BR100 Increased By (0.85%)
BR30 Increased By (1.12%)
KSE100 Increased By (0.54%)
KSE30 Increased By (0.57%)
BAFL 58.66 Increased By ▲ 0.22 (0.38%)
BIPL 25.53 Increased By ▲ 0.33 (1.31%)
BOP 34.35 Increased By ▲ 0.36 (1.06%)
CNERGY 8.18 Increased By ▲ 0.07 (0.86%)
DFML 20.92 Increased By ▲ 0.08 (0.38%)
DGKC 195.57 Increased By ▲ 2.60 (1.35%)
FABL 89.96 Increased By ▲ 0.17 (0.19%)
FCCL 53.60 Increased By ▲ 0.77 (1.46%)
FFL 18.07 Increased By ▲ 0.12 (0.67%)
GGL 19.12 Increased By ▲ 0.15 (0.79%)
HBL 287.50 Increased By ▲ 2.00 (0.7%)
HUBC 215.70 Increased By ▲ 1.32 (0.62%)
HUMNL 10.90 Increased By ▲ 0.02 (0.18%)
KEL 8.14 Increased By ▲ 0.12 (1.5%)
LOTCHEM 27.89 No Change ▼ 0.00 (0%)
MLCF 87.55 Increased By ▲ 1.04 (1.2%)
OGDC 322.70 Increased By ▲ 2.74 (0.86%)
PAEL 40.00 Increased By ▲ 0.58 (1.47%)
PIBTL 17.06 Increased By ▲ 0.39 (2.34%)
PIOC 273.00 Increased By ▲ 6.94 (2.61%)
PPL 229.67 Increased By ▲ 1.49 (0.65%)
PRL 34.95 Increased By ▲ 0.27 (0.78%)
SNGP 99.73 Increased By ▲ 0.55 (0.55%)
SSGC 26.88 Increased By ▲ 0.28 (1.05%)
TELE 8.68 Increased By ▲ 0.40 (4.83%)
TPLP 8.73 Increased By ▲ 0.51 (6.2%)
TRG 70.13 Increased By ▲ 0.42 (0.6%)
UNITY 11.71 Increased By ▲ 0.04 (0.34%)
WTL 1.29 Increased By ▲ 0.01 (0.78%)

فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی مالی سال 2023-24 کے دوران مجموعی ٹیکس وصولی میں درآمدی مرحلے پر ٹیکس وصولی کا حصہ 35 فیصد اور گھریلو ٹیکس وصولی کا حصہ 65 فیصد تھا۔

ایف بی آر کے اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ درآمدات سے ٹیکس وصولی کا حصہ 2022-23 میں 39 فیصد سے کم ہوکر 2023-24 میں 35 فیصد رہ گیا۔ 22-2021 میں درآمدات سے ٹیکس وصولی کا حصہ 49 فیصد تھا۔

امپورٹ ٹیکس کے زمرے میں 2022-23 میں کسٹم ڈیوٹی وصولی کا حصہ 13 فیصد رہا جب کہ 2023-24 میں یہ حصہ 12 فیصد رہ گیا۔

گھریلو ٹیکسز کا حصہ 2022-23 میں 61 فیصد سے بڑھ کر 2023-24 میں 65 فیصد ہو گیا۔ مالی سال 22-2021 کے دوران مجموعی ٹیکس وصولی میں مقامی اسٹیج/ سپلائی سے جمع ہونے والے وفاقی ٹیکسز کا حصہ 51 فیصد تھا۔

مالی سال 2023-24 کے دوران گھریلو سطح پر سیلز ٹیکس کی وصولی 47 فیصد اور درآمدات 53 فیصد رہی۔

گھریلو سیلز ٹیکس وصولی کا حصہ 2022-23 میں 44 فیصد سے بڑھ کر 2023-24 میں 47 فیصد ہو گیا۔ مالی سال 2021-22 میں مجموعی ٹیکسز میں گھریلو سیلز ٹیکس وصولی کا حصہ 35 فیصد تھا جو 2023-24 میں بڑھ کر 47 فیصد ہوگیا۔

درآمدی مرحلے سے سیلز ٹیکس وصولی کا حصہ 2022-23 میں 56 فیصد سے کم ہوکر 2023-24 میں 53 فیصد رہ گیا۔ مالی سال 22-2021 میں درآمدات سے سیلز ٹیکس وصولی کا حصہ 65 فیصد رہا۔

مجموعی فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی (ایف ای ڈی) کی وصولی میں سے مقامی سپلائی / گھریلو مرحلے سے ایف ای ڈی کا حصہ 2022-23 میں 96 فیصد سے کم ہوکر 2023-24 میں 94 فیصد رہ گیا۔

درآمدات سے ایف ای ڈی کا حصہ 2022-23 میں 4 فیصد سے بڑھ کر 2023-24 میں مجموعی ایف ای ڈی کلیکشن میں 6 فیصد ہوگیا۔

مالی سال 2023-24 میں گھریلو سطح سے انکم ٹیکس وصولی کا حصہ 92 فیصد تھا جب کہ درآمدی مرحلے سے آئی ٹی وصولی اس عرصے کے دوران کل ٹیکس وصولی کا 8 فیصد تھی۔

مجموعی انکم ٹیکس وصولی میں گھریلو سطح پر آئی ٹی وصولی 2022-23 میں 90 فیصد سے بڑھ کر 2023-24 میں 92 فیصد ہوگئی۔ مالی سال 2021-22 میں گھریلو آئی ٹی کلیکشن کا حصہ کل آئی ٹی کلیکشن میں 86 فیصد تھا۔

ایف بی آر کے اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 23-2022 میں درآمدات سے آئی ٹی وصولی 9 فیصد سے کم ہو کر 2023-24 میں 8 فیصد رہ گئی۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2024

Comments

Comments are closed.