BR100 Increased By (0.77%)
BR30 Increased By (0.54%)
KSE100 Increased By (0.67%)
KSE30 Increased By (0.7%)
BAFL 57.50 Increased By ▲ 0.30 (0.52%)
BIPL 27.19 Increased By ▲ 0.30 (1.12%)
BOP 34.21 Increased By ▲ 0.52 (1.54%)
CNERGY 10.75 Increased By ▲ 0.14 (1.32%)
DFML 18.20 Increased By ▲ 0.15 (0.83%)
DGKC 209.90 No Change ▼ 0.00 (0%)
FABL 101.00 Increased By ▲ 2.05 (2.07%)
FCCL 54.85 Increased By ▲ 1.11 (2.07%)
FFL 16.72 Increased By ▲ 0.26 (1.58%)
GGL 25.11 Increased By ▲ 1.29 (5.42%)
HBL 303.97 Increased By ▲ 1.55 (0.51%)
HUBC 220.23 Increased By ▲ 1.29 (0.59%)
HUMNL 10.58 Increased By ▲ 0.04 (0.38%)
KEL 7.44 Increased By ▲ 0.16 (2.2%)
LOTCHEM 29.71 Increased By ▲ 0.06 (0.2%)
MLCF 95.60 Decreased By ▼ -0.76 (-0.79%)
OGDC 318.24 Increased By ▲ 0.02 (0.01%)
PAEL 43.00 Increased By ▲ 1.23 (2.94%)
PIBTL 16.84 Increased By ▲ 0.03 (0.18%)
PIOC 298.99 Increased By ▲ 2.37 (0.8%)
PPL 221.40 Increased By ▲ 1.23 (0.56%)
PRL 51.62 Increased By ▲ 2.57 (5.24%)
SNGP 106.73 Increased By ▲ 0.60 (0.57%)
SSGC 28.58 Decreased By ▼ -0.56 (-1.92%)
TELE 8.89 Increased By ▲ 0.07 (0.79%)
TPLP 12.99 Increased By ▲ 0.48 (3.84%)
TRG 59.99 Decreased By ▼ -0.23 (-0.38%)
UNITY 10.65 Increased By ▲ 0.63 (6.29%)
WTL 1.26 Increased By ▲ 0.03 (2.44%)
اداریہ

انتہائی منفی تاثر

شائع اپ ڈیٹ

وفاقی کابینہ نے جمعہ کو وفاقی وزراء، وزرائے مملکت اور مشیروں کی تنخواہوں میں 188 فیصد اضافے کی منظوری دے دی۔

یہ فیصلہ وزیرِاعظم شہباز شریف کی جانب سے گزشتہ ماہ کابینہ کی تعداد 21 سے بڑھا کر 55 کرنے کے بعد کیا گیا ہے جس میں اب 30 وفاقی وزراء، 9 وزرائے مملکت، 4 مشیر،4 خصوصی معاونین اور 8 وزیرِاعظم کے معاونینِ خصوصی شامل ہیں۔

تشویش ہے کہ بعض وزارتوں میں ایک سے زائد افراد کی تقرری، جو مختلف سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھتے ہیں، فیصلوں میں رکاوٹ اور انتشار پیدا کر سکتی ہے۔

اس کی مثال وزارت داخلہ میں دیکھی جاسکتی ہے جہاں محسن نقوی وزیر داخلہ، طلال چوہدری وزیر مملکت برائے داخلہ اور پرویز خٹک وزیرِاعظم کے مشیر برائے داخلہ مقرر کیے گئے ہیں۔

تاہم سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اضافہ دراصل اُن لوگوں کو نوازنے کی پالیسی کا حصہ ہے جنہوں نے حکومت کی حمایت کی۔

کابینہ کے کئی ارکان نہ تو منتخب اراکینِ پارلیمنٹ ہیں اور نہ ہی پارٹی قیادت کے ذریعے سینیٹ کے لیے چُنے گئے ہیں۔ تاہم، یہ قابلِ ذکر ہے کہ کابینہ ارکان کی تنخواہوں میں اضافہ اُس 200 فیصد اضافے کے علاوہ ہوگا، جو فروری 2025 میں قومی اسمبلی میں متفقہ طور پر منظور کیے گئے ”اراکینِ پارلیمنٹ (تنخواہیں اور مراعات) ترمیمی بل 2025“ کے تحت کیا گیا۔ اس اضافے کو یہ جواز دیا گیا کہ اراکینِ پارلیمنٹ کی تنخواہیں وفاقی سیکریٹریوں کے برابر، یعنی 5 لاکھ 19 ہزار روپے ماہانہ کی جائیں۔

یہ فیصلے جب ملک کی مالی حالت انتہائی تنگ ہے اور غیر حقیقی محصولات کے اہداف واضح ہیں — یعنی رواں سال گزشتہ سال کے مقابلے میں 40 فیصد زیادہ ٹیکس وصولی کا ہدف رکھا گیا ہے— تشویشناک ہیں۔ اس کے علاوہ معاشی ترقی بھی سخت مالیاتی پالیسیوں کی زد میں ہے، جو حکام آئی ایم ایف کی منظوری سے نافذ کررہے ہیں۔

اس سے واضح نتیجہ نکلتا ہے کہ عوامی نمائندوں اور کابینہ ارکان کی تنخواہوں میں اتنا بڑا اضافہ کرنا بالکل مناسب وقت نہیں تھا، خاص طور پر جب ان کی اوسط آمدنی پہلے ہی پاکستان کے صرف 5 فیصد امیر ترین افراد کے برابر ہے۔

اور اگر ملک میں موجودہ 44 فیصد غربت کی شرح کو بھی مدنظر رکھا جائے تو یہ حیران کن ہے کہ عوامی نمائندے عوام کی مشکلات سے کتنے بے پرواہ نظر آتے ہیں۔

یہ سوال بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ کیا ان غیر منطقی فیصلوں کی وجہ سے ہی آئی ایم ایف نے وزیرِاعظم کو 23 مارچ کو ٹیرف میں کمی کے اعلان کی اجازت دینے سے انکار کیا؟ وزیرِاعظم نے 15 مارچ کو، آئی ایم ایف وفد کی روانگی کے اگلے ہی روز، ایک پریس ریلیز میں یہ وعدہ کیا تھا، جبکہ یہ وفد جاری پروگرام کے پہلے جائزے کے بعد کسی اسٹاف لیول معاہدے تک پہنچے بغیر واپس چلا گیا، جو قسط کی ادائیگی کے لیے ضروری تھا۔

وزیرِاعظم کے بیان میں کہا گیا کہ “تیل کی قیمتوں میں رد و بدل اور دیگر مالیاتی اقدامات سے پیدا ہونے والی گنجائش کو احتیاط سے استعمال کیا جا رہا ہے تاکہ ایک مؤثر ریلیف پیکیج تیار کیا جا سکے۔

تنخواہوں میں اضافہ اور کابینہ کی تعداد دُگنی کرنا سالانہ بجٹ کے مجموعی 18.877 کھرب روپے میں ایک چھوٹا حصہ ہوگا لیکن عوام میں شدید غصہ پایا جاتا ہے کیونکہ ایسے اقدامات عوامی مسائل سے مکمل لاتعلقی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025

Comments

Comments are closed.