BR100 Increased By (0.8%)
BR30 Increased By (0.66%)
KSE100 Increased By (0.63%)
KSE30 Increased By (0.63%)
BAFL 57.69 Increased By ▲ 0.49 (0.86%)
BIPL 27.20 Increased By ▲ 0.31 (1.15%)
BOP 34.24 Increased By ▲ 0.55 (1.63%)
CNERGY 10.92 Increased By ▲ 0.31 (2.92%)
DFML 18.34 Increased By ▲ 0.29 (1.61%)
DGKC 209.00 Decreased By ▼ -0.90 (-0.43%)
FABL 101.01 Increased By ▲ 2.06 (2.08%)
FCCL 54.60 Increased By ▲ 0.86 (1.6%)
FFL 16.74 Increased By ▲ 0.28 (1.7%)
GGL 25.01 Increased By ▲ 1.19 (5%)
HBL 303.79 Increased By ▲ 1.37 (0.45%)
HUBC 221.00 Increased By ▲ 2.06 (0.94%)
HUMNL 10.56 Increased By ▲ 0.02 (0.19%)
KEL 7.42 Increased By ▲ 0.14 (1.92%)
LOTCHEM 29.82 Increased By ▲ 0.17 (0.57%)
MLCF 95.79 Decreased By ▼ -0.57 (-0.59%)
OGDC 318.22 No Change ▼ 0.00 (0%)
PAEL 43.05 Increased By ▲ 1.28 (3.06%)
PIBTL 16.86 Increased By ▲ 0.05 (0.3%)
PIOC 298.00 Increased By ▲ 1.38 (0.47%)
PPL 221.60 Increased By ▲ 1.43 (0.65%)
PRL 51.98 Increased By ▲ 2.93 (5.97%)
SNGP 106.99 Increased By ▲ 0.86 (0.81%)
SSGC 29.25 Increased By ▲ 0.11 (0.38%)
TELE 8.88 Increased By ▲ 0.06 (0.68%)
TPLP 12.90 Increased By ▲ 0.39 (3.12%)
TRG 60.00 Decreased By ▼ -0.22 (-0.37%)
UNITY 10.49 Increased By ▲ 0.47 (4.69%)
WTL 1.25 Increased By ▲ 0.02 (1.63%)

وفاقی حکومت نے رواں ہفتے کے اوائل میں ڈی چوک پر احتجاج کے دوران پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے کارکنوں پر قانون نافذ کرنے والے اداروں (ایل ای اے) کی جانب سے اندھا دھند فائرنگ کے الزامات کی سختی سے تردید کی ہے۔

حالیہ جھڑپوں کے دوران طاقت کے بے تحاشا استعمال اور اندھا دھند فائرنگ کے الزامات کا جواب دیتے ہوئے حکومت نے ان الزامات کو ’بدنیتی پر مبنی اور بالکل غلط‘ قرار دیا ہے۔ ڈپٹی وزیراعظم کے دفتر سے جاری بیان میں اسحاق ڈار نے اس بیانیے کو چیلنج کرتے ہوئے سوال کیا کہ قبریں اور لاشیں کہاں ہیں؟

حکومت کا دعویٰ ہے کہ احتجاج کرنے والا ہجوم بھاری اسلحے اور آنسو گیس کے گولوں سے لیس ہو کر اسلام آباد آیا تھا جس کا مقصد احتجاج کے بہانے افراتفری پھیلانا اور تشدد بھڑکانا تھا۔

بیان کے مطابق قانون نافذ کرنے والے اداروں نے اپنی صفوں میں بھاری جانی نقصان اٹھانے کے باوجود ’زیادہ سے زیادہ تحمل‘ کا مظاہرہ کیا۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ سیکیورٹی فورسز نے پرتشدد حملوں کے باوجود صبر و تحمل اور پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کیا جبکہ مظاہرین قتل کرنے اور امن عامہ کو درہم برہم کرنے کے لیے تیار تھے۔

بیان میں پی ٹی آئی رہنماؤں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے ان پر الزام عائد کیا گیا کہ وہ اپنے حامیوں کو چھوڑ رہے ہیں اور اب ریاستی بربریت کا بیانیہ تیار کر رہے ہیں۔

پی ٹی آئی کے صریح الزامات نے جھڑپوں کے دوران قانون نافذ کرنے والے اداروں کے طرز عمل اور سیاسی قیادت کے احتساب پر شدید بحث کو جنم دیا ہے۔

دفتر خارجہ کی ترجمان ممتاز زہرہ بلوچ نے بھی ایک بیان میں کہا کہ ہم نے پاکستان میں حالیہ پیش رفت پر کچھ بیرونی تبصرے دیکھے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اس میں سے کچھ تبصرے پاکستان کی صورتحال کے بارے میں غلط اور نامکمل تصویر پر مبنی ہیں۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2024

Comments

Comments are closed.