BR100 Increased By (0.2%)
BR30 Increased By (0.53%)
KSE100 Increased By (0.31%)
KSE30 Increased By (0.2%)
BAFL 58.05 Decreased By ▼ -0.11 (-0.19%)
BIPL 27.27 Increased By ▲ 0.04 (0.15%)
BOP 34.60 Increased By ▲ 0.20 (0.58%)
CNERGY 13.07 Decreased By ▼ -0.04 (-0.31%)
DFML 18.49 Increased By ▲ 0.09 (0.49%)
DGKC 216.01 Increased By ▲ 2.35 (1.1%)
FABL 99.84 Increased By ▲ 0.28 (0.28%)
FCCL 57.90 Decreased By ▼ -0.16 (-0.28%)
FFL 16.28 Increased By ▲ 0.05 (0.31%)
GGL 24.30 Increased By ▲ 0.32 (1.33%)
HBL 335.40 Decreased By ▼ -2.76 (-0.82%)
HUBC 213.90 Increased By ▲ 0.54 (0.25%)
HUMNL 10.51 Decreased By ▼ -0.07 (-0.66%)
KEL 7.44 Increased By ▲ 0.01 (0.13%)
LOTCHEM 27.70 Increased By ▲ 0.03 (0.11%)
MLCF 102.70 Decreased By ▼ -0.05 (-0.05%)
OGDC 320.45 Increased By ▲ 1.53 (0.48%)
PAEL 43.00 Decreased By ▼ -0.10 (-0.23%)
PIBTL 16.59 Decreased By ▼ -0.04 (-0.24%)
PIOC 276.50 Increased By ▲ 3.50 (1.28%)
PPL 232.69 Increased By ▲ 3.24 (1.41%)
PRL 74.70 Increased By ▲ 3.90 (5.51%)
SNGP 103.35 Decreased By ▼ -1.23 (-1.18%)
SSGC 27.27 Decreased By ▼ -0.14 (-0.51%)
TELE 8.56 Increased By ▲ 0.03 (0.35%)
TPLP 15.62 Decreased By ▼ -0.14 (-0.89%)
TRG 60.07 Decreased By ▼ -0.22 (-0.36%)
UNITY 11.68 Decreased By ▼ -0.04 (-0.34%)
WTL 1.20 No Change ▼ 0.00 (0%)

خام تیل کی قیمتوں میں پیر کومعمولی کمی دیکھی گئی کیونکہ سرمایہ کار روس- یوکرین امن معاہدے کی ممکنہ پیش رفت پر نظر رکھے ہوئے ہیں جو عالمی سپلائی کی روانی میں رکاوٹ ڈالنے والی پابندیوں میں نرمی کا باعث بن سکتا ہے۔

برینٹ کروڈ فیوچر ایک سینٹ کی کمی سے 74.73 ڈالر فی بیرل جبکہ یو ایس ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ خام تیل 7 سینٹ سستا ہوکر 70.67 ڈالر فی بیرل پر آگیا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کی انتظامیہ کے عہدیداروں کی جانب سے یوکرین میں جنگ کے خاتمے کے لیے روس کے ساتھ بات چیت شروع کرنے کے اعلان کے بعد مارکیٹ امن مذاکرات کی پیش رفت پر نظر رکھے ہوئے ہے۔

فلپ نووا کی سینئر مارکیٹ تجزیہ کار پرینکا سچدیوا نے کہا کہ اگر مذاکرات کے نتیجے میں کوئی حل نکلتا ہے تو مزید روسی بیرل عالمی رسد میں داخل ہوں گے جس سے تیل کی قیمتوں پر منفی اثر پڑ سکتا ہے۔

سچدیو نے کہا کہ منفی پیشرفت کے باوجود خام تیل کے لیے قریبی مدت میں طلب کے حوالے سے مثبت اشاروں کی وجہ سے مارکیٹ کچھ حد تک محفوظ دکھائی دیتی ہے،“ اور تیل کی طلب کے لیے عمومی طور پر مستحکم پیش گوئیاں کو اشارہ کیا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار کو کہا کہ وہ یقین رکھتے ہیں کہ وہ ”بہت جلد“ روس کے صدر ولادیمیر پوٹن سے ملاقات کر کے یوکرین میں جنگ کے خاتمے پر بات کرسکتے ہیں۔

ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ اور روس آنے والے دنوں میں سعودی عرب میں ابتدائی مذاکرات کی تیاری کررہے ہیں۔

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے بھی اتوار کو کہا تھا کہ یوکرین اور یورپ ماسکو کی جنگ کے خاتمے کے لیے کسی بھی ’حقیقی مذاکرات‘ کا حصہ ہوں گے، جس سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ اس ہفتے روس کے ساتھ امریکی مذاکرات یہ دیکھنے کا موقع ہیں کہ پوٹن امن کے بارے میں کتنے سنجیدہ ہیں۔

امریکہ اور یورپی یونین کی طرف سے روسی تیل کی برآمدات پر عائد پابندیوں نے اس کی ترسیلات کو محدود کر دیا ہے اور سمندری تیل کی سپلائی کی روانیوں کو متاثر کیا ہے۔

دوسری جانب، عالمی تجارتی جنگ کے خطرے نے قیمتوں کو قابو میں رکھا ہوا ہے، کیونکہ پچھلے ہفتے ٹرمپ نے تجارتی اور اقتصادی حکام کو ہدایت کی تھی کہ وہ ان ممالک کے خلاف جو امریکی مصنوعات پر ٹیکس عائد کرتے ہیں، جوابی ٹیکسوں کا جائزہ لیں اور یکم اپریل تک اپنی سفارشات پیش کریں۔

انرجی سروسز فرم بیکر ہیوز نے جمعہ کے روز اپنی رپورٹ میں کہا کہ امریکی توانائی کمپنیوں نے گزشتہ ہفتے تیل اور قدرتی گیس کے رِگز میں اضافہ کیا، جو دسمبر 2023 کے بعد مسلسل تیسرے ہفتے تھا۔

تیل اور گیس کی رگز کی گنتی، جو مستقبل کی پیداوار کا ابتدائی اشارہ ہے، 14 فروری کو ختم ہونے والے ہفتے میں بڑھ کر 588 ہو گئی ہے۔

Comments

Comments are closed.