BR100 Increased By (0.14%)
BR30 Decreased By (-0.19%)
KSE100 Increased By (0.12%)
KSE30 Increased By (0.09%)
BAFL 56.75 Decreased By ▼ -0.45 (-0.79%)
BIPL 27.18 Increased By ▲ 0.29 (1.08%)
BOP 34.10 Increased By ▲ 0.41 (1.22%)
CNERGY 9.92 Decreased By ▼ -0.69 (-6.5%)
DFML 18.16 Increased By ▲ 0.11 (0.61%)
DGKC 207.00 Decreased By ▼ -2.90 (-1.38%)
FABL 100.18 Increased By ▲ 1.23 (1.24%)
FCCL 54.61 Increased By ▲ 0.87 (1.62%)
FFL 16.70 Increased By ▲ 0.24 (1.46%)
GGL 24.87 Increased By ▲ 1.05 (4.41%)
HBL 301.99 Decreased By ▼ -0.43 (-0.14%)
HUBC 219.15 Increased By ▲ 0.21 (0.1%)
HUMNL 10.48 Decreased By ▼ -0.06 (-0.57%)
KEL 7.42 Increased By ▲ 0.14 (1.92%)
LOTCHEM 29.35 Decreased By ▼ -0.30 (-1.01%)
MLCF 94.35 Decreased By ▼ -2.01 (-2.09%)
OGDC 316.40 Decreased By ▼ -1.82 (-0.57%)
PAEL 43.15 Increased By ▲ 1.38 (3.3%)
PIBTL 16.72 Decreased By ▼ -0.09 (-0.54%)
PIOC 296.50 Decreased By ▼ -0.12 (-0.04%)
PPL 220.50 Increased By ▲ 0.33 (0.15%)
PRL 49.05 No Change ▼ 0.00 (0%)
SNGP 104.94 Decreased By ▼ -1.19 (-1.12%)
SSGC 28.17 Decreased By ▼ -0.97 (-3.33%)
TELE 8.80 Decreased By ▼ -0.02 (-0.23%)
TPLP 13.40 Increased By ▲ 0.89 (7.11%)
TRG 60.30 Increased By ▲ 0.08 (0.13%)
UNITY 10.44 Increased By ▲ 0.42 (4.19%)
WTL 1.26 Increased By ▲ 0.03 (2.44%)

شرح سود میں کٹوتی کی توقع میں ٹریژری بلز کا منافع گررہا ہے۔ رواں ہفتے کے شروع میں ہونے والی نیلامی میں 3 ماہ کے بلز کی کٹ آف ایلڈ 50-54 بیس پوائنٹس کم ہو کر 18.97 فیصد جبکہ 12 ماہ کے بلز کی 17.73 فیصد ہوگئی جوکہ 19.5 فیصد کی پالیسی ریٹ کے مقابلے میں ہے۔ اس کی متعدد وجوہات ہیں۔ ایک واضح شرح سود میں مزید کٹوتی کی توقعات ہیں اور دوسرا یہ کہ ایڈوانس ٹو ڈپازٹس کے تناسب کو منظم کیا جائے کیونکہ کم اے ڈی آر کی صورت میں سرمایہ کاری سے بینکوں کی مجموعی آمدنی پر زیادہ ٹیکس ہے۔

بہرحال صنعت میں تقریباً ہر کوئی آئندہ موسم گرما تک شرح سود میں کم از کم 3 سے 4 فیصد کی کمی کی توقع کررہا ہے اور وہ مستقبل میں شرح میں کمی کی توقع کے پیش نظر 190 بی پی ایس (12-ایم ٹی-بل کٹ آف اور او ایم او نیلامی کی شرح کے درمیان فرق) کے قلیل مدتی نقصان کو قبول کرنے کیلئےتیار ہیں۔

ایک اثاثہ انتظامی کمپنی کے سی آئی او نے کہا کہ ہم شرح سود میں بتدریج کمی کی توقع کررہے ہیں اور سال 2025 میں ٹریژری بلز کی شرح کو 15 فیصد سے کم دیکھ رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم اس وقت حالات کا دوبارہ جائزہ لیں گے جب منافع کی شرح 15 فیصد تک پہنچ جائے گی۔

