BR100 Increased By (0.41%)
BR30 Increased By (0%)
KSE100 Increased By (0.46%)
KSE30 Increased By (0.52%)
BAFL 57.20 No Change ▼ 0.00 (0%)
BIPL 27.00 Increased By ▲ 0.11 (0.41%)
BOP 34.19 Increased By ▲ 0.50 (1.48%)
CNERGY 10.23 Decreased By ▼ -0.38 (-3.58%)
DFML 18.13 Increased By ▲ 0.08 (0.44%)
DGKC 207.48 Decreased By ▼ -2.42 (-1.15%)
FABL 100.60 Increased By ▲ 1.65 (1.67%)
FCCL 54.75 Increased By ▲ 1.01 (1.88%)
FFL 16.62 Increased By ▲ 0.16 (0.97%)
GGL 24.70 Increased By ▲ 0.88 (3.69%)
HBL 303.13 Increased By ▲ 0.71 (0.23%)
HUBC 220.04 Increased By ▲ 1.10 (0.5%)
HUMNL 10.40 Decreased By ▼ -0.14 (-1.33%)
KEL 7.38 Increased By ▲ 0.10 (1.37%)
LOTCHEM 29.40 Decreased By ▼ -0.25 (-0.84%)
MLCF 95.00 Decreased By ▼ -1.36 (-1.41%)
OGDC 317.15 Decreased By ▼ -1.07 (-0.34%)
PAEL 43.00 Increased By ▲ 1.23 (2.94%)
PIBTL 16.77 Decreased By ▼ -0.04 (-0.24%)
PIOC 296.21 Decreased By ▼ -0.41 (-0.14%)
PPL 220.20 Increased By ▲ 0.03 (0.01%)
PRL 49.64 Increased By ▲ 0.59 (1.2%)
SNGP 105.50 Decreased By ▼ -0.63 (-0.59%)
SSGC 28.36 Decreased By ▼ -0.78 (-2.68%)
TELE 8.85 Increased By ▲ 0.03 (0.34%)
TPLP 13.10 Increased By ▲ 0.59 (4.72%)
TRG 59.65 Decreased By ▼ -0.57 (-0.95%)
UNITY 10.47 Increased By ▲ 0.45 (4.49%)
WTL 1.26 Increased By ▲ 0.03 (2.44%)

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے صنعت و پیداوار نے کراچی کے بجلی صارفین کو کورونا سبسڈی کی عدم ادائیگی پر کے الیکٹرک کے سی ای او کو طلب کرلیا۔

تمام صنعتی ایسوسی ایشنز نے کورونا وبا کے دوران 33 ارب روپے کی سبسڈی کا دعویٰ کیا ہے۔

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے صنعت و پیداوار نے نوٹس لیا ہے کہ حکومت نے کورونا وبا کے دوران کراچی کے بجلی صارفین کے لیے سبسڈی کا اعلان کیا تھا۔

کراچی کی پاور یوٹیلٹی کے الیکٹرک نے شہر کے رہائشی، کمرشل اور صنعتی صارفین کو اعلان کردہ سبسڈی نہیں دی۔

قائمہ کمیٹی برائے صنعت و پیداوار نے اس معاملے پر سی ای او کے الیکٹرک کو طلب کرلیا ہے۔

پارلیمانی باڈی کا اگلا اجلاس 27 ستمبر کو اسلام آباد میں ہوگا۔

قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں اٹارنی جنرل کو بھی مدعو کیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ کراچی کی صنعتی تنظیموں نے اس معاملے پر قائمہ کمیٹی کو خطوط لکھے تھے۔

اس سے قبل پارلیمنٹ کی قائمہ کمیٹی برائے صنعت و پیداوار نے اس معاملے پر نیپرا کو خط لکھا تھا۔

Comments

Comments are closed.