ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں کمی
انٹربینک مارکیٹ میں جمعرات کے کاروباری روز امریکی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی قدر میں 0.03 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔
کاروبار کے اختتام پر ڈالر کے مقابلے میں قدر 9 پیسے کم ہونے کے بعد روپیہ 278 روپے 86 پیسے پر بند ہوا۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کے مطابق بدھ کو روپیہ 278.77 روپے پر بند ہوا تھا۔
بین الاقوامی سطح پر جمعرات کو امریکی ڈالر اپنی حالیہ بلند ترین سطح سے نیچے آگیا کیونکہ امریکہ میں افراطِ زر کے کم ہونے کے اعدادوشمار نے بانڈ ییلڈز کو گرادیا جب کہ جاپان میں شرح سود میں اضافے کی توقعات کے باعث ین ایک ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا۔
ین راتوں رات امریکی ڈالر کے مقابلے میں سب سے زیادہ متحرک کرنسی رہی، جو تقریباً 1 فیصد بڑھی اور ایشیا میں مزید اضافہ کیا۔ یہ اضافہ اس وقت ہوا جب امریکہ میں افراطِ زر میں کمی نے فیڈرل ریزرو کی شرح سود میں کمی کے امکانات بڑھا دیے اور یہ صورتحال بینک آف جاپان کی آئندہ ہفتے ممکنہ شرح سود میں اضافے کی خبروں کے ساتھ سامنے آئی۔
ین 155.21 فی ڈالر کے طور پر مستحکم رہا، جو 19 دسمبر کے بعد سے سب سے مضبوط ہے۔
امریکی ڈالر نے آسٹریلوی اور نیوزی لینڈ ڈالرز کے مقابلے میں اپنی حالیہ برتری کا کچھ حصہ واپس کر دیا جس سے ان دونوں کرنسیوں کو تھوڑی مضبوطی حاصل ہوئی۔
ڈالر انڈیکس جمعرات کو مسلسل چوتھے سیشن میں نیچے کی جانب جا رہا تھا اور معمولی کمی کے ساتھ 109.02 پر پہنچ گیا۔
مہنگائی کے حوالے سے پریشان رہنے والے تاجروں نے سکون کا اظہار کرتے ہوئے اسٹاکس خریدے اور بینچ مارک 10 سالہ ٹریژری بانڈز کی ییلڈز کو 13 بیسس پوائنٹس سے زیادہ کم کر دیا، اگرچہ کرنسی مارکیٹ کا ردعمل نسبتاً کمزور رہا۔
ڈالر انڈیکس جنوری میں اب تک 0.5 فیصد مضبوط ہے، اور اگر یہ برقرار رہا تو یہ مسلسل چار مہینوں کی بہتری کا ریکارڈ قائم کرے گا۔ افراطِ زر کے ڈیٹا کے بعد مارکیٹس نے اس سال فیڈرل ریزرو کی جانب سے 10 بیسس پوائنٹس اضافی نرمی کو شامل کیا، جس کے تحت کٹوتیوں کا تخمینہ 37 بیسس پوائنٹس لگایا گیا۔

Comments
Comments are closed.