BR100 Increased By (0.62%)
BR30 Increased By (0.87%)
KSE100 Increased By (0.41%)
KSE30 Increased By (0.42%)
BAFL 58.60 Increased By ▲ 0.16 (0.27%)
BIPL 25.51 Increased By ▲ 0.31 (1.23%)
BOP 34.33 Increased By ▲ 0.34 (1%)
CNERGY 8.18 Increased By ▲ 0.07 (0.86%)
DFML 20.85 Increased By ▲ 0.01 (0.05%)
DGKC 195.68 Increased By ▲ 2.71 (1.4%)
FABL 89.96 Increased By ▲ 0.17 (0.19%)
FCCL 53.38 Increased By ▲ 0.55 (1.04%)
FFL 18.08 Increased By ▲ 0.13 (0.72%)
GGL 19.55 Increased By ▲ 0.58 (3.06%)
HBL 286.21 Increased By ▲ 0.71 (0.25%)
HUBC 215.29 Increased By ▲ 0.91 (0.42%)
HUMNL 10.93 Increased By ▲ 0.05 (0.46%)
KEL 8.13 Increased By ▲ 0.11 (1.37%)
LOTCHEM 27.53 Decreased By ▼ -0.36 (-1.29%)
MLCF 87.13 Increased By ▲ 0.62 (0.72%)
OGDC 322.97 Increased By ▲ 3.01 (0.94%)
PAEL 39.81 Increased By ▲ 0.39 (0.99%)
PIBTL 17.46 Increased By ▲ 0.79 (4.74%)
PIOC 269.00 Increased By ▲ 2.94 (1.11%)
PPL 229.20 Increased By ▲ 1.02 (0.45%)
PRL 34.80 Increased By ▲ 0.12 (0.35%)
SNGP 99.55 Increased By ▲ 0.37 (0.37%)
SSGC 27.11 Increased By ▲ 0.51 (1.92%)
TELE 8.64 Increased By ▲ 0.36 (4.35%)
TPLP 8.61 Increased By ▲ 0.39 (4.74%)
TRG 69.73 Increased By ▲ 0.02 (0.03%)
UNITY 11.72 Increased By ▲ 0.05 (0.43%)
WTL 1.28 No Change ▼ 0.00 (0%)

فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے آل پاکستان انجمن تاجران کی جانب سے دکانوں اور ریٹیل آؤٹ لیٹس سے وصول کیے جانے والے ماہانہ ایڈوانس ٹیکس کے تعین کے لیے ویلیوایشن ٹیبل پر نظرثانی کرنے کے ایک بڑے مطالبے سے اتفاق کرلیا۔

آل پاکستان انجمن تاجران کے صدر اجمل بلوچ کی سربراہی میں وفد نے چیئرمین ایف بی آر اور ان کی ٹیکس منیجرز کی ٹیم سے ایف بی آر ہاؤس میں ملاقات کی۔

ٹیکس حکام نے تاجروں کو آگاہ کیا ہے کہ تاجر دوست اسکیم پر عمل درآمد کیا جائے گا اور تاجروں کو رجسٹرڈ ہونا ہوگا اور ان کے واجب الادا ٹیکس ادا کرنے ہوں گے۔

اجلاس کے اختتام پر اجمل بلوچ نے بزنس ریکارڈر کو بتایا کہ ایسوسی ایشن نے ویلیو ایشن ٹیبلز اور ملک بھر میں دکانوں پر اس کے اثرات کے بارے میں اپنے خدشات سے آگاہ کیا ہے۔

ٹیکس حکام نے ایف بی آر ممبران اور تاجروں پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دینے پر اتفاق کیا ہے جو کاروبار و تجارت کی جانب سے اٹھائے گئے ویلیو ایشن ٹیبلز اور دیگر خدشات کا جائزہ لے گی۔

ایف بی آر کی جانب سے جوائنٹ کمیٹی کے اراکین کو ابھی مطلع نہیں کیا گیا۔

تاہم ایف بی آر آل پاکستان انجمن تاجران کے تحفظات سننے کے لیے تیار ہے جو ایک مثبت پیش رفت ہے۔

ایف بی آر حکام کے مطابق تاجروں کو قومی خزانے میں واجب الادا ٹیکس ادا کرنا ہوگا۔

تاہم ٹیکس کی ماہانہ رقم پر بات کی جاسکتی ہے ۔

ماہانہ ایڈوانس ٹیکس کی شرح معقول ہونی چاہیے اور دکانداروں اور تاجروں کے درمیان ٹیکسز کی شرح میں بہت بڑا فرق نہیں ہونا چاہیے۔

ایف بی آر نے تاجر برادری کے مطالبات پورے کرنے کیلئے متعلقہ ایس آر او میں ترمیم کرنے پر بھی آمادگی ظاہر کی ہے۔

ایف بی آر ٹریڈرز کمیٹی کو رضاکارانہ طور پر مارکیٹوں اور دکانوں میں فکسڈ ٹیکس کی چھوٹ، نرخوں اور ادائیگی کے بارے میں ان کے کاروبار اور دکانوں کے سائز کی بنیاد پر فیصلہ کرنے کی اجازت دے گا۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2024

Comments

Comments are closed.