BR100 Decreased By (-1.78%)
BR30 Decreased By (-2.17%)
KSE100 Decreased By (-1.48%)
KSE30 Decreased By (-1.65%)
BAFL 56.79 Increased By ▲ 0.06 (0.11%)
BIPL 26.83 Decreased By ▼ -0.15 (-0.56%)
BOP 33.00 Decreased By ▼ -0.75 (-2.22%)
CNERGY 10.13 Increased By ▲ 0.25 (2.53%)
DFML 17.75 Decreased By ▼ -0.25 (-1.39%)
DGKC 196.90 Decreased By ▼ -8.03 (-3.92%)
FABL 98.90 Decreased By ▼ -1.20 (-1.2%)
FCCL 51.46 Decreased By ▼ -1.63 (-3.07%)
FFL 16.20 Decreased By ▼ -0.32 (-1.94%)
GGL 25.09 Increased By ▲ 0.25 (1.01%)
HBL 296.95 Decreased By ▼ -2.87 (-0.96%)
HUBC 214.52 Decreased By ▼ -2.56 (-1.18%)
HUMNL 10.45 Decreased By ▼ -0.16 (-1.51%)
KEL 7.08 Decreased By ▼ -0.14 (-1.94%)
LOTCHEM 29.23 Decreased By ▼ -0.08 (-0.27%)
MLCF 88.95 Decreased By ▼ -3.21 (-3.48%)
OGDC 312.65 Decreased By ▼ -3.64 (-1.15%)
PAEL 41.01 Decreased By ▼ -1.03 (-2.45%)
PIBTL 15.98 Decreased By ▼ -0.43 (-2.62%)
PIOC 284.00 Decreased By ▼ -16.24 (-5.41%)
PPL 213.50 Decreased By ▼ -3.34 (-1.54%)
PRL 52.60 Increased By ▲ 1.74 (3.42%)
SNGP 99.00 Decreased By ▼ -2.72 (-2.67%)
SSGC 25.30 Decreased By ▼ -1.68 (-6.23%)
TELE 8.33 Decreased By ▼ -0.32 (-3.7%)
TPLP 13.25 Decreased By ▼ -0.14 (-1.05%)
TRG 57.40 Decreased By ▼ -1.86 (-3.14%)
UNITY 9.97 Decreased By ▼ -0.33 (-3.2%)
WTL 1.22 Decreased By ▼ -0.01 (-0.81%)

دبئی ورلڈ ٹریڈ سینٹر میں ہونے والی ”مڈل ایسٹ انرجی 2025“ نمائش میں دنیا بھر کی 1600 کمپنیوں نے شرکت کی۔ ان میں چند پاکستانی کمپنیاں بھی شامل تھیں جنہوں نے قابلِ تجدید توانائی کے حل پر خاص توجہ دی۔ اس نمائش میں کلین انرجی سے چلنے والی ٹیکنالوجی اور سمارٹ نظام بھی پیش کیے گئے۔

پاکستانی ماہرین توانائی کا ماننا ہے کہ قابلِ تجدید اور پائیدار حل ہی آگے کا راستہ ہیں۔

شہزاد پمپس کے ڈائریکٹر بابر شہزاد نے کہا کہ یہ وقت کی ضرورت ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کئی ممالک، خاص طور پر افریقہ میں، توانائی کا بحران اپنے عروج پر پہنچ چکا ہے۔

یہ وہی جگہ ہے جہاں شہزاد پمپس کے سولر انرجی سے چلنے والے، سبمرسیبل پمپ آتے ہیں۔

انہوں نے 7 سے 9 اپریل تک منعقد ہونے والی 49 ویں مڈل ایسٹ انرجی نمائش میں بزنس ریکارڈر سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ پمپ سولر انرجی سے چلتے ہی یا ہم بیٹری بیک اپ استعمال کرسکتے ہیں، ان پمپس کی خاص بات یہ ہے کہ اس کے استعمال کیلئے سولر پینلز کے درمیان کسی کنورٹر یا انورٹر کی ضرورت نہیں ہوتی۔

شہزاد نے بتایا کہ توانائی کے روایتی ذرائع خاص طور پر بجلی اور پٹرول کی قیمتوں میں مسلسل اور تیز اضافے کے پیش نظر سولر پینل کی جانب منتقلی ناگزیر تھی۔

انہوں نے پاکستان، افریقہ، مشرق وسطیٰ اور ایران میں اپنے صارفین کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ یہی وجہ ہے کہ وہ قابل تجدید توانائی کی طرف بڑھ رہے ہیں۔

