BR100 Increased By (0.61%)
BR30 Increased By (0.96%)
KSE100 Increased By (0.79%)
KSE30 Increased By (0.52%)
BAFL 58.72 Increased By ▲ 1.03 (1.79%)
BIPL 26.95 Decreased By ▼ -0.03 (-0.11%)
BOP 33.60 Increased By ▲ 0.21 (0.63%)
CNERGY 10.76 Increased By ▲ 0.15 (1.41%)
DFML 17.97 Increased By ▲ 0.22 (1.24%)
DGKC 211.30 Increased By ▲ 4.07 (1.96%)
FABL 100.95 Increased By ▲ 1.13 (1.13%)
FCCL 54.98 Increased By ▲ 0.92 (1.7%)
FFL 16.11 Increased By ▲ 0.04 (0.25%)
GGL 23.70 Decreased By ▼ -0.09 (-0.38%)
HBL 304.35 Increased By ▲ 3.05 (1.01%)
HUBC 218.95 Increased By ▲ 1.73 (0.8%)
HUMNL 10.62 Increased By ▲ 0.19 (1.82%)
KEL 7.24 Increased By ▲ 0.05 (0.7%)
LOTCHEM 27.21 Increased By ▲ 0.08 (0.29%)
MLCF 96.60 Increased By ▲ 1.01 (1.06%)
OGDC 315.80 Increased By ▲ 1.80 (0.57%)
PAEL 42.60 Increased By ▲ 0.48 (1.14%)
PIBTL 17.17 Increased By ▲ 0.16 (0.94%)
PIOC 273.48 Increased By ▲ 3.63 (1.35%)
PPL 216.85 Increased By ▲ 1.70 (0.79%)
PRL 59.49 Increased By ▲ 2.86 (5.05%)
SNGP 101.76 Increased By ▲ 0.84 (0.83%)
SSGC 25.44 Increased By ▲ 0.26 (1.03%)
TELE 8.43 Increased By ▲ 0.12 (1.44%)
TPLP 12.80 Increased By ▲ 0.07 (0.55%)
TRG 61.60 Decreased By ▼ -0.20 (-0.32%)
UNITY 10.02 Decreased By ▼ -0.01 (-0.1%)
WTL 1.21 Increased By ▲ 0.02 (1.68%)

یو بی ایل اسپورٹس کمپلیکس کراچی میں کھیلے گئے قائد اعظم ٹرافی 2024-25 کے فائنل میں سیالکوٹ نے پشاور کو صرف ایک وکٹ سے شکست دے کر ٹرافی اپنے نام کرلی۔

سیالکوٹ نے مشکل وکٹ پر ملنے والا 173 رنز کا ہدف 9 وکٹوں کے نقصان پر پورا کرتے ہوئے 2008 کے بعد پہلی بار ٹرافی اپنے نام۔

اس سے قبل تیسرے روز پشاور کی ٹیم علی رضا کے 7 وکٹوں کے سبب فائنل کی دوسری اننگز میں 159 رنز بنا کر آؤٹ ہوگئی تھی۔ انہوں نے میچ میں 10 وکٹیں حاصل کیں۔

پشاور زلمی نے پہلی اننگز میں 13 رنز کی برتری کے ساتھ مخالف ٹیم کو جیت کے لیے 173 رنز کا ہدف دیا۔

آخری اننگز کے آغاز سے قبل سیالکوٹ کی ٹیم فیورٹ دکھائی دے رہی تھی۔ تاہم پشاور کے فاسٹ بولر نے آخری سیشن میں کنڈیشنز کا بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنی ٹیم کو میچ میں واپس لائے۔

تیسرے دن کے اختتام تک سیالکوٹ کی آدھی ٹیم 59 رنز کے ساتھ پویلین لوٹ چکی تھی اور اسے جیت کے لیے مزید 114 رنز درکار تھے جبکہ اس کی پانچ وکٹیں باقی تھیں۔

سیالکوٹ کو فتح کیلئے وکٹ پر موجود کپتان کی جانب سے زبردست اننگز کی ضرورت تھی اور عماد بٹ نے ایسا ہی کیا۔

چوتھے دن کے صبح کے سیشن میں جب گیند کافی سیم ہورہی تھی تو عماد نے 65 رنز کی اہم اننگز کھیل کر اپنی ٹیم کو جیت کا موقع فراہم کیا تاہم وہ اس وقت آؤٹ ہو گئے جب ان کی ٹیم کو مزید 20 رنز کی ضرورت تھی۔

ان کے پارٹنر شاہ زیب بھٹی نے ایک اینڈ سے عمدہ بلے بازی کرتے ہوئے ناقبل شکست رہ کر میچ ختم کیا۔ انہوں نے 32 رنز بنائے۔

پشاور کی جانب سے دائیں ہاتھ کے فاسٹ بولر نیاز خان نے 8 اوورز میں 20 رنز دے کر 4 وکٹیں حاصل کیں جبکہ عامر خان نے 3 وکٹیں حاصل کیں۔

ٹورنامنٹ کے ریکارڈز

سیالکوٹ کے ابھرتے ہوئے اسٹار اذان اویس 844 رنز کے ساتھ ٹورنامنٹ کے سب سے زیادہ رنز بنانے والے کھلاڑی بن کر ابھرے۔انہوں نے چار سنچریاں اور دو نصف سنچریاں داغیں۔

بولنگ میں پشاور زلمی کے نیاز خان 39 وکٹوں کے ساتھ سب سے زیادہ وکٹیں لینے والے بولر رہے۔

سیالکوٹ کے 19 سالہ وکٹ کیپر افضل منظور نے اسٹمپ کے پیچھے غیر معمولی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے 38 کیچز پکڑے اور ایک اسٹمپ کیا۔

ٹورنامنٹ کی بہترین انفرادی بیٹنگ لاہور وائٹس کے علی زریاب کی رہی جنہوں نے سیالکوٹ کے خلاف 206 رنز کی شاندار اننگز کھیلی۔

فاٹا کے آفاق آفریدی نے لاہور بلیوز کے خلاف میچ کے دوران ایک اننگز میں سب سے زیادہ 57 رنز دے کر 8 وکٹیں حاصل کیں۔

Comments

Comments are closed.