انسٹیٹیوٹ آف کاسٹ اینڈ مینجمنٹ اکاؤنٹنٹس آف پاکستان (آئی سی ایم اے) نے اپنے ریسرچ اینڈ پبلیکیشنز ڈپارٹمنٹ کے ذریعے پاکستانی برآمدات پر امریکہ کی جانب سے حال ہی میں عائد کیے گئے 29 فیصد جوابی ٹیرف کے اثرات پر ایک تجزیاتی رپورٹ جاری کی ہے۔
اگرچہ یہ ٹیرف کئی اقسام کی اشیاء پر لاگو ہوتا ہے لیکن آئی سی ایم اے کی تجزیاتی رپورٹ خاص طور پر امریکہ کو برآمد کی جانے والی پاکستانی ٹیکسٹائل مصنوعات پر اس کے اثرات کا جائزہ لیتی ہے، کیونکہ پاکستان کی امریکہ کو کل برآمدات میں سے 70 فیصد سے زائد حصہ ٹیکسٹائل مصنوعات پر مشتمل ہے۔
رپورٹ میں نشاندہی کی گئی ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اچانک پالیسی فیصلے سے پاکستان کے ٹیکسٹائل شعبے کو قلیل مدت میں سنگین چیلنجز کا سامنا ہے۔ نیا ٹیرف برآمدات کے حجم میں کمی، امریکی آرڈرز کا کم ٹیرف والے ممالک کی جانب منتقل ہونے اور بالخصوص چھوٹے اور درمیانے برآمد کنندگان میں ممکنہ بیروزگاری اور فیکٹریوں کی بندش جیسے خطرات کو جنم دے سکتا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ لاگت میں اضافے اور منافع کی شرح میں کمی سے پاکستان کے ٹیکسٹائل شعبے کی مسابقت مزید متاثر ہو سکتی ہے۔ تاہم، ٹیرف کے نفاذ پر 90 دن کی عارضی مہلت حکومتِ پاکستان کے لیے ایک قیمتی موقع فراہم کرتی ہے تاکہ وہ امریکی انتظامیہ سے مؤثر مذاکرات کر کے ممکنہ ریلیف حاصل کر سکے۔
آئی سی ایم اے کی تجزیاتی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ان چیلنجز کے باوجود ایک اسٹریٹجک موقع بھی موجود ہے۔ پاکستان کو جہاں 29 فیصد ٹیرف کا سامنا ہے، وہیں اس کے خطے کے کئی حریف ممالک جیسے چین (جو اب 125 فیصد ٹیرف کے تحت ہے)، بنگلہ دیش (37 فیصد)، ویت نام (46 فیصد)، کمبوڈیا (49 فیصد) اور سری لنکا (44 فیصد) پر اسی امریکی پالیسی کے تحت زیادہ ٹیرف عائد کیے گئے ہیں۔ تاہم بھارت اور ترکیہ کو 26 فیصد اور 10 فیصد کے کم ٹیرف کی وجہ سے نسبتاً فائدہ حاصل ہے جس سے پاکستانی برآمدات امریکی مارکیٹ میں موازنہ کرنے کے لحاظ سے مشکلات کا شکار ہورہی ہیں۔
آئی سی ایم اے نے تجویز دی ہے کہ فوری طور پر امریکہ کے ساتھ سفارتی تعلقات کو مضبوط کیا جائے تاکہ ٹیرف میں نرمی حاصل کی جا سکے یا پاکستانی ٹیکسٹائل کی مصنوعات کے لیے ترجیحی رسائی حاصل کی جا سکے۔ یہ بات خوش آئند ہے کہ وزیر خزانہ محمد اورنگ زیب نے حال ہی میں اعلان کیا ہے کہ پاکستان کا ایک وفد تجارتی مذاکرات کے لیے جلد امریکہ کا دورہ کرے گا ۔ یہ منصوبہ بند ملاقات پاکستانی برآمدات پر عائد ٹیرف کے مسئلے کو اُٹھانے اور زیادہ سازگار تجارتی شرائط کے لیے بات کرنے کا ایک بروقت موقع فراہم کرتی ہے۔
آئی سی ایم اے نے تجویز دی ہے کہ حکومت کو ٹیکسٹائل سیکٹر کو فوری مدد فراہم کرنے پر غور کرنا چاہیے، جیسے کہ کپاس کے دھاگے جیسے ضروری خام مال پر ڈیوٹیز میں کمی کرنا اور پیداواری اخراجات کو کم کرنے کے لیے ٹیکس مراعات متعارف کرانا تاکہ عالمی سطح پر مقابلے کی صلاحیت کو برقرار رکھا جا سکے۔ آئی سی ایم اے نے یہ بھی کہا ہے کہ حکومت کو بھارتی اور ترک برآمدکنندگان کے ساتھ امریکی مارکیٹ میں زیادہ مؤثر طریقے سے مقابلہ کرنے کے لیے ہدفی حکمت عملی تیار کرنی چاہیے۔ اس کے ساتھ ہی پاکستان کو یورپی یونین میں اپنی برآمدات کو بڑھانا چاہیے، جہاں امریکہ کے ٹیرف کی وجہ سے عالمی سپلائی چین میں تبدیلیاں نئے مواقع پیدا کرسکتی ہیں۔
رپورٹ میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ پاکستان کو اعلیٰ معیار کی ٹیکسٹائل مصنوعات جیسے کہ ڈینم، نٹ ویئر اور فیشن گارمنٹس کی طرف توجہ مرکوز کرنی چاہیے—ایسی مصنوعات کے شعبے ہیں جہاں پاکستان پہلے ہی عالمی سطح پر معیار اور ہنر کے لحاظ سے پہچانا جاتا ہے۔
مزید برآں، آئی سی ایم اے نے روایتی منڈیوں کے علاوہ برآمدی مقامات کو متنوع بنانے کی اہمیت پر زور دیا ہے۔ اس میں گلف، وسطی ایشیا، افریقہ اور جنوب مشرقی ایشیا جیسے اعلیٰ امکانات والی خطوں میں ویلیو ایڈڈ مصنوعات کے ذریعے توسیع کی تجویز دی گئی ہے۔ پالیسی سازوں کو امریکی درآمدات پر پاکستان کے ٹیرف کے نظام کا جائزہ لینے کی تجویز دی گئی ہے، اور ساتھ ہی دیگر برآمد کنندہ ممالک پر امریکی ٹیرف پالیسی کی مسلسل نگرانی کرنے کی ضرورت ہے تاکہ حکمت عملی کے تحت تبدیلیاں کی جاسکیں۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025


Comments
Comments are closed.