انٹر بینک مارکیٹ میں منگل کے روز امریکی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی قدر میں 0.05 فیصد کی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔
کاروبار کے اختتام پر روپیہ 281.37 روپے پر بند ہوا جو ڈالر کے مقابلے میں 15 پیسے کی کمی ہے۔
یاد رہے کہ پیر کو روپیہ 281.22 پر بند ہوا۔
بین الاقوامی سطح پر منگل کو امریکی ڈالر کو پیشرفت میں مشکلات کا سامنا رہا، کیونکہ تائیوانی ڈالر میں دو روزہ غیر معمولی تیزی کا اثر دیگر علاقائی کرنسیوں پر بھی پڑا، جس سے امریکی کرنسی کی کمزوری اور عدم استحکام واضح ہو گیا۔
اس سے قبل ہانگ کانگ کے مرکزی بینک نے کہا تھا کہ اس نے مقامی کرنسی کو مستحکم ہونے سے روکنے کے لیے 7.8 ارب ڈالر (60.5 ارب ہانگ کانگ ڈالر) خریدے ہیں۔
ہانگ کانگ کے عملی طور پر مرکزی بینک نے دن کے آغاز میں اعلان کیا کہ اس نے مقامی کرنسی کو امریکی ڈالر سے منسلک رکھنے اور اس کی قدر میں اضافے کو روکنے کے لیے 7.8 ارب ڈالر (ایچ کے60.5 ارب ڈالر) خریدے ہیں۔
سرمایہ کاروں کو امریکہ کے ساتھ تجارتی مذاکرات میں حقیقی پیشرفت اور چین-امریکہ تعلقات میں کسی ممکنہ گرمجوشی کے آثار کا انتظار تھا، جبکہ حکام کی جانب سے صرف اشارے دیے گئے۔
پیر کو تائیوانی ڈالر امریکی ڈالر کے مقابلے میں تین سال کی بلند ترین سطح 29.59 پر پہنچ گیا، جس میں دو دنوں میں 8 فیصد کا اضافہ ہوا۔ یہ تیزی امریکی-تائیوان تجارتی مذاکرات کے اختتام سے ہم آہنگ ہوئی جو واشنگٹن میں جاری تھے۔ اس کے بعد تائیوانی ڈالر 30.02 پر مستحکم رہا۔
متعدد کرنسیوں کے مقابلے میں ڈالر 0.2 فیصد اضافے کے ساتھ 100.04 پر بند ہوا۔ گزشتہ ماہ ڈالر انڈیکس میں 4.3 فیصد کی ماہانہ کمی ریکارڈ کی گئی تھی جو دو سال میں سب سے زیادہ ہے۔
فیڈرل ریزرو بدھ کو اپنی پالیسی کا اعلان کرے گا اور توقع کی جا رہی ہے کہ شرح سود میں کوئی تبدیلی نہیں کی جائے گی، تاہم یہ اجلاس ممکنہ طور پر آخری ہوگا جہاں فیصلہ اتنا واضح اور سیدھا ہو۔
تیل کی قیمتیں ، کرنسی کی برابری کا ایک اہم اشارہ، گزشتہ سیشن میں چار سال کی کم ترین سطح پر پہنچنے کے بعد منگل کے روز مستحکم رہیں، جس کی وجہ اوپیک پلس کے پیداوار میں اضافے کا فیصلہ تھی، جس سے ایک ایسے وقت میں ضرورت سے زیادہ رسد کے خدشات پیدا ہوگئے ہیں جب امریکی ٹیرف نے طلب کے بارے میں خدشات کو جنم دیا ہے۔
برینٹ کروڈ فیوچر 10 سینٹ اضافے سے 60.33 ڈالر فی بیرل جبکہ یو ایس ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ کروڈ 10 سینٹ اضافے سے 57.23 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گیا۔
پیر کے روز دونوں بینچ مارک فروری 2021 کے بعد سے اپنی کم ترین سطح پر بند ہوئے تھے۔

Comments
Comments are closed.