شہزاد پمپس، جن کا ہیڈ آفس فیصل آباد میں ہے، تقریبا پانچ دہائیوں سے مسابقتی حیثیت رکھتے ہوئے کمپنی وقت سے ہم آہنگ رہ کر خود کو دور جدید کے تقاضوں کے مطابق ڈھال رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر ہم نئی تکنیکی ترقی نہیں کرتے ہیں، اپنی مقامی مارکیٹ اور بین الاقوامی مارکیٹ میں نئی تکنیکی اشیاء کو متعارف نہیں کرتے تو ہماری بقا ممکن نہیں۔

ایم ایم ای جیسے تجارتی ایونٹس سیکھنے کے اہم مواقع فراہم کرتے ہیں جو کمپنیوں کو ان کی تحقیق اور ترقی کو آگے بڑھانے میں مدد فراہم کرتے ہیں۔

اثر پیدا کرنا

فاسٹ کیبلز کے منیجر بزنس ڈیولپمنٹ علی شہزاد نے کہا کہ اس نمائش میں جو تاثر پیدا کیا گیا ہے وہ صرف فروخت سے متعلق نہیں بلکہ اس کا تعلق بہترین انداز میں اثراندازی پیدا کرنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ وہ کمپنیاں جو حقیقی معنوں میں کاروبار پر توجہ مرکوز رکھتی ہیں وہ اپنے گاہکوں کو سنتی ہیں اور اس پر توجہ دیتی ہیں۔

علی شہزاد نے کہا کہ آپ کسٹمرز کی مشکلات کو سمجھنے کیلئے تیار ہیں۔

فاسٹ کیبلز ، جیسا کہ نام سے ظاہر ہوتا ہے ، بنیادی طور پر بجلی کی کیبلز تیار کرتی ہیں ، لیکن اس نے حال ہی میں مقامی مارکیٹ میں خلا دیکھنے کے بعد ایل ای ڈی لائٹنگ کے دائرے میں قدم رکھا ہے۔

علی شہزاد نے کہا کہ اس خاص شعبے میں کوئی مقامی کمپنی نہیں تھی جو اچھے قیمت پر بہترین معیار فراہم کر سکے، اس لیے ہم نے اس میں قدم رکھنے کا فیصلہ کیا

انہوں نے مزید کہا کہ ہم ایک ایسا حل لے کر آتے ہیں جہاں ہم وہی خصوصیات، یا وہی تجربہ دیتے ہیں جو کوئی بھی میگا برانڈ آپ کو دیتا ہے لیکن ہماری طرف سے اس کی قیمت انتہائی کم ہوتی ہے۔

یہ پروڈکٹ ابتدائی طور پر پاکستان میں لانچ کی گئی تھی جہاں ایک سازگار ردعمل نے فاسٹ کیبلز کو اپنی ایل ای ڈی مصنوعات کو بیرون ملک لے جانے کی ترغیب دی۔

گاہکوں کو درپیش مشکلات کے علاوہ دبئی کے ایم ایم ای جیسے بڑے صنعتی ایونٹس میں شرکت کمپنیوں کو مقامی سطح پر درپیش خلا کو بھی اجاگر کرتی ہے۔

بین الاقوامی مسابقت

اس مسابقت پر گہری نگاہ ڈالنے سے پی ای ایل کے منیجر بزنس ڈیولپمنٹ - ایکسپورٹ جواد خالد کو پتہ چلتا ہے کہ ملک کے اندر کون سی رکاوٹیں ان کی کمپنی کیلئے نقصان کا سبب بن رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم دیکھتے ہیں کہ دیگر حکومتیں برآمدات پر بہت زیادہ چھوٹ فراہم کرتی ہیں، ان کا (کاروباری) طریقہ کار بہت آسان ہے، جبکہ جب ہم ان کے ساتھ اپنا موازنہ کرتے ہیں، تو ہماری برآمدات پر ڈیوٹیز ہیں، بینکنگ چینلز کے ساتھ ساتھ ہمیں دیگر مشکلات بھی درپیش ہوتی ہیں، ہم یہ مسائل حل کیے بغیر ڈالرز نہیں لاسکتے۔

اس سب کے باوجود فاسٹ کیبلز کی طرح پی ای ایل بھی اپنی عالمی رسائی کو بڑھانے پر توجہ مرکوز کررہی ہے۔

