BR100 Increased By (0.62%)
BR30 Increased By (0.87%)
KSE100 Increased By (0.42%)
KSE30 Increased By (0.4%)
BAFL 58.70 Increased By ▲ 0.26 (0.44%)
BIPL 25.50 Increased By ▲ 0.30 (1.19%)
BOP 34.34 Increased By ▲ 0.35 (1.03%)
CNERGY 8.17 Increased By ▲ 0.06 (0.74%)
DFML 20.97 Increased By ▲ 0.13 (0.62%)
DGKC 195.50 Increased By ▲ 2.53 (1.31%)
FABL 89.90 Increased By ▲ 0.11 (0.12%)
FCCL 53.41 Increased By ▲ 0.58 (1.1%)
FFL 18.08 Increased By ▲ 0.13 (0.72%)
GGL 19.55 Increased By ▲ 0.58 (3.06%)
HBL 286.21 Increased By ▲ 0.71 (0.25%)
HUBC 215.16 Increased By ▲ 0.78 (0.36%)
HUMNL 10.93 Increased By ▲ 0.05 (0.46%)
KEL 8.13 Increased By ▲ 0.11 (1.37%)
LOTCHEM 27.52 Decreased By ▼ -0.37 (-1.33%)
MLCF 87.13 Increased By ▲ 0.62 (0.72%)
OGDC 322.79 Increased By ▲ 2.83 (0.88%)
PAEL 39.80 Increased By ▲ 0.38 (0.96%)
PIBTL 17.36 Increased By ▲ 0.69 (4.14%)
PIOC 269.00 Increased By ▲ 2.94 (1.11%)
PPL 229.00 Increased By ▲ 0.82 (0.36%)
PRL 34.83 Increased By ▲ 0.15 (0.43%)
SNGP 99.50 Increased By ▲ 0.32 (0.32%)
SSGC 27.02 Increased By ▲ 0.42 (1.58%)
TELE 8.63 Increased By ▲ 0.35 (4.23%)
TPLP 8.62 Increased By ▲ 0.40 (4.87%)
TRG 69.65 Decreased By ▼ -0.06 (-0.09%)
UNITY 11.71 Increased By ▲ 0.04 (0.34%)
WTL 1.29 Increased By ▲ 0.01 (0.78%)
پاکستان

کاشتکاروں نے 15 ارب روپے کے گندم ریلیف پیکج کو مسترد کردیا

کسانوں کی مختلف تنظیموں نے حال ہی میں پنجاب حکومت کی جانب سے گندم کے کاشتکاروں کے لیے اعلان کردہ 15 ارب روپے کے...
شائع April 18, 2025 اپ ڈیٹ April 18, 2025 01:53pm

مختلف کسان تنظیموں نے پنجاب حکومت کی جانب سے گندم کے کاشتکاروں کے لیے اعلان کردہ 15 ارب روپے کے ریلیف پیکیج کو مسترد کردیا۔

کسان تنظیموں نے مطالبہ کیا ہے کہ ان کی محنت اور بڑھتی ہوئی پیداواری لاگت کو صحیح طور پر ظاہر کرتے ہوئے ان کی فصل کی مناسب اور منصفانہ قیمت دی جائے۔

کسان اتحاد پاکستان (کے آئی پی) کے مرکزی چیئرمین خالد حسین نے پیکیج پر تنقید کرتے ہوئے اسے کسانوں کے بجائے سرمایہ داروں اور مافیا کے لیے ریلیف قرار دیا۔ انہوں نے اس اقدام کو زرعی کمیونٹی کے لیے مؤثر حمایت کے بجائے کرپشن کا ایک نیا راستہ قرار دیا۔

خالد حسین نے خاص طور پر الیکٹرانک گودام رسید (ای ڈبلیو آر) کے نظام کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ نظام چھوٹے کسانوں پر بوجھ ڈالتے ہوئے امیر اسٹیک ہولڈرز کو فائدہ پہنچانے کے لئے ڈیزائن کیا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ آپ یورپی طرز کا نظام صرف اسی صورت میں نافذ کرسکتے ہیں جب آپ یورپی سطح پر ریلیف اور بنیادی ڈھانچہ فراہم کریں، چھوٹے کسانوں کو اسٹوریج رسیدوں کی ضرورت نہیں ہے – انہیں ببینکنگ کی پیچیدگیوں اور غیر ضروری دستاویزات میں پھنسایا جا رہا ہے جو سراسر ناانصافی ہے۔

انہوں نے حکومت کی علامتی مدد پر مزید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ صرف 2,727 روپے فی کسان محض ایک لولی پاپ ہے - یہ بالکل ناقابل قبول ہے۔ خالد حسین نے پاسکو اور فوڈ ڈپارٹمنٹ کے خاتمے کی بھی مذمت کی اور خبردار کیا کہ یہ اقدام بدعنوانی کو مزید ہوا دے گا۔

انہوں نے کہا کہ گندم کی سرکاری امدادی قیمت کا اعلان نہیں کیا گیا۔ کسانوں کو دھوکہ دیا جارہا ہے۔

چیئرمین کے آئی پی نے خبردار کیا کہ احتجاج میں مزید شدت آسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسان اتحاد کل اپنی نئی حکمت عملی کا اعلان کرے گا، حکومت کو ایک بڑا سرپرائز ملنے والا ہے۔

دریں اثنا، پاکستان کسان رابطہ کمیٹی (پی کے آر سی) نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی جانب سے اعلان کردہ کسان پیکیج کو مکمل طور پر مسترد کردیا۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025

Comments

Comments are closed.