مارکیٹ اس جذبات کی عکاسی کرتی ہے۔ ہر کوئی توقع کررہا ہے کہ افراط زر میں کمی آئے گی اور 3 سے 4 فیصد کی حقیقی شرح کی بنیاد پر وہ توقع کرتے ہیں کہ شرح سود تقریباً 15 فیصد تک گرجائے گی ۔ شرکاء 12 ایم پیپر میں او ایم او پر اگلی پالیسی کی شرح تک 190 بی پی ایس کے منفی پھیلاؤ کی توقع کرتے ہیں جو شرکت اور قبولیت دونوں کے عروج کی نشاندہی کرتا ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ ایک بینک کے خزانچی کا خیال ہے کہ فاریکس مارکیٹ کا انتظام ان کے بینک کے اندر آمد میں کمی کا سبب بن رہا ہے جب کہ اسٹیٹ بینک فاریکس کے بہاؤ کے انتظام کے ذریعے کرنسی کا استحکام برقرار رکھے ہوئے ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ فاریکس مارکیٹ کو مارکیٹ فورسز کے حوالے کرنے سے کرنسی کی قدر میں کمی ہو سکتی ہے ، جو افراط زر پر منفی اثر ڈال سکتی ہے اور عام خیال کے برعکس حقیقی شرحوں میں کمی کا سبب بن سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب آپ کرنسی کا انتظام کرتے ہیں تو آپ کے پاس حقیقی نرخوں کو بلند رکھنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہوتا۔

کچھ دوسرے بینک اسٹیٹ بینک کی پالیسی سے متفق ہیں کہ حقیقی شرح سود کو مثبت رکھا جائے، لیکن ان کا کہنا ہے کہ مارکیٹ کی طلب مہنگائی اور ٹیکسوں کی وجہ سے جمود کا شکار ہے اور فاریکس مارکیٹ کی رسد اور طلب متوازن ہیں اور اس پر کوئی انتظامی کنٹرول نہیں ہے۔۔ٹھیک ہے، بینک کی پوزیشننگ پر منحصر خیالات مختلف ہیں۔ ترسیلات زر اور برآمدات پر انحصار کرنے والے بینک مثبت حالت میں ہیں جبکہ درآمدات اور تجارت پر توجہ دینے والے بینکوں میں لیکویڈٹی کی کمی ہے۔

انہوں نے کہا کہ منی مارکیٹ میں تیزی برقرار رہے گی کیونکہ قیمتوں میں 4 فیصد کٹوتی کی گئی ہے۔ ایک خزانچی کے مطابق اگر امریکہ دسمبر تک 75 سے 100 بی پی ایس کٹوتی کرتا ہے تو اس سے پاکستان میں مزید نرمی آسکتی ہے۔

ٹریژری حلقوں میں افواہیں گردش کر رہی ہیں کہ کچھ بینکوں نے ایڈوانس ٹو ڈپازٹ تناسب بڑھانے کے لیے سرکاری سیکیورٹیز میں اپنی سرمایہ کاری کم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ فیصلہ کم اے ڈی آرز، خاص طور پر مجموعی آمدنی پر زیادہ ٹیکس کی وجہ سے کیا گیا تھا۔ ایک ٹریژری افسر نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ او ایم اوز کو حکومت کو فنڈ دینے کے لئے استعمال کرنے میں کوئی مزہ نہیں ہے جب وہ مجموعی آمدنی کا آدھا حصہ کھا رہے ہیں۔

کچھ بینکوں کے پاس او ایم اوز میں انتہائی کم اے ڈی آر اور بھاری بکنگ ہے۔ ایک افواہ ہے کہ یہ بینک اپنے اعلی لاگت کے ٹائم ڈپازٹس کو کم کرنے اور اپنے گاہکوں کو غیر مسابقتی بولی کے ذریعے براہ راست ٹی بلز میں سرمایہ کاری کرنے کی ترغیب دینے کا منصوبہ بنا رہا ہے۔ کم ڈپازٹس سے موجودہ ایڈوانسز میں اے ڈی آر میں بہتری آئے گی۔ دوسرے لوگ آگے چل کر اس کی پیروی کر سکتے ہیں۔

گزشتہ نیلامی میں غیر مسابقتی بولی 95 ارب روپے تھی جو کل نیلامی کے حجم 355 ارب روپے کا 27 فیصد ہے۔ یہ تناسب پچھلی 24 نیلامیوں کے مقابلے میں زیادہ ہے، جہاں اوسط 17 فیصد تھا۔ تاہم مجموعی طور پر 95 ارب روپے گزشتہ 24 نیلامیوں میں 98 ارب روپے کی اوسط غیر مسابقتی بولی کے مطابق ہیں۔

حکومت نے فائدہ مند کھیل کھیلا ہے۔ اس سے نہ صرف بینکوں کو ڈپازٹس پر توجہ دینے کے لئے راغب کیا جا سکتا ہے بلکہ اس سے زیادہ آمدنی والے صارفین کو سیکورٹی پیپرز میں براہ راست سرمایہ کاری کرنے پر بھی مجبور کیا جاسکتا ہے۔ روشن مستقبل سامنے ہے۔

Comments

Comments are closed.