عالمی منڈی میں جمعرات کے روز خام تیل کی قیمتوں میں کمی آئی ہے کیوں کہ امریکہ اور جنگ کے درمیان تجارتی جنگ میں شدت اور کساد بازاری کے خدشات ٹرمپ کی جانب سے بیشتر ممالک کے خلاف متعدد ٹیرف 90 دن کیلئے معطل کیے جانے کے بعد ملنے والے ریلیف پر غالب آگئے۔
برینٹ کروڈ کے سودے 1.77 ڈالر یا 2.7 فیصد کی کمی سے 63.71 ڈالر فی بیرل پر طے پائے جبکہ یو ایس ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ خام تیل کے سودے 1.77 ڈالر یا 2.84 فیصد کی کمی سے 60.58 ڈالر پر ہوئے۔
بدھ کو ایک غیر مستحکم سیشن کے بعد قیمتوں میں کمی آئی کیوں کہ خام تیل کی قیمتیں دن کے آغاز میں 7 فیصد تک گر گئی تھیں تاہم ٹرمپ کے محصولات پر 90 دن کے توقف کے اعلان کے بعد یہ قیمتیں تقریباً 4 فیصد تک بڑھ گئی تھیں حالانکہ ٹرمپ نے 10فیصد کا بیس لائن ٹیرِف برقرار رکھا۔
تاہم اس ریلیف میں چین کو شامل نہیں کیا گیا۔ ٹرمپ نے چینی درآمدات پر محصولات کو 104 فیصد سے بڑھا کر 125 فیصد کر دیا، جس سے دنیا کی دوسری سب سے بڑی معیشت اور خام تیل کے معروف صارف کے ساتھ تجارتی تعطل مزید گہرا ہو گیا۔
پینمور لیبرم کے تجزیہ کار ایشلے کیلٹی نے کہا کہ امریکہ اور چین کے درمیان تجارتی جنگ نے تیل کی طلب میں اضافے کے بارے میں غیر یقینی صورتحال پیدا کردی ہے اور قیمتوں میں کمی کا زیادہ خطرہ ہے۔
کیلٹی نے کہا کہ اتار چڑھاؤ زیادہ رہتا ہے اور یہ دیکھنا مشکل ہے کہ مستقبل قریب میں تیل کی قیمتیں کہاں مستحکم ہوسکتی ہیں۔
چین نے جمعرات سے امریکی مصنوعات پر 84 فیصد ٹیرف عائد کرتے ہوئے اضافی درآمدی لیوی کا بھی اعلان کیا ہے۔
ٹیرف معطل کیے جانے کے باوجود سیکسو بینک کے ہیڈ آف کموڈیٹی اسٹریٹیجی اولے ہینسن نے کہا کہ دنیا کو اب بھی 1930 کی دہائی کے بعد سے سب سے شدید تجارتی رکاوٹوں کا سامنا ہے۔
ہینسن نے کہا کہ انتہائی غیر یقینی صورتحال اب بھی موجود ہے، اس مرحلے پر خام تیل کی بڑی بحالی کا امکان ممکن نہیں ہے کیوں کہ مارکیٹ کو کمزور طلب اور اوپیک کی طرف سے پیداوار کے بڑھانے کے خطرے سے نمٹنا ہوگا۔
اے این زیڈ ریسرچ کے تجزیہ کاروں نے متنبہ کیا ہے کہ شدید عالمی سست روی اب بھی قیمتوں کو کم کر سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر عالمی کساد بازاری کا بدترین منظر (جو ہمارا بنیادی خیال نہیں ہے) سامنے آتا ہے تو قیمتوں میں مزید کمی کی گنجائش ہو سکتی ہے، تیل کے لیے ہم 50 ڈالر فی بیرل کو ایک ممکنہ سپورٹ لیول سمجھتے ہیں۔
سرمایہ کاروں کی نظریں اس وقت سپلائی کے مختلف عوامل پر مرکوز ہیں۔
کینیڈا سے امریکہ جانے والی کیسٹون آئل پائپ لائن بدھ کے روز فورٹ رینسم، شمالی ڈکوٹا کے قریب تیل کے اخراج کے بعد بند رہی جبکہ اسے سروس پر واپس لانے کے منصوبوں کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب کیسپین پائپ لائن کنسورشیم نے بحیرہ اسود میں پہلے سے بند کیے گئے دو مقامات میں سے ایک پر تیل کی لوڈنگ دوبارہ شروع کر دی ہے کیونکہ ایک عدالت نے روسی ریگولیٹر کی جانب سے مغربی حمایت یافتہ گروپ کی تنصیب پر عائد پابندیاں اٹھا لی ہیں۔
انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کا کہنا ہے کہ امریکہ میں خام تیل کی انوینٹریز میں 4 اپریل کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران 2.6 ملین بیرل کا اضافہ ہوا جو رائٹرز کے سروے میں 1.4 ملین بیرل اضافے کی توقعات سے تقریبا دوگنا ہے۔


Comments
Comments are closed.