مجھے آج بھی اچھی طرح یاد ہے کہ ارشد زبیری کے ساتھ میری پہلی بات چیت 1998 میں بزنس ریکارڈرکے نیوز روم میں ٹرینی کی حیثیت سے اپنے ابتدائی ہفتے کے دوران ہوئی تھی۔
رات کے آٹھ بجے تھے اور فون کی گھنٹی مسلسل بج رہی تھی یہاں تک کہ شفٹ انچارج غلام حسن ملک نے مجھ سے کہا کہ فون اٹھا کر جواب دیں۔
کچھ گھبراہٹ کے ساتھ میں نے فون اٹھایا تو دوسرے سرے پر ارشد زبیری کو پایا جو امریکی فیڈرل ریزرو کے سربراہ کی شرح سود پالیسی کے اعلان کے بارے میں معلوم کرنا چاہ رہے تھے۔ میں نے شرمندگی کے ساتھ فیڈ چیف کی شناخت کے بارے میں اپنی لاعلمی کا اعتراف کیا ، جس کی وجہ سے انہوں نے رائٹرز کو چیک کرنے کے لئے میری رہنمائی کی۔ مجھے بہت شرمندگی محسوس ہوئی لیکن آخر کار میں نے اسٹوری شائع کردی۔
اگلے روز ارشد زبیری نے امریکی فیڈرل ریزرو کے سربراہ ایلن گرین اسپین کا نام نہ جاننے پر میری شفقت بھرے لہجے میں سرزنش کی۔ اس مختصر گفتگو نے نہ صرف مجھے ایک قابل قدر سبق سکھایا بلکہ میری یادداشت پر ایک انمٹ نقش بھی چھوڑا۔
ارشد زبیری کے ساتھ کام کرنے کے دوران میں نے ان کے مثالی کام کی اخلاقیات، وقت کی پابندی اور اپنے فن سے وابستگی کا مشاہدہ کیا۔
وہ بے مثال کردار کے آدمی ، ہمیشہ اچھا لباس پہنتے، عاجز اور مہربان تھے۔
وہ اپنے مذہب سے کس درجہ عقیدت کے ساتھ وابستگی رکھتے تھے، یہ ان کی باقاعدگی سے نماز وں اور قرآن مجید کی تلاوت سے ظاہر ہوتی ہے۔ ہر جمعہ کو وہ ہاتھ میں جائے نماز لیے نماز جمعہ کے لیے قریبی مسجد جایا کرتے تھے۔
ارشد زبیری کا اپنے سینئرز، ساتھیوں اور اپنے بھائیوں وامق زبیری اور آصف زبیری اور اپنے والد مرحوم ایم اے زبیری کے لیے احترام بے مثال تھا۔
ان کے انتقال کی خبر پھیلتے ہی وزیر اعظم محمد شہباز شریف اور وفاقی وزیر برائے اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے ان کے انتقال پر تعزیت کا اظہار کیا اور صنعت میں ان کی شاندار خدمات کو سراہا۔
ارشد زبیری کی کمی بہت شدت سے محسوس کی جائے گی لیکن ایک شریف النفس انسان اور مخلص پیشہ ور شخصیت کی حیثیت سے ان کی وراثت برقرار رہے گی۔
آپ کی یاد ہمیشہ دل میں زندہ رہے گی۔ ارشد صاحب! اللہ آپ کو ابدی سکون دے۔
اللہ آپ کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ آمین
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025


Comments
Comments are closed.