وفاقی وزیر پٹرولیم مصدق ملک نے تیل و گیس کی تلاش کے 71 بلاکس کی نیلامی کا اعلان کردیا ہے جن میں سے 40 آف شور اور 31 آن شور ہیں۔ اس کے ساتھ وفاقی وزیر نے ایندھن کی قیمتوں کو ڈی ریگولیٹ کرنے کے منصوبے کا بھی انکشاف کیا ہے ۔
انہوں نے یہ اعلان سالانہ آئل اینڈ گیس کانفرنس میں کیا۔
انہوں نے نشاندہی کی کہ پاکستان نے گزشتہ 60 سال میں صرف 18 آف شور کنویں کھودے ہیں۔ حکومت اب بولی لگانے کے لئے 40 آف شور بلاکس کی پیش کش کر رہی ہے ، جس سے سرمایہ کاروں کو ملک کے بڑے پیمانے پر غیر دریافت شدہ سمندری توانائی کے ذخائر سے فائدہ اٹھانے کا موقع ملے گا۔ مزید برآں 31 آن شور بلاکس بھی دستیاب کر دیے گئے ہیں تاکہ مقامی سطح پر تیل اور گیس کی پیداوار کو مزید فروغ دیا جا سکے۔
مصدق ملک نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کے توانائی وسائل کا بڑا حصہ تاحال دریافت نہیں ہوا اور حکومت سرمایہ کاروں کو مراعات فراہم کرکے تلاش کے عمل کو سہولت دینے کیلئے پرعزم ہے۔ انہوں نے توانائی کے بہتر حصول کیلئے جدید ٹیکنالوجی اور جدید ڈرلنگ تکنیک کو اپنانے کی اہمیت پر بھی زور دیا۔
حکومت ایک متوازی پالیسی تبدیلی کے تحت پٹرولیم قیمتوں کو ڈی ریگولیٹ کرنے کی جانب بڑھ رہی ہے تاکہ مارکیٹ قوتوں کو ایندھن کی قیمتوں کے تعین میں زیادہ کردار ادا کرنے دیا جائے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ ایک قیمت کی حد بندی کا نظام متعارف کرایا جائے گا جو قیمتوں میں حد سے زیادہ اتار چڑھاؤ کو روکنے کے ساتھ آئل مارکیٹنگ کمپنیوں (او ایم سیز) کے درمیان مسابقت کو فروغ دے گا۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کو کاروباری سرگرمیوں سے پیچھے ہٹ کر ایسی طرز حکمرانی کی طرف جانا ہوگا جو مارکیٹ پر مبنی ترقی کو فروغ دے جس سے ایندھن کی قیمتوں میں ریاستی مداخلت کے کم ہونے کا عندیہ ملے۔
کم آمدن والے طبقے کی معاونت کے لیے مصدق ملک نے موٹر سائیکل سواروں کے لیے سبسڈائزڈ ایندھن متعارف کرانے کا اعلان کیا، جو پاکستان میں یومیہ سفر کرنے والوں کی اکثریت پر مشتمل ہیں۔
یہ پالیسی تبدیلیاں وزیراعظم شہباز شریف سے مشاورت کے بعد تیار کی گئی ہیں اور حکومت کے وسیع تر وژن کی عکاسی کرتی ہیں، جس کا مقصد معاشی استحکام کو فروغ دینا، توانائی کے تحفظ کو یقینی بنانا اور صارفین کے لیے لاگت میں کمی لانا ہے۔
وزیر پٹرولیم نے اس بات کا اعادہ کیا کہ توانائی کو قابل رسائی اور سستی بنانا خاص طور پر معاشرے کے پسماندہ طبقوں کیلئے اولین ترجیح ہے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025


Comments
Comments are closed.