح پر سرمایہ کاروں کی جانب سے، خاص طور پر کم منافع والے ابھرتے ہوئے مارکیٹوں میں، ڈالر بیچنے یا سرمایہ وطن واپس لانے کے رجحان کے باعث ہو رہی تھی۔
تائیوان ڈالر کی ریکارڈ سطح پر پہنچنے والی ریلی نے پورے خطے پر اثر ڈالا، جس کے نتیجے میں اس ہفتے سنگاپور، جنوبی کوریا اور ایشیا کے دیگر ممالک کی کرنسیوں میں بھی نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا۔
2 اپریل کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے تجارتی شراکت داروں پر وسیع محصولات کے اعلان کے بعد تائیوانی کرنسی کی قدر امریکی ڈالر کے مقابلے میں 10 فیصد سے زائد بڑھ چکی ہے۔ تاہم بدھ کو اس میں 0.65 فیصد کمی دیکھی گئی۔
ڈالر انڈیکس منگل کو 0.2 فیصد کمی کے بعد بدھ کو تقریباً مستحکم رہا، جو اس کی مسلسل تیسری کمی تھی۔ یورو 0.2 فیصد گر کر 1.1340 ڈالر پر آ گیا، جب کہ جرمنی کے نئے چانسلر فریڈرک مرز کے انتخاب کے بعد حاصل ہونے والا کچھ فائدہ ضائع ہو گیا۔
توقع ہے کہ فیڈ بدھ کو بینچ مارک شرح سود میں کوئی تبدیلی نہیں کرے گا۔ ٹریڈرز کا کہنا ہے کہ فیڈرل ریزرو جولائی میں اپنی نرمی کا عمل دوبارہ شروع کرے گا، لیکن کچھ ماہرین اقتصادیات کا خیال ہے کہ افراط زر میں اضافے سے اس سال شرح سود میں کسی قسم کی کٹوتی کو روکا جا سکے گا۔


Comments
Comments are closed.