BR100 Increased By (0.2%)
BR30 Increased By (0.41%)
KSE100 Increased By (0.07%)
KSE30 Increased By (0.23%)
BAFL 57.20 Increased By ▲ 0.46 (0.81%)
BIPL 26.89 Decreased By ▼ -0.15 (-0.55%)
BOP 33.69 Increased By ▲ 0.01 (0.03%)
CNERGY 10.61 Increased By ▲ 0.80 (8.15%)
DFML 18.05 Decreased By ▼ -0.47 (-2.54%)
DGKC 209.90 Increased By ▲ 2.03 (0.98%)
FABL 98.95 Increased By ▲ 0.05 (0.05%)
FCCL 53.74 Increased By ▲ 0.22 (0.41%)
FFL 16.46 Decreased By ▼ -0.22 (-1.32%)
GGL 23.82 Increased By ▲ 0.25 (1.06%)
HBL 302.42 Decreased By ▼ -1.97 (-0.65%)
HUBC 218.94 Increased By ▲ 0.83 (0.38%)
HUMNL 10.54 Decreased By ▼ -0.12 (-1.13%)
KEL 7.28 Decreased By ▼ -0.07 (-0.95%)
LOTCHEM 29.65 Increased By ▲ 0.54 (1.86%)
MLCF 96.36 Increased By ▲ 0.86 (0.9%)
OGDC 318.22 Increased By ▲ 0.28 (0.09%)
PAEL 41.77 Decreased By ▼ -0.06 (-0.14%)
PIBTL 16.81 Increased By ▲ 0.31 (1.88%)
PIOC 296.62 Increased By ▲ 16.61 (5.93%)
PPL 220.17 Increased By ▲ 0.43 (0.2%)
PRL 49.05 Increased By ▲ 4.46 (10%)
SNGP 106.13 Decreased By ▼ -1.36 (-1.27%)
SSGC 29.14 Increased By ▲ 0.21 (0.73%)
TELE 8.82 Increased By ▲ 0.06 (0.68%)
TPLP 12.51 Increased By ▲ 0.41 (3.39%)
TRG 60.22 Increased By ▲ 0.19 (0.32%)
UNITY 10.02 Decreased By ▼ -0.09 (-0.89%)
WTL 1.23 No Change ▼ 0.00 (0%)

پنجاب حکومت نے صوبے میں 18 اور 19 اکتوبر کو دو روز کے لیے دفعہ 144 نافذ کردی ہے، اس کے علاوہ جمعہ (آج) کو صوبے بھر میں تمام نجی اور سرکاری اسکول، کالجز اور یونیورسٹیاں بند رکھنے کا اعلان کیا گیا ہے۔

جمعرات کو جاری ہونے والے ایک نوٹیفکیشن کے مطابق، حکومت نے اعلان کیا کہ ”صوبے میں ہر قسم کے احتجاج اور ریلیوں پر پابندی ہوگی“۔

نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ حکومت نے دفعہ 144 نافذ کرنے کا فیصلہ امن و امان کو برقرار رکھنے اور انسانی جان و مال کے تحفظ کے لئے کیا ہے۔

یہ پیش رفت پنجاب بھر میں جاری احتجاجی مظاہروں کے بعد سامنے آئی ہے جو لاہور میں ایک کالج کی طالبہ کے ساتھ مبینہ زیادتی کے بعد شروع ہوئے ہیں۔

صوبے میں ریپ کے الزامات پر بے چینی پائی جاتی ہے جو سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر وائرل ہوئی تھی جس کے بعد طلباء نے حالیہ دنوں میں مختلف شہروں میں متعدد مظاہرے کیے ہیں۔

راولپنڈی کے علاقے ڈھوکے گنگل میں طلبہ کے احتجاج میں ملوث 250 سے زائد افراد کو پولیس نے گرفتار کرلیا۔

لاہور میں کالج جانے والی طالبہ کی مبینہ عصمت دری کے خلاف مظاہرہ کرنے والی طالبات نے ہاسٹل کے احاطے میں زبردستی داخل ہونے کے بعد توڑ پھوڑ کی، پتھراؤ کیا اور وہاں موجود گاڑیوں کو نقصان پہنچایا۔

دریں اثنا پولیس نے طلبا کو منتشر کرنے کے لئے آنسو گیس کا استعمال کیا اور ابتدائی طور پر عمارت میں پھنسے اساتذہ اور عملے کو باہر نکالا۔

لاہور میں پرتشدد مظاہروں میں چار پولیس اہلکاروں سمیت دو درجن سے زائد افراد زخمی ہوگئے۔

وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے بدھ کے روز صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے طالبہ کی عصمت دری کے حوالے سے جھوٹی خبریں پھیلانے والوں کے خلاف کریک ڈاؤن کا اعلان کیا ہے۔

دریں اثنا لاہور کے نجی کالج شالامار کیمپس میں توڑ پھوڑ کرنے پر 274 افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ ایف آئی آر کے مطابق اس معاملے میں کم از کم 24 لوگوں کو نامزد کیا گیا ہے جبکہ باقی 250 کو نامعلوم افراد کے طور پر نامزد کیا گیا ہے۔

ایف آئی آر کے مطابق، احتجاج میں شامل ہونے کے شبہ میں کم از کم 24 لوگوں کو توڑ پھوڑ اور آتش زنی کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ شرپسندوں نے پولیس پر پٹرول بموں سے حملہ کیا جبکہ شرپسندوں کے حملوں میں کم از کم چھ ملازمین کی موٹر سائیکلوں کو نذر آتش کردیا گیا۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2024

Comments

Comments are closed.