BR100 Increased By (1.05%)
BR30 Increased By (1.48%)
KSE100 Increased By (0.55%)
KSE30 Increased By (0.63%)
BAFL 58.50 Increased By ▲ 0.06 (0.1%)
BIPL 25.45 Increased By ▲ 0.25 (0.99%)
BOP 34.28 Increased By ▲ 0.29 (0.85%)
CNERGY 8.17 Increased By ▲ 0.06 (0.74%)
DFML 21.15 Increased By ▲ 0.31 (1.49%)
DGKC 197.51 Increased By ▲ 4.54 (2.35%)
FABL 89.50 Decreased By ▼ -0.29 (-0.32%)
FCCL 53.84 Increased By ▲ 1.01 (1.91%)
FFL 18.06 Increased By ▲ 0.11 (0.61%)
GGL 19.74 Increased By ▲ 0.77 (4.06%)
HBL 286.45 Increased By ▲ 0.95 (0.33%)
HUBC 215.69 Increased By ▲ 1.31 (0.61%)
HUMNL 11.00 Increased By ▲ 0.12 (1.1%)
KEL 8.13 Increased By ▲ 0.11 (1.37%)
LOTCHEM 27.55 Decreased By ▼ -0.34 (-1.22%)
MLCF 87.69 Increased By ▲ 1.18 (1.36%)
OGDC 324.70 Increased By ▲ 4.74 (1.48%)
PAEL 40.03 Increased By ▲ 0.61 (1.55%)
PIBTL 17.31 Increased By ▲ 0.64 (3.84%)
PIOC 270.00 Increased By ▲ 3.94 (1.48%)
PPL 231.63 Increased By ▲ 3.45 (1.51%)
PRL 35.01 Increased By ▲ 0.33 (0.95%)
SNGP 99.56 Increased By ▲ 0.38 (0.38%)
SSGC 27.16 Increased By ▲ 0.56 (2.11%)
TELE 8.60 Increased By ▲ 0.32 (3.86%)
TPLP 8.78 Increased By ▲ 0.56 (6.81%)
TRG 71.85 Increased By ▲ 2.14 (3.07%)
UNITY 11.70 Increased By ▲ 0.03 (0.26%)
WTL 1.27 Decreased By ▼ -0.01 (-0.78%)
پاکستان

ایس سی او سربراہی اجلاس، سب کی نظریں اسلام آباد پر

  • ایس سی او سربراہان حکومت کے 23 ویں اجلاس میں پاکستان سمیت 12 ممالک شرکت کر رہے ہیں
شائع October 15, 2024 اپ ڈیٹ October 15, 2024 08:52am

سب کی نظریں اسلام آباد پر ہیں جو منگل کو شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے رکن ممالک کے سربراہان حکومت (سی ایچ جی) کے دو روزہ اجلاس کی میزبانی کر رہا ہے۔

ایس سی او سربراہان حکومت کے 23 ویں اجلاس میں پاکستان سمیت 12 ممالک شرکت کر رہے ہیں۔ جن میں چین، بھارت، ایران، روس، بیلاروس، قازقستان، کرغزستان، تاجکستان، ازبکستان، منگولیا اور ترکمانستان شامل ہیں۔

اس تقریب میں سات وزرائے اعظم، ایک نائب صدر، ایک وزیر خارجہ اور دیگر سینئر رہنما شرکت کر رہے ہیں۔

پاکستان کے دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق چین کے وزیر اعظم لی کیانگ، روسی وزیر اعظم میخائل میشوسٹن، ازبکستان کے عبداللہ اریپوف، بیلاروس کے رومن گولوفچینکو، منگولیا کے اویون ایرڈن لووسنامسرائی، تاجکستان کے کوہیر رسول زودہ، قازقستان کے اولزاس بیکٹینو، بھارت کے وزیر خارجہ سبرامنیم جے شنکر، ایران کے پہلے نائب صدر محمد رضا عارف اور شنگھائی تعاون تنظیم کے سیکرٹری جنرل ژانگ منگ بھی تقریب میں شریک ہیں۔

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف ایس سی او سربراہان حکومت کے موجودہ چیئرمین کی حیثیت سے اجلاس کی صدارت کر رہے ہیں۔

وزیراعظم اجلاس کے موقع پر وفد کے سربراہان سے اہم دوطرفہ ملاقاتیں بھی کریں گے۔

سربراہان حکومت اجلاس میں معیشت، تجارت، ماحولیات، سماجی و ثقافتی روابط کے شعبوں میں جاری تعاون پر تبادلہ خیال کیا جائے گا اور تنظیم کی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے گا۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ رہنما شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن ممالک کے درمیان تعاون کو مزید بڑھانے کے لئے اہم تنظیمی فیصلے کریں گے اور تنظیم کے بجٹ کی منظوری دیں گے۔ شنگھائی تعاون تنظیم ایک مستقل بین الحکومتی بین الاقوامی تنظیم ہے جس کا قیام 15 جون 2001ء کو شنگھائی، چین میں عمل میں آیا۔

شنگھائی تعاون تنظیم کے چارٹر کے مطابق شنگھائی تعاون تنظیم کے مقاصد یہ ہیں: رکن ممالک کے درمیان باہمی اعتماد، دوستی اور ”اچھی ہمسائیگی“ کو مضبوط بنانا۔ خطے میں امن، سلامتی اور استحکام کو مشترکہ طور پر یقینی بنانے اور برقرار رکھنے کے لئے سیاست، تجارت، معیشت، سائنس و ٹیکنالوجی، ثقافت، تعلیم، توانائی، نقل و حمل، سیاحت، ماحولیاتی تحفظ جیسے شعبوں میں رکن ممالک کے درمیان موثر تعاون کی حوصلہ افزائی کرنا؛ اور ایک نئے جمہوری، منصفانہ اور معقول بین الاقوامی سیاسی اور اقتصادی بین الاقوامی نظام کو فروغ دینا۔

سربراہان حکومت کا اجلاس سال میں ایک بار ہوتا ہے جس میں شنگھائی تعاون تنظیم کے اندر کثیر الجہتی تعاون کی حکمت عملی پر تبادلہ خیال کیا جاتا ہے۔

شنگھائی تعاون تنظیم کے نو رکن ممالک ہیں۔ چین، پاکستان، بھارت، ایران، روس، ازبکستان، قازقستان، کرغزستان اور تاجکستان۔

تین مبصر ممالک افغانستان، بیلاروس اور منگولیا ہیں۔ سنہ 2022 میں بیلاروس کی حیثیت کو رکن ملک کی سطح تک بڑھانے کا عمل سمرقند شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہ اجلاس میں شروع ہوا تھا۔

اس کے علاوہ آذربائیجان، آرمینیا، بحرین، مصر، کمبوڈیا، قطر، کویت، مالدیپ، میانمار، نیپال، متحدہ عرب امارات، سعودی عرب، ترکی اور سری لنکا شنگھائی تعاون تنظیم کے 14 ڈائیلاگ پارٹنر ہیں۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2024

Comments

Comments are closed.