چیئرمین نیشنل بزنس گروپ پاکستان ، پاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچولز فورم کے صدر، آل کراچی انڈسٹریل الائنس کے صدراور ایف پی سی سی آئی ایڈوائزری بورڈ کے چیئرمین میاں زاہد حسین نے کہا کہ سستی شہرت کے لیے تیز رفتار مصنوعی ترقی کے بجائے پائیدار ترقی کو آگے بڑھانے کا حکومت کا فیصلہ قابل ستائش ہے۔
انہوں نے کہا کہ اہم معاشی اصلاحات کے بغیر پائیدار ترقی ممکن نہیں ہے، جس میں ٹیکس اور توانائی کے نظام میں اصلاحات کو فہرست میں سب سے اوپر رکھنا ہوگا۔
میاں زاہد نے کہا کہ وزیراعظم اور آرمی چیف نے ملک میں سیاسی استحکام کو یقینی بنایا ہے۔ مزید برآں دہشت گردی کے خاتمے، ملکی و غیر ملکی سرمایہ کاری اور معاشی اصلاحات کی رفتار تسلی بخش ہے اور ہمارے رہنماؤں کے عزم کے سامنے منفی عناصر کی کوششیں مسلسل ناکام ہورہی ہیں۔ عالمی بینک کی جانب سے 40 ارب ڈالر کے قرضے کی منظوری درست سمت میں پیش رفت کا ثبوت ہے اور حکومت کو آئی ایم ایف کی اگلی قسط کے حصول میں کسی خاص مشکل کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔
تاجر رہنما نے کہا کہ ترقی یافتہ ممالک میں پورا معاشی نظام ٹیکس کلچر کے گرد گھومتا ہے جس کی وجہ سے عوام کو بہت ریلیف ملتا ہے۔
اس کے برعکس پاکستان جیسے ملک میں ٹیکس کلچر موجود نہیں اور براہ راست ٹیکسوں کے بجائے بالواسطہ ٹیکسز کو ترجیح دی جاتی ہے جس سے غریب اور معیشت کو بہت نقصان پہنچا ہے۔
میاں زاہد حسین نے کہا کہ جب تک ٹیکس کلچر تیار نہیں ہوتا اور ایف بی آر عوام کا اعتماد حاصل نہیں کرتا اس وقت تک شرح نمو کم رہے گی جس کی وجہ سے عوام کو بے روزگاری کے مسئلے کا سامنا کرنا پڑے گا اور حکومت کو وسائل کی کمی کے مسئلے کا سامنا کرنا پڑے گا۔
میاں زاہد حسین نے کہا کہ سست رفتار ترقی پائیدار ہے لیکن بدقسمتی سے اس حوالے سے سنجیدہ کوششیں نہیں کی گئیں جو معاشی خودکشی کے مترادف ہے۔ ماضی میں حکومتیں تمام ترقیاتی منصوبوں کو اپنے وقت میں مکمل کرنے کی کوشش کرتی تھیں جس کی وجہ سے طویل مدتی اثرات کی منصوبہ بندی نہیں کی جاسکی اور اس عجلت نے ملکی معیشت کو تباہ کردیا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف اور آرمی چیف ٹیکس کی شرح کو کم کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں لیکن وہ ٹیکس ٹو جی ڈی پی کے تناسب کو بڑھائے بغیر یہ حاصل نہیں کرسکتے ہیں۔
اس وقت صنعتیں مہنگی بجلی اور ٹیکسز کے بوجھ تلے دبی ہوئی ہیں جبکہ برآمدی ، تعمیراتی ، زراعت و دیگر شعبوں کو مہنگی بجلی اور زیادہ ٹیکسز کی وجہ سے مشکلات کا سامنا ہے۔
میاں زاہد حسین نے مزید کہا کہ وزیراعظم اور آرمی چیف کے وژن کو عملی جامہ پہنانے کیلئے عوام، سیاسی جماعتیں اور تاجر برادری بھرپور تعاون کریں تاکہ پاکستان کو مضبوط معاشی طاقت بنایا جا سکے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025

Comments
Comments are closed.