معاشی استحکام حاصل ہو چکا ہے، مہنگائی تیزی سے نیچے آ رہی ہے، شرحِ سود نصف ہو چکی ہے اور کرنسی بھی پُرسکون ہے۔ اس کے پیچھے بنیادی بجٹ سرپلس اور کرنٹ اکاؤنٹ کا فاضل ہونا ہے۔ لیکن معاشی ترقی کی بحالی نظر نہیں آ رہی، کیونکہ بڑی صنعتوں (ایل ایس ایم) کی کارکردگی بدستور بہت خراب ہے۔
گزشتہ دس میں سے آٹھ سہ ماہیوں میں ایل ایس ایم میں کمی دیکھی گئی ہے۔ موجودہ مالی سال میں مجموعی صنعتی پیداوار ابھی بھی 2019 کی سطح سے کم ہے۔
22 میں سے 11 ایل ایس ایم ذیلی اشاریے 2015 کی سطح سے بھی نیچے ہیں۔ بی آر ریسرچ کے مطابق سیزنلی ایڈجسٹڈ 12 ماہ کی رولنگ بنیاد پر جوس، لیدر مصنوعات اور موٹر ٹائرز 105 ماہ کی کم ترین سطح پر ہیں، سیمنٹ 82 ماہ کی کم ترین سطح پر ہے، جبکہ لوہا و فولاد کی پیداوار آٹھ سال کی کم ترین سطح پر پہنچ چکی ہے۔ یہ فہرست طویل ہوتی جا رہی ہے۔
یہ محض بنیادی اثرات (بیس ایفکیٹ) کا نتیجہ نہیں۔ کوئی وقتی جھٹکا بھی وجہ نہیں۔ اس زوال کی گہرائی اور وسعت پریشان کن ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ کچھ شعبہ جات میں یہ کمی مستقل نوعیت کی ہے اور مستقبل قریب میں ان کی بحالی کا کوئی امکان نہیں۔ سوال یہ ہے کہ معیشت بحال کیوں نہیں ہو رہی؟
وجوہات دونوں اطراف—طلب اور رسد—سے وابستہ ہیں۔ رسد کی جانب سے لاگت کے ڈھانچے اور مسابقت میں گہرے مسائل ہیں۔ چینی مصنوعات کی سستے داموں درآمدات نے زوال کو مزید گہرا کیا ہے، اور امریکی ٹیرف کی وجہ سے یہ مسئلہ مزید بگڑ سکتا ہے کیونکہ یہ دنیا بھر میں چینی مصنوعات کی مزید ڈمپنگ کا سبب بن سکتا ہے۔
آج بھی ڈمپنگ ٹیکسٹائل ویلیو چین کو نقصان پہنچا رہی ہے۔ ایک ویلیو ایڈڈ ٹیکسٹائل پروڈیوسر کے مطابق لوکل پی ایس ایف (پالئیسٹر سٹیپل فائبر) ہمیں 1.19 ڈالر میں پڑتا ہے جبکہ چین سے درآمد شدہ پی ایس ایف تمام ڈیوٹیز سمیت 1 ڈالر میں آتا ہے، اسی لیے ہم اپنی پیداوار میں صرف چینی پی ایس ایف استعمال کر رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ای ایف ایس کے بغیر بھی چینی خام مال کا استعمال ہمیں زیادہ موزوں پڑتا ہے۔
ٹیکسٹائل درآمدات اب صرف برآمدات کے لیے نہیں بلکہ ملکی استعمال کے لیے بھی ہو رہی ہیں۔ کئی فاسٹ فیشن برانڈز مقامی فروخت کے لیے مال درآمد کر رہے ہیں۔ سستے کپڑوں اور جوتوں کی مارکیٹ میں بھی درآمدات کا حصہ بڑھ رہا ہے۔ گھریلو مصنوعات بھی تیزی سے چینی بنتی جا رہی ہیں۔
یہ سستے درآمدی سامان کی یلغار مزید بڑھے گی کیونکہ امریکی ٹیرف کی وجہ سے چینی اور دیگر ممالک کی مصنوعات دیگر مارکیٹوں کی جانب موڑی جا رہی ہیں۔ وہ اپنی کیش فلو برقرار رکھنے کے لیے ممکنہ طور پر لاگت سے بھی کم نرخوں پر فروخت کر رہے ہیں۔ یہ رجحان پاکستان کی غیر امریکی منڈیوں میں برآمدات کو بھی متاثر کرے گا، کیونکہ وہ مارکیٹس اب چینی مصنوعات سے بھر چکی ہوں گی۔ امریکی ٹیرف کی وجہ سے براہِ راست امریکی منڈی میں برآمدات بھی چیلنج بن گئی ہیں۔
یہ سب عوامل پاکستان کے تجارتی توازن پر منفی اثر ڈال سکتے ہیں۔ اس کے مقابلے میں ترسیلاتِ زر اور سروسز ایکسپورٹ پر انحصار بڑھنے کا امکان ہے، کیونکہ عالمی منڈی میں مال کی تجارت کمزور پڑنے والی ہے۔
