سنٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی- گارنٹیڈ (سی پی پی اے-جی) کو مالی سال 25-2024 کے دوران مختلف مدات کے تحت ٹیرف ڈفرینشل سبسڈی (ٹی ڈی ایس) کی مد میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان سے 148.75 ارب روپے موصول ہوئے۔ یہ رقوم اکاؤنٹنٹ جنرل پاکستان ریونیو (اے جی پی آر) کی منظوری کے بعد جاری کی گئیں۔
28 مارچ2025ء,اکاؤنٹنٹ جنرل آف پاکستان ریونیو نے اسٹیٹ بینک اسلام آباد برانچ کو تمام ضابطوں کی تکمیل کے بعد سی پی پی اے-جی کو مجاز رقم جاری کرنے کی اجازت دی تھی۔
دستیاب سرکاری دستاویزات کے مطابق، 12.745 ارب روپے مختلف ڈسکوز کو انٹڑ ڈسکو ٹیرف فرق کی سبسڈی کے تحت ادا کیے گئے۔
اسی طرح، ضم شدہ قبائلی اضلاع (سابقہ فاٹا) کے لیے 2.281 ارب روپے جاری کیے گئے تاکہ مقامی صارفین کو بجلی کی فراہمی پر اخراجات پورے کیے جا سکیں۔
آزاد جموں و کشمیر (اے جے کے) کو بھی 12.123 ارب روپے کی رقم ٹیرف فرق کی مد میں فراہم کی گئی۔ یہ سبسڈی آزاد جموں و کشمیر کے صارفین کو وفاقی نرخ پر بجلی مہیا کرنے کے لیے دی گئی۔
مزید برآں، اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کی منظوری کے بعد آزاد جموں و کشمیر کیلئے 8.863 ارب روپے ایڈوانس سبسڈی کے طور پر مختلف مقاصد کے لیے جاری کیے گئے۔
بلوچستان میں زرعی ٹیوب ویلز کے لیے 399 ملین روپے اور بعد میں مزید 457 ملین روپے جاری کیے گئے تاکہ کسانوں کو بجلی کی مد میں معاونت فراہم کی جا سکے۔
اس کے علاوہ، حکومتی ملکیت کے پاور پلانٹس کو واجبات کی ادائیگی کے لیے 115 ارب روپے ادا کیے گئے۔ ان پاور پلانٹس میں نیشنل پاور پارکس مینجمنٹ کمپنی، جی پی پی، جنکوز-I، جنکوز-II اور جنکوز-III شامل ہیں۔
فاٹا کے لیے ایک اور قسط میں 3.007 ارب روپے جاری کیے گئے تاکہ وہاں کے بجلی صارفین کو مسلسل رعایت دی جا سکے۔
اسی طرح، چینی پاور پلانٹس کو 4 ارب روپے ماہانہ اقساط کے تحت ادائیگیاں کی جا رہی ہیں، جن میں پہلی قسط بھی اس فنڈ سے جاری کی گئی۔
جاری کردہ تمام رقوم کے استعمال کو سرکاری قواعد، مالیاتی ضوابط، اور قانونی تقاضوں کے مطابق قرار دیا گیا ہے۔ ان فنڈز کا استعمال صرف مقررہ مقاصد کے لیے کیا جا سکتا ہے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025


Comments
Comments are closed.