پاکستان ٹیکس بار ایسوسی ایشن (پی ٹی بی اے) نے ٹیکس دہندگان کو معطلی سے قبل نوٹسز جاری کیے جانے اور ٹیکس وصولی کے جارحانہ طریقوں پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے چیئرمین راشد محمود لنگڑیال کو لکھے گئے خط میں پی ٹی بی اے نے اہم آپریشنل نااہلیوں اور نفاذ کے مسائل کو اجاگر کیا ہے جو ملک بھر میں کاروباری سرگرمیوں میں رکاوٹ بن رہے ہیں۔
خط میں ٹیکس دہندگان کو معطلی سے قبل نوٹس جاری کیے جانے اور ٹیکس وصولی کے جارحانہ طریقوں پر بڑھتی ہوئی تشویش کی نشاندہی کی گئی ہے جو کاروبار دوست ماحول پیدا کرنے کے حکومت کے بیان کردہ اہداف کے منافی ہیں۔ پی ٹی بی اے نے کہا کہ حکومت کی جانب سے ایف بی آر میں اصلاحات اور ڈیجیٹلائزیشن پر زور دینے کے باوجود زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں۔
ایک بنیادی تشویش وہ یہ ہے کہ ٹیکس افسران مبینہ طور پر متنازع ان پٹ ٹیکس کی فوری ادائیگی کا مطالبہ کرتے ہوئے معطلی سے قبل نوٹس جاری کررہے ہیں، بغیر کسی مناسب تصدیق کے۔ خط میں کہا گیا ہے کہ جب ٹیکس دہندگان اپنے دعوؤں کے جواز کے لیے دستاویزات پیش کرتے ہیں تو افسران تصدیقی طریقہ کار کو نظرانداز کر دیتے ہیں اور اگر فوری ادائیگی نہ کی جائے تو سیلز ٹیکس رجسٹریشن معطل کرنے کی دھمکی دیتے ہیں۔
ایسوسی ایشن نے مؤقف اختیار کیا کہ یہ رویہ ”کاروبار کے لیے سازگار ماحول فراہم کرنے کے حکومتی دعوے کے بالکل برعکس ہے“۔ ایسوسی ایشن نے زور دیا کہ کسی بھی معطلی سے پہلے سیلز ٹیکس ایکٹ کی دفعہ 11 کے تحت مقررہ تصدیقی طریقۂ کار پر مکمل عملدرآمد کیا جائے۔
پی ٹی بی اے نے مزید کہا کہ چیف کمشنرز کے دفاتر سیلز ٹیکس رجسٹریشن کی معطلی کے خلاف نمائندگی کے عمل میں تاخیر کررہے ہیں، جس کے باعث کاروباری سرگرمیاں طویل عرصے تک معطل رہتی ہیں۔
پی ٹی بی اے نے یہ تجویز بھی دی کہ نمائندگیوں کے عمل کو شفاف بنانے کے لیے آئی آر آئی ایس پورٹل پر مبنی نظام متعارف کرایا جائے، تاکہ اس کی مدت اور نتائج واضح ہوں۔ اس کے علاوہ، ایسوسی ایشن نے کراچی کے چیف ٹیکس آفس میں مخصوص تاخیر کی نشاندہی کی، جہاں وہ کمشنر جو ٹیکس قوانین کے تحت غیر منافع بخش تنظیموں کا درجہ دینے اور مختلف فنڈز کی چھوٹ کی منظوری کے ذمہ دار ہیں، ”شاذ و نادر ہی دفتر میں نظر آتے ہیں“، جس کی وجہ سے نہ صرف تاخیر پیدا ہو رہی ہے بلکہ مستحق تنظیموں پر ٹیکس بوجھ بھی بڑھ رہا ہے۔
ٹیکس بار نے ایف بی آر کے چیئرمین سے فوری مداخلت کی درخواست کی ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ فیلڈ دفاتر کو ان خدشات کے ازالے کے لیے باضابطہ ہدایات جاری کی جائیں۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025


Comments
Comments are closed.