BR100 Decreased By (-1.98%)
BR30 Decreased By (-2.38%)
KSE100 Decreased By (-1.54%)
KSE30 Decreased By (-1.69%)
BAFL 56.40 Decreased By ▼ -0.33 (-0.58%)
BIPL 26.81 Decreased By ▼ -0.17 (-0.63%)
BOP 32.89 Decreased By ▼ -0.86 (-2.55%)
CNERGY 10.17 Increased By ▲ 0.29 (2.94%)
DFML 17.70 Decreased By ▼ -0.30 (-1.67%)
DGKC 197.90 Decreased By ▼ -7.03 (-3.43%)
FABL 99.00 Decreased By ▼ -1.10 (-1.1%)
FCCL 51.40 Decreased By ▼ -1.69 (-3.18%)
FFL 16.20 Decreased By ▼ -0.32 (-1.94%)
GGL 24.71 Decreased By ▼ -0.13 (-0.52%)
HBL 295.50 Decreased By ▼ -4.32 (-1.44%)
HUBC 213.98 Decreased By ▼ -3.10 (-1.43%)
HUMNL 10.43 Decreased By ▼ -0.18 (-1.7%)
KEL 7.08 Decreased By ▼ -0.14 (-1.94%)
LOTCHEM 28.91 Decreased By ▼ -0.40 (-1.36%)
MLCF 88.90 Decreased By ▼ -3.26 (-3.54%)
OGDC 312.95 Decreased By ▼ -3.34 (-1.06%)
PAEL 40.99 Decreased By ▼ -1.05 (-2.5%)
PIBTL 15.99 Decreased By ▼ -0.42 (-2.56%)
PIOC 282.99 Decreased By ▼ -17.25 (-5.75%)
PPL 212.20 Decreased By ▼ -4.64 (-2.14%)
PRL 52.75 Increased By ▲ 1.89 (3.72%)
SNGP 99.21 Decreased By ▼ -2.51 (-2.47%)
SSGC 24.99 Decreased By ▼ -1.99 (-7.38%)
TELE 8.34 Decreased By ▼ -0.31 (-3.58%)
TPLP 13.16 Decreased By ▼ -0.23 (-1.72%)
TRG 56.54 Decreased By ▼ -2.72 (-4.59%)
UNITY 9.94 Decreased By ▼ -0.36 (-3.5%)
WTL 1.24 Increased By ▲ 0.01 (0.81%)
پاکستان

پنشن اور ٹیکس ریلیف کی حد، ایف بی آر نے دو اہم بجٹ تجاویز پر کام شروع کردیا

  • اتھارٹی کچھ برائے نام ٹیکس عائد کرنا چاہتی ہے جہاں پنشن کی مد میں بہت زیادہ رقم ادا کی جاتی ہے۔ ابتدائی طور پر، اس میں گریڈ 22 کے ریٹائرڈ افسران، اسی زمرے کے دیگر افراد شامل ہوسکتے ہیں۔
شائع اپ ڈیٹ

فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) آئندہ مالی سال (26-2025) کے بجٹ کے لیے دو اہم تجاویز پر کام کر رہا ہے، جن میں ایک مخصوص بلند حد سے زائد پنشن پر ٹیکس عائد کرنا اور موجودہ انکم ٹیکس چھوٹ کی حد میں اضافہ شامل ہے۔

ذرائع نے بزنس ریکارڈر کو بتایا کہ دونوں تجاویز وزیرِاعظم کی منظوری کے لیے پیش کی جائیں گی۔ تاہم، ان تجاویز پر ایف بی آر میں کام کا آغاز ہو چکا ہے۔

پہلی تجویز کے مطابق ایسے افراد پر معمولی ٹیکس عائد کیا جائے گا جنہیں ”پنشن“ کی مد میں بہت زیادہ رقم ادا کی جاتی ہے۔ ابتدائی طور پر یہ تجویز گریڈ 22 کے ریٹائرڈ افسران اور اسی زمرے کے دیگر افراد پر لاگو ہو سکتی ہے۔

مثال کے طور پر، اگر کوئی ریٹائرڈ شخص ماہانہ 4 لاکھ روپے یا سالانہ 48 لاکھ روپے یا اس سے زائد پنشن وصول کر رہا ہے، تو اس پر ماہانہ بنیاد پر 2.5 فیصد کی شرح سے معمولی ٹیکس عائد کیا جا سکتا ہے۔

بعض افراد پُرتعیش طرزِ زندگی گزار رہے ہیں اور ساتھ ہی بھاری پنشن بھی حاصل کر رہے ہیں۔ یہ تجویز صرف ان افراد کے لیے تیار کی گئی ہے جو بہت زیادہ پنشن وصول کرتے ہیں، جبکہ کم پنشن لینے والے افراد پر اس کا اطلاق نہیں ہوگا۔

ایف بی آر کے ایک سابق ممبر ٹیکس پالیسی نے اس نمائندے کو بتایا کہ یہ ایک سیاسی فیصلہ ہوگا کہ آیا حکومت مخصوص بلند حد سے زائد پنشن پر ٹیکس عائد کرنے کے لیے تیار ہے یا نہیں۔ اس تجویز کے تحت ریٹائرڈ عدلیہ، بیوروکریٹس اور سینئر ریٹائرڈ فوجی افسران بھی آ سکتے ہیں۔

دوسری تجویز انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کے تحت 6 لاکھ روپے کی انکم ٹیکس چھوٹ کی حد کو بڑھانے سے متعلق ہے۔ ذرائع کے مطابق یہ عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے ایک اہم اقدام ہوگا تاکہ انکم ٹیکس سے مستثنیٰ آمدنی کی حد میں خاطر خواہ اضافہ کیا جا سکے۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025

Comments

Comments are closed.