BR100 Decreased By (-0.08%)
BR30 Decreased By (-0.13%)
KSE100 Increased By (0.07%)
KSE30 Increased By (0.05%)
BAFL 56.79 Increased By ▲ 0.06 (0.11%)
BIPL 27.00 Increased By ▲ 0.02 (0.07%)
BOP 33.72 Decreased By ▼ -0.03 (-0.09%)
CNERGY 10.08 Increased By ▲ 0.20 (2.02%)
DFML 18.20 Increased By ▲ 0.20 (1.11%)
DGKC 203.70 Decreased By ▼ -1.23 (-0.6%)
FABL 99.60 Decreased By ▼ -0.50 (-0.5%)
FCCL 53.60 Increased By ▲ 0.51 (0.96%)
FFL 16.54 Increased By ▲ 0.02 (0.12%)
GGL 25.55 Increased By ▲ 0.71 (2.86%)
HBL 300.38 Increased By ▲ 0.56 (0.19%)
HUBC 217.68 Increased By ▲ 0.60 (0.28%)
HUMNL 10.60 Decreased By ▼ -0.01 (-0.09%)
KEL 7.22 No Change ▼ 0.00 (0%)
LOTCHEM 29.59 Increased By ▲ 0.28 (0.96%)
MLCF 91.35 Decreased By ▼ -0.81 (-0.88%)
OGDC 317.50 Increased By ▲ 1.21 (0.38%)
PAEL 42.00 Decreased By ▼ -0.04 (-0.1%)
PIBTL 16.54 Increased By ▲ 0.13 (0.79%)
PIOC 298.00 Decreased By ▼ -2.24 (-0.75%)
PPL 218.05 Increased By ▲ 1.21 (0.56%)
PRL 52.11 Increased By ▲ 1.25 (2.46%)
SNGP 101.00 Decreased By ▼ -0.72 (-0.71%)
SSGC 26.64 Decreased By ▼ -0.34 (-1.26%)
TELE 8.56 Decreased By ▼ -0.09 (-1.04%)
TPLP 13.55 Increased By ▲ 0.16 (1.19%)
TRG 59.23 Decreased By ▼ -0.03 (-0.05%)
UNITY 10.17 Decreased By ▼ -0.13 (-1.26%)
WTL 1.23 No Change ▼ 0.00 (0%)

فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کا ”آئی آر ایس“ سسٹم فروری اور مارچ 2025 میں سیلز ٹیکس گوشوارے جمع کرانے کے لیے حال ہی میں توسیع شدہ آخری تاریخ کے باوجود ٹیکس دہندگان کو غلط طریقے سے ”نان ایکٹو“ کے طور پر نشان زد کر رہا ہے۔

یہ صورتحال کاروباری برادری میں شدید پریشانی کا باعث بن گئی ہے۔ متعدد ٹیکس دہندگان نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا ہے کہ انہیں محض دو مہینے کے ریٹرن جمع نہ کرانے پر ”نان ایکٹو“ قرار دے دیا گیا ہے، جس کی وجہ سے انہیں غیر ضروری مشکلات کا سامنا ہے۔

یہ واضح ہوتا جا رہا ہے کہ سیلز ٹیکس ریٹرن فائلنگ کا نظام حالیہ تبدیلیوں کے بعد شدید دباؤ کا شکار ہے۔ اسی لیے ایف بی آر نے فروری اور مارچ 2025 کے ریٹرن جمع کرانے کی تاریخوں میں توسیع کی۔

کراچی کے ایک معروف سیلز ٹیکس ماہر ارشد شہزاد نے بتایا کہ گزشتہ چند مہینوں کے دوران ایف بی آر نے سیلز ٹیکس ریٹرن میں متعدد لازمی تقاضے متعارف کرائے ہیں جن میں آٹھ ہندسوں پر مشتمل ایچ ۔ ایس. کوڈ، پیمائش کی اکائی، اور نئے ضمیمے ’ایچ-1‘، ’جے‘ اور ’سی-1‘ شامل ہیں۔

انہوں نے وضاحت کی کہ ہر فروخت ہونے والی شے کے لیے اب آٹھ ہندسوں پر مشتمل ایچ.ایس. کوڈ درج کرنا لازمی ہے۔ درآمدی اشیاء کے لیے یہ آسان ہے کیونکہ ان کے پاس گوڈز ڈیکلریشن (جی ڈی) میں کوڈز ہوتے ہیں، لیکن مقامی طور پر تیار شدہ اشیاء کے لیے تاجروں کو درست کوڈ معلوم نہیں ہوتے۔

مزید برآں، جب ایک ہی پراڈکٹ کے لیے مختلف سپلائرز مختلف ایچ.ایس. کوڈز درج کرتے ہیں، تو یہ مزید کنفیوژن پیدا کرتا ہے۔ ارشد شہزاد نے تجویز دی کہ ایف بی آر کو مخصوص کوڈز کے بجائے اشیاء کی واضح تفصیل مانگنی چاہیے اور سسٹم کو اتنا ذہین ہونا چاہیے کہ وہ خود ہی متعلقہ ایچ.ایس. کوڈ مختص کرے۔

انہوں نے اس بات پر بھی تنقید کی کہ یونٹ آف میژرمنٹ کو صرف ”کلوگرام“ تک محدود کر دیا گیا ہے، جو کہ بہت سے کاروباروں کے لیے مسئلہ ہے۔ ان کے مطابق، ایک الیکٹرانک ڈراپ ڈاؤن مینو ہونا چاہیے جس میں تمام اقسام کی پیمائشی اکائیاں دستیاب ہوں، تاکہ آسانی پیدا کی جا سکے۔

آخر میں، ارشد شہزاد نے مشورہ دیا کہ ضمیمہ “جے “ (پیداواری ڈیٹا) اور ضمیمہ ”ایچ-1“ (اسٹاک رپورٹنگ برائے غیر پیداواری ادارے) کو مرحلہ وار متعارف کرایا جائے، اور ان کے نفاذ سے پہلے تربیتی ورکشاپس اور سیمینارز منعقد کیے جائیں تاکہ ٹیکس دہندگان کو ان تبدیلیوں سے متعلق مکمل آگاہی حاصل ہو۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025

Comments

Comments are closed.