جواد خالد نے کہا کہ پہلے ہم اپنے ٹرانسفارمرز افریقی مارکیٹ اور مشرق وسطی کی مارکیٹ میں برآمد کر رہے تھے لیکن اب ہم امریکی مارکیٹ میں بھی داخل ہو گئے ہیں، ہم اب اکثر اپنے ٹرانسفارمرز امریکہ کو برآمد کر رہے ہیں۔

تاہم انہوں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے عائد کردہ محصولات کی وجہ سے بین الاقوامی تجارت میں ہلچل نے کچھ صارفین میں ہچکچاہٹ پیدا کردی ہے۔

خالد کا کہنا تھا کہ اس وقت سچ کہوں تو ہمارے کچھ احکامات کو روک دیا گیا ہے، بدقسمتی سے دیگر تمام کمپنیوں اور دیگر تمام ممالک کی طرح ہم بھی اس ٹیرف سے متاثر ہو رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ باقی دنیا کی طرح پی ای ایل بھی یہ دیکھنے کے لئے متجسس ہے کہ آنے والے دنوں میں عالمی تجارت کس طرح ترقی کرے گی۔

جواد خالد نے کہا کہ چین پر جو ڈیوٹیاں عائد کی جا رہی ہیں، یہ کوئی مسئلہ نہیں ہے، کیونکہ وہ پاکستان پر عائد محصولات سے کہیں زیادہ ہیں۔

لیکن بعض حریف، جیسے ترکی، ٹیرف کے باوجود تھوڑے سے فائدے میں ہیں۔

خالد نے کہا کہ ترکی پر اب صرف 10 فیصد ٹیرف ہے، لہذا یہ ہمیں ترکی کے مقابلے میں بہت نقصان دہ پوزیشن میں ڈال دے گا۔

تاہم، پی ای ایل، جو پہلے سے ہی ایک معروف پاکستانی برانڈ ہے، مزید بین الاقوامی مینوفیکچرنگ معیارات حاصل کرکے اپنی مسابقت میں اضافہ جاری رکھے ہوئے ہے۔

جواد خالد نے کہا کہ پہلے ہم آئی ای سی معیار پر ٹرانسفارمرز تیار کر رہے تھے، لیکن امریکہ کو آئی ای معیارکی ضرورت تھی، اب ہم آئی ای معیار کے مطابق مینوفیکچرنگ کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ امریکی مارکیٹ میں یو ایل (انڈر رائٹرز لیبارٹریز) سرٹیفیکیشن کی ضرورت ہے، لہذا اب ہم اس کے لئے بھی اپنی کمپنی کی منظوری حاصل کرنے کے مراحل سے گزر رہے ہیں۔

اے سی ایم گروپ آف انڈسٹریز کا ایک اور معروف پاکستانی برانڈ اوساکا بیٹریز بھی موٹر بائیکس کے لیے لیڈ ایسڈ اور گریفین ای وی بیٹریاں تیار کرکے قابل تجدید توانائی کے شعبے میں اپنی گرفت مضبوط کرنے کے لیے کام کر رہا ہے۔

پاکستان میں اس وقت ای بائیکس کی اتنی مانگ نہیں ہے لیکن متحدہ عرب امارات ایک مضبوط مارکیٹ ہے، جس کی وجہ وہاں کام کرنے والی مختلف ڈلیوری کمپنیاں ہیں۔

اس سال کی مڈل ایسٹ انرجی نمائش کے لیے اوساکا ایک بہترین انتخاب تھا جس میں ”دی بیٹری شو مڈل ایسٹ“ اور ”دی بیٹری شو کانفرنس“ کا آغاز بھی ہوا جو متحدہ عرب امارات کے وزارت توانائی و انفراسٹرکچر کے زیرِ سرپرستی دبئی کے ورلڈ ٹریڈ سینٹر میں منعقد ہوئی۔

اوساکا پاکستان میں ری سائیکلنگ لیڈ کے ذریعے اپنے دیرینہ عزائم کو آگے بڑھا رہی ہے جبکہ پاکستان میں لیتھیم آئن بیٹری پلانٹ لگانے کی بھی کوشش کر رہی ہے۔

متحدہ عرب امارات کی وزارت توانائی و انفراسٹرکچر کی حمایت سے ایم ایم ای میں 150 سے زائد کمپنیوں اور ماہرین توانائی نے اس شعبے میں اہم تبدیلیوں، عالمی توانائی مارکیٹ کی صورتحال اور یہ کہ کس طرح مصنوعی ذہانت (اے آئی) ایک پائیدار اور سستی توانائی کے مستقبل کے قیام میں مدد فراہم کر رہی ہے، پر تبادلہ خیال کیا۔

Comments

Comments are closed.