ٹیکس مشینری: وزیرِ اعظم کا جزا و سزا کا دوٹوک اعلان
- اگر ہم آئی ایم ایف سے چھٹکارا حاصل کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں محاصل میں اضافہ کرنا ہوگا، شہباز شریف
وزیرِاعظم شہبازشریف نے ٹیکس مشینری کو واضح طور پر آگاہ کردیا ہے کہ جو ٹیکس افسران بہترین کارکردگی دکھائیں گے، انہیں زیادہ سے زیادہ مراعات دی جائیں گی، جبکہ ناقص کارکردگی دکھانے والے افسران کو سزا دی جائے گی۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعہ کو ایف بی آر ہیڈ کوارٹرز میں ایف بی آر افسران کے لئے نئے پرفارمنس مینجمنٹ سسٹم کے اجراء کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
ایف بی آر افسران کیلئے نیا پرفارمنس مینجمنٹ سسٹم اُن کی دیانت داری، ایمانداری اور فیلڈ میں کارکردگی کی بنیاد پر انہیں اے، بی، سی، ڈی اور ای کے طور پر گریڈ دینے پر مبنی ہے۔
وزیرِاعظم نے یہ بھی اعلان کیا کہ اس نظام کو دیگر سرکاری اداروں میں بھی نافذ کیا جائے گا تاکہ جزا و سزا کے کلچر کو فروغ دیا جا سکے اور اداروں کی کارکردگی کو بہتر بنایا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ جو ٹیکس افسران اچھی کارکردگی دکھائیں گے، انہیں عوامی سطح پر سراہا جائے گا، ترقی دی جائے گی اور مراعات کی پالیسی کے تحت ان کی حوصلہ افزائی کی جائے گی تاکہ وہ بہتر اور قابلِ قدر نتائج فراہم کریں۔
وزیرِ اعظم نے ٹیکس افسران کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ جو لوگ کام نہیں کریں گے، ان کے خلاف سزاؤں کا اطلاق کیا جائے گا۔
ایف بی آر افسران کی کارکردگی کو بہتر بنانے اور احتساب اور انعامات کے نظام کو فروغ دینے کے لئے وزیر اعظم نے افسران کی کارکردگی کا جائزہ لینے کے لئے مکمل طور پر خودکار اور ڈیجیٹل نظام کا آغاز کیا ہے۔ اس نظام کے ذریعے افسران اپنی کارکردگی کی بنیاد پر مالی مراعات اور ترقی کے اہل ہوں گے۔
ایف بی آر کے دورے کے دوران وزیرِاعظم کو پی آر اے ایل (پاکستان ریونیو آٹومیشن لمیٹڈ)، ڈیجیٹل انوائسنگ، اور حال ہی میں شروع کیے گئے پرفارمنس مینجمنٹ سسٹم پر بریفنگ دی گئی۔
ٹیکس افسران سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر ہم آئی ایم ایف سے چھٹکارا حاصل کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں محنت کر کے اپنے محاصل میں اضافہ کرنا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ ایف بی آر کے محصولات میں 27 فیصد اضافہ ہوا ہے جس پر ایف بی آر کی پوری ٹیم تعریف کی مستحق ہے۔
تاہم، انہوں نے کہا کہ یہ ایک طویل سفر ہے اور نظام میں موجود خامیوں کو دور کرنے کے لیے مزید کام کرنے کی ضرورت ہے۔
وزیراعظم نے موثر کارکردگی کے نظام کے اجراء پر وزیر خزانہ، سیکرٹری خزانہ، چیئرمین ایف بی آر اور پوری ٹیم کی کاوشوں کو سراہا۔
انہوں نے ایف بی آر کے نئے قائم کردہ ڈلیوری یونٹ کا بھی دورہ کیا اور افسران سے بات چیت کی۔
وزیرِ اعظم کو بتایا گیا کہ ایف بی آر میں ایک ڈیٹا پر مبنی فیصلہ سازی کا نظام متعارف کروایا جا رہا ہے۔ اس میں نادرا، بینکاری اداروں اور دیگر شعبوں سے ادائیگیوں اور اثاثہ جات کی خریداری کے متعلق ڈیٹا اکٹھا کیا جا رہا ہے۔ ایف بی آر کو بین الاقوامی معیارات سے ہم آہنگ کرنے اور ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے کے لیے بورڈ ایک جدید اور خودکار نظام کے نفاذ کی جانب پیش قدمی کررہا ہے۔
وزیرِاعظم کے ایف بی آر میں اصلاحات اور ڈیجیٹلائزیشن کے وژن کے تحت، مکمل ویلیو چین کو ڈیجیٹل بنایا جا رہا ہے۔ مزید برآں، ڈیجیٹل انوائسنگ سسٹم کے اجراء کی تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں اور یہ نظام جلد باضابطہ طور پر نافذ کر دیا جائے گا۔
بریفنگ کے دوران یہ بھی بتایا گیا کہ رواں مالی سال کے لیے ٹیکس ریٹرن فارمز کو مزید آسان بنایا گیا ہے۔ نئے نظام کے تحت 35 سے زائد اضافی کمپنیوں کو ٹیکس نیٹ میں لایا گیا ہے۔
وزیراعظم نے ایف بی آر کے نئے قائم کردہ ڈلیوری یونٹ کا بھی دورہ کیا جہاں انہوں نے افسران سے ملاقات کی اور نظام کا جائزہ لیا۔
انہوں نے اس سیٹ اپ کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ یونٹ میں کام کرنے والے افسران قوم کا قیمتی اثاثہ ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ افسران پاکستان کے ٹیکس نظام کو جدید بنانے اور قومی محاصل میں اضافے میں کلیدی کردار ادا کریں گے۔
وزیراعظم نے مزید کہا کہ ایف بی آر کو چاہیے کہ بغیر کسی ڈونر ایجنسی کی مدد کے بندرگاہوں پر اسکینر نصب کرے تاکہ درآمد شدہ اشیاء کی کم قیمت ظاہر کرنے اور غلط بیانی کی روک تھام ہوسکے۔ حکومت بندرگاہوں وغیرہ پر اسکینرز کی تنصیب کے لیے فنڈز فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ٹیکس حکام کے ساتھ بات چیت کے دوران سرمایہ کاروں کا احترام کیا جانا چاہئے۔
ایف بی آر کے افسران کو ملک کے ٹیکس دہندگان بشمول سرمایہ کاروں کے ساتھ منصفانہ رویہ اختیار کرنا چاہیے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025


Comments
Comments are closed.