پاور جنریشن میں کمی بھی ایک مسئلہ ہے، جس کی ایک وجہ صنعتی طلب میں کمی ہے۔ چینی سولر پینلز کی درآمد نے توانائی کے نظام کو بھی متاثر کیا ہے۔ مالی سال25 کے ابتدائی نو ماہ کے دوران پاور جنریشن مالی سال 20 کے بعد کم ترین سطح پر ہے، اور مالی سال22 کی بلند ترین سطح سے 12 فیصد کم ہے۔ اگلا بڑا خطرہ بیٹری کی یلغار ہے کیونکہ توانائی ذخیرہ کرنے کا شعبہ ایک انقلابی دور میں داخل ہو رہا ہے۔
لیکن مسئلہ صرف رسد کا نہیں ہے۔ طلب بھی کمزور ہے—زیادہ ٹیکسز، گزشتہ چند برسوں کی مہنگائی، گرتی ہوئی حقیقی اجرتیں اور زراعت کا بحران۔ گندم کی امدادی قیمت کے معاملے نے دیہی معیشت کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ کسان اپنی لاگت تک پوری نہیں کر پا رہے۔ گزشتہ سال سندھ کے کسان نسبتاً بہتر تھے، لیکن پنجاب کے کسانوں کو نقصان ہوا۔ اس سال قیمتیں مزید کم ہیں، اور کسانوں کی مشکلات بڑھ چکی ہیں۔
یہ دیہی طلب میں کمی کی بڑی وجہ ہے۔ کلیںڈر ایئر25 کے ابتدائی تین ماہ میں یوریا کی فروخت چھ سال کی کم ترین سطح پر ہے، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 60 فیصد کم ہے۔ دیہی علاقوں میں موٹر سائیکل کی فروخت کم ہے، اور کئی دیگر اشیاء کی مانگ بھی کمزور ہے۔ ملتان اور گرد و نواح میں جائیداد کی مارکیٹ بھی جمود کا شکار ہے۔ حتیٰ کہ گندم کی کٹائی کے موسم میں جو پیسہ مارکیٹ میں آتا تھا، وہ بھی غائب ہے۔
یہ طلب کی حقیقی کمی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سیمنٹ، اسٹیل اور گاڑیوں جیسے سائیکلیکل شعبے شرحِ سود میں کمی کے باوجود نہیں بڑھ پا رہے۔ شہری علاقوں میں بھی حقیقی اجرتوں میں کمی لوگوں کے طرزِ زندگی کو متاثر کر رہی ہے اور طلب کو محدود کر رہی ہے۔
پالیسی سازوں کے طرزِ فکر کو ازسرِ نو تشکیل دینے کی ضرورت ہے۔ کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس کو حتمی منزل سمجھ لیا گیا ہے، جب کہ یہ محض ایک ذریعہ ہونا چاہیے تھا۔ جب بھی ترقی کی بات ہوتی ہے تو کرنٹ اکاؤنٹ بحران کا خوف فیصلوں کو مفلوج کر دیتا ہے۔ پالیسی ساز حد سے زیادہ محتاط ہو چکے ہیں۔
یہ ایسا ہی ہے جیسے کولیسٹرول کا علاج صرف دوائیوں سے کیا جائے—جس سے جسمانی طاقت گھٹتی ہے—جبکہ اصل حل متوازن خوراک اور ورزش ہے۔ آج کی معیشت میں طاقت، چستی اور برداشت کی شدید کمی ہے۔
وزارت خزانہ عارضی اقدامات پر خوش ہے—کتابوں کے توازن کو حد سے زیادہ ٹیکسوں سے حاصل کیا جا رہا ہے اور سرپلس کا جشن منایا جا رہا ہے جبکہ حقیقی صنعت خون بہا رہی ہے۔ اگر ٹھوس اسٹرکچرل اصلاحات نہ کی گئیں تو بحالی محض ایک سراب رہے گی۔ اب وقت ہے سوچ بدلنے کا۔
جان مینارڈ کینز نے کہا تھا: ”نئی سوچ پیدا کرنا اتنا مشکل نہیں جتنا پرانی سوچ سے باہر نکلنا۔“ پاکستان کے پالیسی سازوں کو اب مانوس اعداد و شمار کی عافیت سے نکل کر اُس گہرے مرض کا سامنا کرنا ہوگا جو ہماری ترقی کو جکڑے بیٹھا ہے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025


Comments
Comments are closed.