خام تیل کی قیمتوں میں جمعہ کو معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا لیکن وہ ہفتہ وار نقصان کی جانب گامزن ہیں کیونکہ اوپیک پلس کی پیداوار میں ممکنہ اضافہ اور روس-یوکرین جنگ میں ممکنہ جنگ بندی سے فراہمی میں اضافہ ہوسکتا ہے، جبکہ امریکی ٹیرف کے متضاد اشارے طلب کے منظرنامے کو محدود کررہے ہیں۔
برینٹ کروڈ فیوچر 5 سینٹ اضافے سے 66.60 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گیا۔
امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) خام تیل کی قیمت 6 سینٹ اضافے سے 62.85 ڈالر فی بیرل ہوگئی تاہم ہفتے کے دوران اس میں 2.9 فیصد کمی متوقع ہے۔
روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے سی بی ایس نیوز کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا کہ امریکی اور روسی حکام یوکرین جنگ کے خاتمے کی جانب درست سمت میں گامزن ہیں لیکن معاہدے کے کچھ مخصوص پہلوؤں پر ابھی اتفاق ہونا باقی ہے۔
یوکرین میں روس کی جنگ کو روکنے اور ان کے خلاف پابندیوں میں نرمی سے عالمی منڈیوں میں مزید روسی تیل کی فراہمی ممکن ہوسکتی ہے۔
روس اوپیک پلس گروپ کا رکن ہے جس میں تیل برآمد کرنے والے ممالک کی تنظیم بھی شامل ہے اور یہ امریکہ اور سعودی عرب کے ساتھ دنیا میں تیل پیدا کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے۔
جمعرات کو، ٹرمپ نے روسی صدر ولادیمیر پوٹن پر تنقید کی جب روس نے راتوں رات کیف پر میزائلوں اور ڈرونز سے حملہ کیا، اور کہا ”ولادیمیر، رُک جاؤ!“
رائٹرز کی ایک رپورٹ کے مطابق عالمی سپلائی میں مزید اضافہ کرتے ہوئے چند اوپیک پلس کے اراکین نے جون میں تیل کی پیداوار میں اضافے کے عمل کو تیز کرنے کی تجویز دی تھی ۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے جمعرات کو کہا کہ وہ تہران کے جوہری پروگرام پر بات چیت کے لیے یورپ جانے کے لیے تیار ہیں۔
یورپ اور امریکہ کے ساتھ کامیاب بات چیت کے نتیجے میں ایرانی تیل کی برآمدات پر عائد پابندیاں اٹھا لی جا سکتی ہیں ۔ سعودی عرب اور عراق کے بعد ایران اوپیک کا تیسرا سب سے بڑا تیل پیدا کرنے والا ملک ہے۔
تاہم چین اور امریکہ کے درمیان تجارتی جنگ کے باعث طلب کا منظرنامہ اب بھی غیر واضح ہے، جو کہ دنیا کے سب سے بڑے تیل صارفین ہیں۔


Comments
Comments are closed.