وفاقی وزیرخزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے یورپی یونین کی سفیر ڈاکٹر رِینا کیونکا سے ملاقات کی جس میں جنرلائزڈ اسکیم آف پریفرنسز پلس (جی ایس پی پلس) سہولت کے مستقبل پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
وزارت خزانہ کی جانب سے جمعہ کو جاری کردہ بیان کے مطابق دونوں فریقوں نے باہمی دلچسپی کے متعدد امور پر تبادلہ خیال کیا، خاص طور پر یورپی یونین اور پاکستان کے درمیان کاروباری اور سرمایہ کاری تعلقات کو مضبوط بنانے پر گفتگو ہوئی۔
ملاقات کے دوران محمد اورنگزیب نے پاکستان کیلئے یورپی یونین کی حمایت کو سراہا، خصوصاً جی ایس پی پلس سہولت کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ بیان کے مطابق انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ جی ایس پی پلس پاکستان کی برآمدات پر مبنی ترقی کی کوششوں کیلئے ایک اہم معاون ثابت ہوا ہے۔
محمد اورنگزیب نے یورپی دارالحکومتوں سے مؤثر روابط بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا تاکہ اہم امور، خصوصاً جی ایس پی پلس سہولت کے تسلسل پر تعمیری مذاکرات کیے جا سکیں جو آئندہ برسوں میں یورپی یونین کے ساتھ پاکستان کے تجارتی تعلقات کے لیے کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔
واضح رہے کہ یورپی یونین کا جی ایس پی پلس ایک خصوصی مراعاتی انتظام ہے جو تجارت کو سہولت فراہم کرکے بہتر طرز حکمرانی اور پائیدار ترقی کو فروغ دیتا ہے۔ اس مراعت کے تحت پاکستان کو تقریباً 66 فیصد ٹیرف لائنوں پر زیرو ریٹ یا ترجیحی محصولات ملتے ہیں جس سے یورپی مارکیٹ میں برآمدات بڑھانے کی صلاحیت میں اضافہ ہوتا ہے۔
جی ایس پی پلس یورپی یونین اور پاکستان کے دوطرفہ تجارتی تعلقات کے لیے انتہائی اہم ثابت ہوا ہے۔ 2014 سے 2022 کے دوران، پاکستان کی یورپی یونین کو برآمدات میں 108 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ یورپی یونین سے درآمدات میں 65 فیصد اضافہ دیکھا گیا، اور مجموعی تجارتی حجم 2013 میں 8.3 ارب یورو سے بڑھ کر 14.85 ارب یورو تک پہنچ گیا۔ یورپی یونین کی ویب سائٹ پر دستیاب ڈیٹا کے مطابق پاکستان کے گارمنٹس، بیڈ لائنن، ٹیری ٹاولز، ہوزری، چمڑے کی مصنوعات، کھیلوں اور سرجیکل آلات سمیت دیگر اشیاء جی ایس پی پلس مراعات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے یورپی مارکیٹ میں داخل ہورہی ہیں۔
ملاقات کے دوران محمد اورنگزیب اور یورپی یونین کی سفیر نے پاکستان میں یورپی کاروباری اداروں کے لیے مواقع پر تبادلہ خیال کیا اور اس بات پر زور دیا کہ سرمایہ کاری کے بڑھتے ہوئے رجحان سے فائدہ اٹھانے کے لیے سازگار کاروباری ماحول کی ضرورت ہے۔
ڈاکٹر رِینا کیونکا نے بتایا کہ یورپی یونین نے پاکستان میں سرگرم 300 سے زائد یورپی کمپنیوں کی نشاندہی کی ہے اور امکان ظاہر کیا کہ یہاں مزید کئی کمپنیاں بھی کام کررہی ہیں۔
یورپی یونین کی عہدیدار نے اس بات پر زور دیا کہ یورپی کمپنیاں پاکستان کو ممکنہ کاروباری مواقع کے مرکز کے طور پر دیکھ رہی ہیں۔
دریں اثنا وزیر خزانہ نے پاکستان میں یورپی یونین کے کاروباری اداروں کی معاونت اور ان کی سرگرمیوں میں سہولت فراہم کرنے کے حکومتی عزم کو اجاگر کیا، جس میں منافع اور ڈیوڈنڈ کی بروقت واپسی یقینی بنانا بھی شامل ہے۔
محمداورنگزیب نے یورپی کمپنیوں کے لیے ایک مؤثر اور متحدہ کاروباری پلیٹ فارم کے قیام کے خیال کا خیرمقدم کیا اور پاکستان میں کام کرنے والی فرانسیسی اور ڈچ کمپنیوں کے نمائندوں سے اپنی حالیہ مثبت ملاقات کا حوالہ دیا۔


Comments
Comments are closed.