BR100 Decreased By (-0.54%)
BR30 Decreased By (-0.74%)
KSE100 Decreased By (-0.42%)
KSE30 Decreased By (-0.37%)
BAFL 56.47 No Change ▼ 0.00 (0%)
BIPL 24.75 Increased By ▲ 0.12 (0.49%)
BOP 29.93 Decreased By ▼ -0.19 (-0.63%)
CNERGY 12.80 Decreased By ▼ -0.18 (-1.39%)
DFML 18.19 Increased By ▲ 0.70 (4%)
DGKC 186.87 Decreased By ▼ -0.35 (-0.19%)
FABL 93.41 Decreased By ▼ -0.30 (-0.32%)
FCCL 51.18 Decreased By ▼ -0.47 (-0.91%)
FFL 14.40 Decreased By ▼ -0.09 (-0.62%)
GGL 18.84 Decreased By ▼ -0.20 (-1.05%)
HBL 301.98 Decreased By ▼ -1.80 (-0.59%)
HUBC 199.00 Increased By ▲ 0.04 (0.02%)
HUMNL 9.83 Decreased By ▼ -0.02 (-0.2%)
KEL 6.03 Decreased By ▼ -0.03 (-0.5%)
LOTCHEM 26.07 Decreased By ▼ -0.10 (-0.38%)
MLCF 89.90 Decreased By ▼ -1.33 (-1.46%)
OGDC 313.00 Decreased By ▼ -0.39 (-0.12%)
PAEL 34.90 Decreased By ▼ -0.34 (-0.96%)
PIBTL 14.37 Decreased By ▼ -0.34 (-2.31%)
PIOC 236.00 Decreased By ▼ -3.62 (-1.51%)
PPL 219.15 Decreased By ▼ -2.21 (-1%)
PRL 91.60 Increased By ▲ 0.38 (0.42%)
SNGP 90.76 Decreased By ▼ -0.11 (-0.12%)
SSGC 23.37 Increased By ▲ 0.07 (0.3%)
TELE 7.47 Decreased By ▼ -0.14 (-1.84%)
TPLP 12.14 Decreased By ▼ -0.42 (-3.34%)
TRG 55.20 Decreased By ▼ -0.59 (-1.06%)
UNITY 7.94 Decreased By ▼ -0.08 (-1%)
WTL 1.01 Increased By ▲ 0.01 (1%)
کاروبار اور معیشت

قرضوں کا مجموعی حجم 71.6 ٹریلین روپے پر جا پہنچا

وفاقی حکومت کا مجموعی قرضہ دسمبر 2024 تک 71.6 ٹریلین روپے تک پہنچ گیا جو بنیادی طور پر مالیاتی خسارے کو پورا کرنے کے...
شائع اپ ڈیٹ

وفاقی حکومت کا مجموعی قرضہ دسمبر 2024 تک 71.6 ٹریلین روپے تک پہنچ گیا جو بنیادی طور پر مالیاتی خسارے کو پورا کرنے کے لئے قرض کے حصول کا نتیجہ ہے۔

اسٹیٹ بینک کے مطابق رواں مالی سال کی پہلی ششماہی کے دوران مرکزی حکومت کا کل قرض، جس میں داخلی اور بیرونی واجبات شامل ہیں 4 فیصد بڑھ گیا ہے۔

مجموعی طور پر وفاقی حکومت کا کل قرض دسمبر 2024 کے اختتام تک 71 کھرب روپے سے تجاوز کرکے 71.647 کھرب روپے تک جا پہنچا ہے جو کہ جون 2024 میں 68.914 کھرب روپے تھا، اس میں 2.733 کھرب روپے کا اضافہ ظاہر ہوتا ہے۔

قرض کے اسٹاک میں اضافہ کا زیادہ تر سبب داخلی قرضوں میں اضافہ تھا، جو جون 2024 میں 47.16 کھرب روپے سے بڑھ کر دسمبر 2024 میں 5.7 فیصد یا 2.723 کھرب روپے کے اضافے کے ساتھ 49.883 کھرب روپے تک پہنچ گئے۔ داخلی قرض میں طویل مدتی قرضے 41.106 کھرب روپے اور قلیل مدتی قرضے 8.696 کھرب روپے شامل ہیں۔

روپے کے لحاظ سے بیرونی قرضوں میں مالی سال 25 کی پہلی ششماہی کے دوران 10 ارب روپے کا معمولی اضافہ دیکھا گیا جو جون 2024 کے 21.754 ٹریلین روپے کے مقابلے میں دسمبر 2024 کے اختتام تک 21.764 ٹریلین روپے تک پہنچ گیا۔اسٹیٹ بینک کی رپورٹ کے مطابق جون 2024 میں ڈالر کی اوسط کسٹمر ایکسچینج ریٹ 278.3668 روپے اور دسمبر 2024 میں 278.5672 روپے تھی۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جولائی تا دسمبر مالی سال 25ء کے دوران فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے محصولات میں 26 فیصد اضافے کے باوجود ٹیکس وصولی کے ہدف کے حصول میں کمی نے حکومت کو مالی خسارے کو پورا کرنے کیلئے اضافی قرض لینے پر مجبور کیا۔

اسٹیٹ بینک نے سالانہ اہداف کو پورا کرنے کیلئے ٹیکس آمدن میں تیز رفتار اضافے کی ضرورت پر زور دیا۔ حکومت کے لیے بنیادی بیلنس کے ہدف کو حاصل کرنا ایک بڑا چیلنج بنا ہوا ہے۔

تاہم اسٹیٹ بینک کی توقع ہے کہ بجٹ سے کم سود کی ادائیگیوں کی بدولت مجموعی مالی خسارے کو اس کے متوقع حدود میں رکھنے میں مدد مل سکتی ہے۔

Comments

Comments are closed.