BR100 Decreased By (-0.54%)
BR30 Decreased By (-0.74%)
KSE100 Decreased By (-0.42%)
KSE30 Decreased By (-0.37%)
BAFL 56.47 No Change ▼ 0.00 (0%)
BIPL 24.75 Increased By ▲ 0.12 (0.49%)
BOP 29.93 Decreased By ▼ -0.19 (-0.63%)
CNERGY 12.80 Decreased By ▼ -0.18 (-1.39%)
DFML 18.19 Increased By ▲ 0.70 (4%)
DGKC 186.87 Decreased By ▼ -0.35 (-0.19%)
FABL 93.41 Decreased By ▼ -0.30 (-0.32%)
FCCL 51.18 Decreased By ▼ -0.47 (-0.91%)
FFL 14.40 Decreased By ▼ -0.09 (-0.62%)
GGL 18.84 Decreased By ▼ -0.20 (-1.05%)
HBL 301.98 Decreased By ▼ -1.80 (-0.59%)
HUBC 199.00 Increased By ▲ 0.04 (0.02%)
HUMNL 9.83 Decreased By ▼ -0.02 (-0.2%)
KEL 6.03 Decreased By ▼ -0.03 (-0.5%)
LOTCHEM 26.07 Decreased By ▼ -0.10 (-0.38%)
MLCF 89.90 Decreased By ▼ -1.33 (-1.46%)
OGDC 313.00 Decreased By ▼ -0.39 (-0.12%)
PAEL 34.90 Decreased By ▼ -0.34 (-0.96%)
PIBTL 14.37 Decreased By ▼ -0.34 (-2.31%)
PIOC 236.00 Decreased By ▼ -3.62 (-1.51%)
PPL 219.15 Decreased By ▼ -2.21 (-1%)
PRL 91.60 Increased By ▲ 0.38 (0.42%)
SNGP 90.76 Decreased By ▼ -0.11 (-0.12%)
SSGC 23.37 Increased By ▲ 0.07 (0.3%)
TELE 7.47 Decreased By ▼ -0.14 (-1.84%)
TPLP 12.14 Decreased By ▼ -0.42 (-3.34%)
TRG 55.20 Decreased By ▼ -0.59 (-1.06%)
UNITY 7.94 Decreased By ▼ -0.08 (-1%)
WTL 1.01 Increased By ▲ 0.01 (1%)

وفاقی وزیر برائے خزانہ و محصولات، سینیٹر محمد اورنگزیب نے حکومت کے اس عزم کو دہرایا ہے کہ ملک کے ٹیکس نظام کو بہتر بنانے اور منصفانہ ٹیکس وصولی کو یقینی بنانے کے لیے ٹیکس مشینری کی تشکیل نو اور تبدیلی کی جائے گی۔ حکومت ٹیکنالوجی کے ذریعے ٹیکس کے نظام کو مزید بہتر بناناچاہتی ہے تاکہ انسانی مداخلت کو ختم کیا جائے،بدعنوانی کاخاتمہ ہو اور شفافیت کویقینی بنایاجاسک

وزیر خزانہ نے کہا کہ حکومت ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنے اور معیشت کے منظم شعبوں، جیسے مینوفیکچرنگ اور تنخواہ دار طبقے پر غیر منصفانہ بوجھ کم کرنے کے ذریعے ملک کے ٹیکس-جی ڈی پی تناسب کو بڑھانے کے لیے پرعزم ہے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوکا کولا کے گلوبل سی ای او کریم یاہی سے ملاقات کے دوران کیا۔ وفد میں جنوبی ایشیا اور مشرق وسطیٰ کیلئے علاقائی ڈائریکٹر احمد کورسد ایردن، سی سی آئی پاکستان کے جنرل منیجر سونے سانلی اور سی سی آئی پاکستان کے ڈائریکٹر کارپوریٹ افیئرز اینڈ سسٹین ایبلٹی سید عمر شامل تھے۔ وزارت خزانہ اور ایف بی آر کے سینئر افسران بھی اس موقع پرموجود تھے۔

وفد نے وزیر خزانہ کو پاکستان میں اپنے وسیع آپریشنز کے بارے میں بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ کمپنی کی سات جدید پیداواری تنصیبات ہیں، بریفنگ میں بتایاگیا کہ کمپنی پاکستان کی معیشت میں نمایاں سرمایہ کاری کے ذریعہ اپنا کرداراداکررہی ہے، کمپنی کی وجہ سے ہزاروں براہ راست اور بالواسطہ روزگارکے مواقع فراہم کئے گئے ہیں۔انہوں نے پائیداری کے لئے اپنے عزم پر بھی زور دیا اور پاکستان میں اپنے کاروبار کی مسلسل توسیع کے لئے اپنے وژن سے آگاہ کیا۔

وزیر خزانہ نے پاکستان میں سی سی آئی کے بطور اہم سرمایہ کار اور معاشی شراکت دار کے کردار کو سراہا۔ انہوں نے پائیدار کاروباری طریقوں کے فروغ، صنعتی ترقی میں اضافے اور ملک بھر میں روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لیے کمپنی کی کاوشوں کی تعریف کی۔

سرمایہ کار دوست ماحول کے فروغ کے لئے حکومت کے عزم پر اجاگر کرتے ہوئے سینیٹرمحمد اورنگزیب نے کہا کہ حکومت پاکستان ہماری معیشت کو مضبوط بنانے اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے میں کوکا کولا جیسی ملٹی نیشنل کارپوریشنز کے کردار کو انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔ ہم ایک کاروباری ماحول کو یقینی بنانے کے لئے پرعزم ہیں جو جدت طرازی ، ترقی اور استحکام کو فروغ دیتا ہے۔

ملاقات کے دوران ٹیکس پالیسیوں اور مشروبات کے شعبے پر ان کے اثرات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیر خزانہ نے مساوی ٹیکس پالیسیوں کے لئے حکومت کے عزم پر زور دیا جو پائیدار محصولات کی پیداوار کو یقینی بناتے ہوئے معاشی ترقی کو فروغ دیتے ہیں۔

انہوں نے پالیسی امور پر حکومت کے ساتھ رابطے میں سی سی آئی کے فعال نقطہ نظر کو سراہتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ اس طرح کے مکالمے کاروباری طریقوں کو قومی اقتصادی اہداف سے ہم آہنگ کرنے کے لئے اہم ہیں۔ وفاقی وزیر نے اس بات کا اعادہ کیا کہ حکومت پاکستان متوازن ٹیکس فریم ورک کو برقرار رکھنے کی اہمیت کو تسلیم کرتی ہے جو مالی ذمہ داری کو یقینی بناتے ہوئے صنعتی ترقی کی حمایت کرتا ہے۔

اجلاس کا اختتام بہتر پالیسی فریم ورک کے لئے اسٹیک ہولڈرز کی شمولیت جاری رکھنے اور پاکستان میں پائیدار ترقی کو فروغ دینے اور طویل مدتی معاشی نمو کو فروغ دینے کے مقصد سے مشترکہ مواقع تلاش کرنے کے باہمی عزم کے ساتھ ہوا۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2024

Comments

Comments are closed.