BR100 Increased By (1.26%)
BR30 Increased By (1.3%)
KSE100 Increased By (1.12%)
KSE30 Increased By (1.15%)
BAFL 57.88 Increased By ▲ 0.68 (1.19%)
BIPL 27.30 Increased By ▲ 0.41 (1.52%)
BOP 34.42 Increased By ▲ 0.73 (2.17%)
CNERGY 10.95 Increased By ▲ 0.34 (3.2%)
DFML 18.50 Increased By ▲ 0.45 (2.49%)
DGKC 211.50 Increased By ▲ 1.60 (0.76%)
FABL 101.20 Increased By ▲ 2.25 (2.27%)
FCCL 54.34 Increased By ▲ 0.60 (1.12%)
FFL 16.88 Increased By ▲ 0.42 (2.55%)
GGL 23.96 Increased By ▲ 0.14 (0.59%)
HBL 305.50 Increased By ▲ 3.08 (1.02%)
HUBC 222.19 Increased By ▲ 3.25 (1.48%)
HUMNL 10.74 Increased By ▲ 0.20 (1.9%)
KEL 7.44 Increased By ▲ 0.16 (2.2%)
LOTCHEM 30.01 Increased By ▲ 0.36 (1.21%)
MLCF 97.15 Increased By ▲ 0.79 (0.82%)
OGDC 321.00 Increased By ▲ 2.78 (0.87%)
PAEL 42.53 Increased By ▲ 0.76 (1.82%)
PIBTL 17.03 Increased By ▲ 0.22 (1.31%)
PIOC 298.16 Increased By ▲ 1.54 (0.52%)
PPL 223.35 Increased By ▲ 3.18 (1.44%)
PRL 52.70 Increased By ▲ 3.65 (7.44%)
SNGP 107.00 Increased By ▲ 0.87 (0.82%)
SSGC 29.55 Increased By ▲ 0.41 (1.41%)
TELE 8.94 Increased By ▲ 0.12 (1.36%)
TPLP 12.78 Increased By ▲ 0.27 (2.16%)
TRG 60.80 Increased By ▲ 0.58 (0.96%)
UNITY 10.20 Increased By ▲ 0.18 (1.8%)
WTL 1.25 Increased By ▲ 0.02 (1.63%)

چینی کی قیمتوں میں کمی کے رجحان پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے نائب وزیراعظم محمد اسحاق ڈار نے پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن کو ہدایت دی ہے کہ وہ اس معاہدے پر مکمل عملدرآمد یقینی بنائے جس کے تحت ملک بھر میں چینی کی خوردہ قیمت 164 روپے فی کلو یا اس سے کم مقرر کی گئی ہے۔

بزنس ریکارڈر کی جانب سے اسلام آباد/راولپنڈی کی مارکیٹوں میں کیے گئے سروے کے مطابق چینی کی قیمت خوردہ مارکیٹ میں 170 سے 180 روپے فی کلو کے درمیان ہے۔نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے ایک اعلیٰ سطح اجلاس کی صدارت کی، جس میں چینی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں پر عوامی تشویش کے پیش نظر مارکیٹ کی صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔ حکومت نے مارکیٹ کو مستحکم کرنے اور صارفین کے لیے چینی کی دستیابی کو یقینی بنانے کے لیے اپنی کوششیں تیز کر دی ہیں۔

اعلامیے کے مطابق اجلاس میں حکومت اور پی ایس ایم اے کے درمیان طے شدہ معاہدے پر عملدرآمد کا جائزہ لیا گیا، جس کے تحت ملک بھر میں چینی کی زیادہ سے زیادہ خوردہ قیمت 164 روپے فی کلو مقرر کی گئی تھی۔ اسحاق ڈار نے چینی کی قیمتوں میں حالیہ کمی کے رجحان پر اطمینان کا اظہار کیا اور اس کمی کو سخت مارکیٹ نگرانی اور ریگولیٹری اقدامات کے مؤثر نفاذ کا نتیجہ قرار دیا۔

اجلاس کے دوران انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت چینی کی فراہمی کی کڑی نگرانی جاری رکھے گی اور ملک بھر میں قیمتوں کو قابو میں رکھتے ہوئے عوام کے لیے اسے سستی بنانے کے اقدامات کرے گی۔

اسحاق ڈار نے پی ایس ایم اے اور متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ وہ مقررہ قیمت کی حد کو برقرار رکھیں اور مارکیٹ میں کسی بھی قسم کی ہیرا پھیری کو روکیں۔ حکومت نے بھی صورتحال پر گہری نظر رکھنے کے لیے ایک مستقل مانیٹرنگ نظام قائم رکھنے کا عہد کیا ہے۔

پاکستان میں چینی کے بحران کی بنیادی وجوہات میں سپلائی چین میں رکاوٹیں، ذخیرہ اندوزی، قیاس آرائی پر مبنی تجارت اور پیداوار میں کمی شامل ہیں۔ گزشتہ چند ماہ کے دوران چینی کی قیمتیں تیزی سے بڑھ کر 180 سے 190 روپے فی کلو تک پہنچ گئیں۔ تاہم، حکومتی مداخلت نے مصنوعی قلت کو روکا، ملوں کے ساتھ طے شدہ معاہدوں پر عملدرآمد یقینی بنایا اور ذخیرہ اندوزوں کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کو کنٹرول کیا۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025

Comments

Comments are closed.