پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں تیزی، 100 انڈیکس 2.5 فیصد اضافے کے ساتھ بند
پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں جمعے کے کاروباری روز سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہونے سے تیزی دیکھنے کو ملی ہے جس کے نتیجے میں بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس میں 2,787 پوائنٹس کا نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
جمعے کو پورے کاروباری سیشن کے دوران خریداری کا رحجان غالب رہا جس کے نتیجے میں بینچ مارک انڈیکس انٹرا ڈے کی بلند ترین سطح 114,546.87 پوائنٹس تک جا پہنچا۔
کاروبار کے اختتام پر بینچ مارک انڈیکس 2,787.36 پوائنٹس یا 2.50 فیصد اضافے کے ساتھ 114,113.94 پوائنٹس پر بند ہوا۔
مارکیٹ کے ماہرین نے تیزی کے اس رحجان کو پاک بھارت کشیدگی میں کمی کی بڑھتی ہوئی توقعات سمیت کئی عوامل سے منسوب کیا ہے۔
بروکریج ہاؤس ٹاپ لائن سیکیورٹیز نے اپنی پوسٹ مارکیٹ رپورٹ میں کہا ہے کہ مارکیٹ میں اس بحالی کی وجہ امریکی انتظامیہ کے بیانات ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کام کر رہے ہیں کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان کشیدگی وسیع تر علاقائی تنازعمیں تبدیل نہ ہو۔
ٹاپ لائن کے مطابق انڈیکس میں سب سے زیادہ مثبت حصہ یو بی ایل ، ای ایف ای آر ٹی ، ایچ یو بی سی ، لک ، ایم ای بی ایل اور ایچ بی ایل کا رہا کیوں کہ ان شعبوں کی بدولت انڈیکس میں مجموعی طور پر انڈیکس 1،238 پوائنٹس کا اضافہ ہوا ہے۔
یاد رہے کہ بدھ کو کے ایس ای 100 انڈیکس 3545.61 پوائنٹس یا 3.09 فیصد کی کمی سے بند ہوا تھا۔
اپریل میں بھارت کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے سبب پاکستان اسٹاک مارکیٹ کو نقصان اٹھانا پڑا کیونکہ کے ایس ای 100 انڈیکس میں ماہانہ بنیادوں پر 6,480 پوائنٹس کی کمی واقع ہوئی ہے۔
بدھ کوامریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے بھارت اور پاکستان پر زور دیا کہ وہ گزشتہ ہفتے مقبوضہ کشمیر میں شدت پسندوں کے حملے کے بعد کشیدگی کم کرنے کے لیے ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کریں۔
عارف حبیب لمیٹڈ میں ریسرچ کی سربراہ ثنا توفیق نے بزنس ریکارڈر کو بتایا کہ مارکیٹ کو آئندہ ہفتے متوقع مانیٹری پالیسی کمیٹی (ایم پی سی) میں ایک اور کٹوتی کی بھی توقع ہے۔
بین الاقوامی سطح پر، جمعہ کے روز ایشیائی اسٹاک مارکیٹس اور امریکی فیوچرز میں اضافہ دیکھنے کو ملا، کیونکہ امریکہ اور چین کے درمیان ممکنہ تجارتی مذاکرات کے اشاروں نے سرمایہ کاروں کے مثبت رحجان میں اضافہ ہوا۔
چین کی وزارت تجارت نے جمعہ کے روز کہا کہ امریکہ نے بارہا محصولات پر بات چیت پر آمادگی کا اظہار کیا ہے اور بیجنگ کے دروازے مذاکرات کے لیے کھلے ہیں۔
یہ بیانات اس وقت امریکی اسٹاک فیوچرز کو مروجہ کمی سے واپسی کرنے میں مددگار ثابت ہوئے جب ایپل نے اپنے شیئر بائی بیک پروگرام میں کمی کی اور خبردار کیا کہ محصولات اس سہ ماہی میں تقریباً 900 ملین ڈالر کے اضافی اخراجات کا باعث بن سکتے ہیں۔
ایس اینڈ پی 500 کے فیوچرز میں 0.6 فیصد کا اضافہ ہوا جبکہ نیسڈیک کے فیوچرز 0.3 فیصد بڑھ گئے۔ جاپان کا نکی انڈیکس 1 فیصد کے اضافے کے ساتھ کمزور ین کی بدولت بڑھا جبکہ تائیوان کی اسٹاک مارکیٹ میں 2 فیصد کا زبردست اضافہ دیکھنے کو ملا۔
ایم ایس سی آئی کا جاپان کے علاوہ ایشیا پیسیفک شیئرز کا وسیع ترین انڈیکس 0.4 فیصد بڑھا۔
کمیوڈٹیز میں، سونے کی قیمتیں کم ہو کر فی اونس 3,234.9 ڈالر تک پہنچ گئیں، اور یہ دو مہینوں میں سب سے کمزور ہفتہ وار کارکردگی کی طرف بڑھ رہی ہیں، جو محفوظ پناہ گاہ کی کم ہوتی ہوئی مانگ کی وجہ سے ہے۔
تیل کی قیمتوں میں اُس وقت اضافہ ہوا جب ٹرمپ نے ایران پر ثانوی درجے کی پابندیوں کی دھمکی دی۔ برینٹ کروڈ فیوچرز میں 0.56 فیصد کا اضافہ ہوا جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ کروڈ فیوچرز 0.6 فیصد بڑھ گئے۔
دریں اثنا انٹربینک مارکیٹ میں امریکی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی قدر میں 0.03 فیصد کمی واقع ہوئی ہے اور روپیہ 9 پیسے کم ہونے کے بعد 281 روپے 6 پیسے پر بند ہوا۔
آل شیئر انڈیکس کا حجم گزشتہ سیشن کے 490.95 ملین سے کم ہو کر 372.36 ملین رہ گیا۔
حصص کی مالیت گزشتہ سیشن کے 31.12 ارب روپے سے کم ہو کر 23.28 ارب روپے رہ گئی۔
سوئی سدرن گیس 29.32 ملین حصص کے ساتھ سرفہرست رہی۔ اس کے بعد 27.37 ملین حصص کے ساتھ سنرجیکو پی کے دوسرے اور 20.84 ملین حصص کے ساتھ بینک آف پنجاب تیسرے نمبر پر رہا۔
جمعہ کو 445 کمپنیوں کے حصص کا کاروبار ہوا جن میں سے 331 کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں اضافہ، 63 میں کمی جبکہ 51 میں استحکام رہا۔



Comments
Comments are closed.