جب سے ٹرمپ انتظامیہ نے اپنے تجارتی شراکت داروں کے ساتھ امریکہ کے تجارتی خسارے کو کم کرنے کی کوشش میں یوم آزادی پر ٹیرف متعارف کرائے، یہ بات بالکل واضح ہوگئی ہے کہ اس پالیسی نے نہ صرف اسٹاک مارکیٹ میں مندی، بڑے پیمانے پر کاروباری گھبراہٹ اور کرنسی اور بانڈ مارکیٹوں میں اتار چڑھاؤ کو جنم دے کر وسیع پیمانے پر معاشی افراتفری کو جنم دیا ہے، بلکہ اس کے نقصاندہ نتائج عالمی مالیاتی نظام کے لئے خطرات میں اضافے کا امکان ہے جو مستقبل میں بھی برقرار رہے گا۔
ٹیرف کے نفاذ کا غیر مستحکم عمل، جس میں منصوبہ بندی، دور اندیشی اور بنیادی اقتصادی سوچ کی شدید کمی تھی، نے عالمی سطح پر بے یقینی کو بڑھا دیا، سرمایہ کاروں کا اعتماد متزلزل کردیا اور دنیا بھر میں اقتصادی کمزوریوں میں اضافہ کردیا۔
یہ حقیقت اب آئی ایم ایف کی تازہ ترین عالمی مالیاتی استحکام رپورٹ کے ذریعے مزید واضح ہوگئی ہے، جو 22 اپریل کو جاری کی گئی۔ اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کس طرح امریکہ کے تجارتی ٹیرف نے عالمی منڈیوں میں اتار چڑھاؤ کو بڑھا دیا ہے، کیونکہ اس سے پالیسی کی عدم یقینیت کی لہر پیدا ہوئی ہے جو دیگر ممالک کی جوابی کارروائیوں، خاص طور پر چین کی جانب سے کی وجہ سے مزید بگڑ گئی۔ نتیجے کے طور پر آئی ایم ایف نے 2025 کے لیے عالمی ترقی کی پیش گوئی کو 3.3 فیصد سے کم کرکے 2.8 فیصد کردیا ہے۔
ٹیرف کے اعلان کے بعد عالمی سطح پر اسٹاک، کرنسی اور بانڈ مارکیٹس میں خطرے والے اثاثوں کی قیمتوں میں تیزی سے تبدیلی آئی اور شدید اتار چڑھاؤ دیکھنے کو ملا، تاہم آئی ایم ایف کا کہنا ہے کہ اس تمام افراتفری کے باوجود ایکویٹی اور کارپوریٹ بانڈ مارکیٹس کے اہم حصوں میں قیمتیں اب بھی بلند ہیں۔
اس سے پتہ چلتا ہے کہ اگر عالمی اقتصادی منظر نامہ مزید خراب ہوتا ہے تو ، ان ویلیو ایشنز کو مزید نیچے کے دباؤ کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے جس سے ابھرتی ہوئی اور فرنٹیئر مارکیٹوں کے لئے ایک اہم خطرہ پیدا ہوسکتا ہے، جہاں ترقی سست ہو سکتی ہے اور سرمایہ کا بہاؤ مزید بڑھ سکتا ہے۔ آئی ایم ایف نے خودمختار بانڈ مارکیٹوں میں تبدیلیوں کیلئے اہم سرکاری قرضوں والے ممالک کی حساسیت کو بھی اجاگر کیا ہے۔
اس سے حکومتیں خاص طور پر قرض لینے کی لاگت میں اچانک اضافے کے لیے زیادہ حساس ہوجاتی ہیں اورآئی ایم ایف نے خبردار کیا ہے کہ سرکاری قرضوں کی پائیداری کے بارے میں سرمایہ کاروں کے خدشات مالی طور پر مشکلات کا شکار معیشتوں میں اقتصادی عدم استحکام کو بڑھاسکتے ہیں جس سے ان کے لیے اپنے قرضوں کی ادائیگی مزید مشکل ہوجاتی ہے۔اس تناظر میں، آئی ایم ایف کی سفارشات کہ ابھرتی ہوئی اور ترقی پذیر معیشتیں داخلی پالیسی اور ساختی عدم توازن کو حل کریں، مالی پالیسی کی گنجائش کو برقرار رکھیں اور یہ یقینی بنائیں کہ عوامی قرضہ پائیدار راستے پر ہو، پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہیں تاکہ طویل مدتی اقتصادی استحکام کو محفوظ رکھا جاسکے۔
مزید برآں آئی ایم ایف نے نشاندہی کی ہے کہ دنیا بھر کی حکومتوں کی آئندہ پالیسیوں سے متعلق غیریقینی صورتحال اور فوجی تنازعات جیسے جغرافیائی سیاسی جھٹکوں کے باعث، دنیا بھر کی کمپنیاں اپنے اخراجات میں کمی کرسکتی ہیں، کیونکہ بہت سی فرمیں ممکنہ طور پر سرمایہ کاری روکنے، کم کرنے اور خریداری محدود کرنے کا فیصلہ کریں گی، اسی طرح مالیاتی ادارے بھی کاروبار کو دیا جانے والا قرض سخت شرائط کے ساتھ فراہم کریں گے یا محدود کر دیں گے۔
یہ سب کچھ — عالمی سیاسی اور معاشی غیر یقینی صورتحال کے ماحول میں بین الاقوامی تعاون کی کمی کے ساتھ — ایک منفی طلب کے جھٹکے کا باعث بنا ہے، جو معاشی سرگرمیوں کو مزید سست کردے گا۔ درحقیقت، بین الاقوامی تعاون میں کمی ایک مضبوط اور مستحکم عالمی معیشت کی تعمیر میں بڑی رکاوٹ بن رہی ہے، جبکہ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے بیرونی امداد میں کٹوتیاں بھی عالمی چیلنجز جیسے غربت میں کمی، ماحولیاتی تبدیلی اور کمزور علاقوں میں اقتصادی استحکام برقرار رکھنے کی مشترکہ کوششوں کو نقصان پہنچا رہی ہیں۔
لہٰذا یہ حیرت کی بات نہیں کہ بڑھتی ہوئی تجارتی کشیدگی، مالیاتی منڈیوں میں اتار چڑھاؤ، غیر متوقع اقتصادی پالیسیوں اور سرمایہ کاروں کے کمزور اعتماد کے پس منظر میں پاکستان کی معاشی ترقی کی توقعات بھی ماند پڑگئی ہیں۔آئی ایم ایف نے مالی سال 2025 کے لیے پاکستان کی جی ڈی پی شرح نمو کا تخمینہ جنوری کی 3 فیصد پیش گوئی سے کم کرکے 2.6 فیصد کردیا ہے۔
جب دنیا غیر ذمہ دارانہ تجارتی پالیسیوں اور بڑھتی ہوئی معاشی کمزوری کے اثرات سے نمٹنے کی کوشش کر رہی ہے، تو ایسے میں مربوط عالمی اقدام، مالی نظم و ضبط پر مبنی حکمرانی اور شواہد پر مبنی پالیسی سازی کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ ہے۔ تاہم تشویشناک بات یہ ہے کہ یہ تمام عناصر نہایت ک نظر آ رہے ہیں جو مستقبل میں مزید عدم استحکام کا اشارہ دے رہے ہیں کیونکہ جغرافیائی سیاسی کشیدگیاں اور معاشی قوم پرستی بہتر پالیسیوں پر غالب آتی جا رہی ہیں۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025


Comments
Comments are closed.