BR100 Decreased By (-0.32%)
BR30 Decreased By (-0.44%)
KSE100 Decreased By (-0.27%)
KSE30 Decreased By (-0.28%)
BAFL 56.79 Increased By ▲ 0.06 (0.11%)
BIPL 27.01 Increased By ▲ 0.03 (0.11%)
BOP 33.55 Decreased By ▼ -0.20 (-0.59%)
CNERGY 10.01 Increased By ▲ 0.13 (1.32%)
DFML 18.00 No Change ▼ 0.00 (0%)
DGKC 201.60 Decreased By ▼ -3.33 (-1.62%)
FABL 99.75 Decreased By ▼ -0.35 (-0.35%)
FCCL 53.07 Decreased By ▼ -0.02 (-0.04%)
FFL 16.50 Decreased By ▼ -0.02 (-0.12%)
GGL 25.31 Increased By ▲ 0.47 (1.89%)
HBL 300.31 Increased By ▲ 0.49 (0.16%)
HUBC 217.00 Decreased By ▼ -0.08 (-0.04%)
HUMNL 10.50 Decreased By ▼ -0.11 (-1.04%)
KEL 7.15 Decreased By ▼ -0.07 (-0.97%)
LOTCHEM 29.50 Increased By ▲ 0.19 (0.65%)
MLCF 90.63 Decreased By ▼ -1.53 (-1.66%)
OGDC 316.00 Decreased By ▼ -0.29 (-0.09%)
PAEL 41.52 Decreased By ▼ -0.52 (-1.24%)
PIBTL 16.42 Increased By ▲ 0.01 (0.06%)
PIOC 290.00 Decreased By ▼ -10.24 (-3.41%)
PPL 217.50 Increased By ▲ 0.66 (0.3%)
PRL 52.10 Increased By ▲ 1.24 (2.44%)
SNGP 100.20 Decreased By ▼ -1.52 (-1.49%)
SSGC 26.25 Decreased By ▼ -0.73 (-2.71%)
TELE 8.53 Decreased By ▼ -0.12 (-1.39%)
TPLP 13.39 No Change ▼ 0.00 (0%)
TRG 58.80 Decreased By ▼ -0.46 (-0.78%)
UNITY 10.10 Decreased By ▼ -0.20 (-1.94%)
WTL 1.22 Decreased By ▼ -0.01 (-0.81%)

فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے ممبران لینڈ ریونیو (پالیسی) ڈاکٹر حامد عتیق سرور نے کہا ہے کہ حکومت 25-2024 کے دوران کسی نئے ٹیکس اقدامات یا منی بجٹ پر غور نہیں کر رہی۔

ایف بی آر رکن نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کو بتایا کہ وزیراعظم نے صرف نان فائلرز کے خلاف اقدامات اور نان فائلرز، نیل فائلرز یا ان فائلرز پر پابندیوں کی منظوری دی ہے جو بڑے پیمانے پر انڈر ڈیکلیریشن یا ریٹرن میں غلط ڈیکلیریشن میں ملوث ہیں۔

انہوں نے کہا کہ آنے والے دنوں میں کوئی منی بجٹ یا نئے محصولاتی اقدامات نہیں ہوں گے۔ ڈاکٹر حامد عتیق سرور نے کمیٹی کو واضح طور پر بتایا کہ انکم ٹیکس گوشوارے جمع کرانے کی آخری تاریخ 30 ستمبر سے آگے نہیں بڑھائی جائے گی۔

ممبر ایف بی آر نے کہا کہ ٹیکس سال 2023 کے لیے ریٹرن فائل کرنے والوں کی تعداد 60 لاکھ تک پہنچ چکی ہے اور انکم ٹیکس گوشوارے جمع نہ کرانے والوں کے خلاف جاری کارروائی کے باعث ہم مزید گوشوارے جمع کروانے کی توقع کر رہے ہیں۔

انہوں نے انکشاف کیا کہ 25 لاکھ افراد نے زیرو انکم ریٹرن جمع کرائے ہیں۔

کمپیوٹر سسٹم صفر آمدنی کے مالی لین دین کی اجازت اس وقت تک نہیں دے گا جب تک کہ وہ اپنی آمدنی کے ذرائع یا آمدنی وغیرہ کی وضاحت نہیں کرتے۔

بعد ازاں پارلیمنٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ممبر ان لینڈ ریونیو (پالیسی) نے کہا کہ ایف بی آر نے پہلی سہ ماہی (جولائی تا ستمبر) 25-2024 کے لیے محصولات کی وصولی کے مقررہ ہدف کو پورا کرنے کے لیے حکمت عملی کو حتمی شکل دے دی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایف بی آر رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی کے لئے مقرر کردہ 2652 ارب روپے کا ہدف حاصل کرے گا۔ ایف بی آر نے ریٹرن کے ساتھ تقریبا 50 ارب روپے جمع کرنے کا تخمینہ لگایا ہے۔ ایڈوانس ٹیکس کی قسط بھی ستمبر 2024 میں کارپوریٹ سیکٹر اور بینکوں کے ذریعہ ادا کی جانی ہے۔

گیس کمپنیاں رواں ماہ کے دوران واجب الادا ٹیکس بھی ادا کریں گی۔ ایف بی آر ٹیئر ون ریٹیلرز کا دائرہ کار وسیع کرے گا اور اسٹینڈ لون اسٹورز کو ٹیئر ون ریٹیلرز کے زمرے میں شامل کیا جائے گا۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2024

Comments

Comments are closed.