BR100 Increased By (0.63%)
BR30 Increased By (0.84%)
KSE100 Increased By (0.41%)
KSE30 Increased By (0.45%)
BAFL 58.60 Increased By ▲ 0.16 (0.27%)
BIPL 25.50 Increased By ▲ 0.30 (1.19%)
BOP 34.31 Increased By ▲ 0.32 (0.94%)
CNERGY 8.15 Increased By ▲ 0.04 (0.49%)
DFML 20.95 Increased By ▲ 0.11 (0.53%)
DGKC 195.11 Increased By ▲ 2.14 (1.11%)
FABL 89.92 Increased By ▲ 0.13 (0.14%)
FCCL 53.30 Increased By ▲ 0.47 (0.89%)
FFL 18.02 Increased By ▲ 0.07 (0.39%)
GGL 19.60 Increased By ▲ 0.63 (3.32%)
HBL 287.50 Increased By ▲ 2.00 (0.7%)
HUBC 215.10 Increased By ▲ 0.72 (0.34%)
HUMNL 10.90 Increased By ▲ 0.02 (0.18%)
KEL 8.14 Increased By ▲ 0.12 (1.5%)
LOTCHEM 27.50 Decreased By ▼ -0.39 (-1.4%)
MLCF 87.20 Increased By ▲ 0.69 (0.8%)
OGDC 322.98 Increased By ▲ 3.02 (0.94%)
PAEL 39.80 Increased By ▲ 0.38 (0.96%)
PIBTL 17.39 Increased By ▲ 0.72 (4.32%)
PIOC 268.99 Increased By ▲ 2.93 (1.1%)
PPL 229.25 Increased By ▲ 1.07 (0.47%)
PRL 34.75 Increased By ▲ 0.07 (0.2%)
SNGP 99.22 Increased By ▲ 0.04 (0.04%)
SSGC 26.97 Increased By ▲ 0.37 (1.39%)
TELE 8.57 Increased By ▲ 0.29 (3.5%)
TPLP 8.64 Increased By ▲ 0.42 (5.11%)
TRG 69.66 Decreased By ▼ -0.05 (-0.07%)
UNITY 11.70 Increased By ▲ 0.03 (0.26%)
WTL 1.29 Increased By ▲ 0.01 (0.78%)

وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان سے پاکستان ایسوسی ایشن آف آٹوموٹو پارٹس اینڈ ایکسیسریز مینوفیکچررز (پاپام) اور موبائل فون مینوفیکچررز کے نمائندوں نے ملاقات کی جس میں آٹوموبائلز اور موبائل فونز کی مقامی مینوفیکچرنگ کو متاثر کرنے والے مختلف مسائل پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

اس موقع پر چیئرمین پاپام عبدالرحمٰن عزیز نے تمام پرانی اور استعمال شدہ گاڑیوں پر ریگولیٹری ڈیوٹی (آر ڈی) عائد کرنے کا مطالبہ کیا ۔ انہوں نے وضاحت کی کہ 1300 سی سی سے کم استعمال شدہ گاڑیوں کی 70 فیصد درآمدات فنانس بل 2024-25 میں عائد کردہ نئی آر ڈی سے مستثنیٰ ہیں۔ بجٹ 2024-25 میں مقامی اسمبلرز کی درخواست پر 1300 سی سی سے زائد درآمد شدہ استعمال شدہ گاڑیوں پر 15 فیصد آر ڈی عائد کیا گیا ہے ۔ تاہم اس آر ڈی نے ان کے مسئلے کو حل نہیں کیا کیونکہ چھوٹی گاڑیاں، جو بڑی تعداد میں درآمد کی جاتی ہیں کو استثنیٰ حاصل ہے ۔

عامر اللہ والا کی سربراہی میں موبائل مینوفیکچررز کے نمائندوں نے مقامی صنعت کو سہارا دینے کے لیے پرانے موبائل فونز کی درآمد پر پابندی عائد کرنے کا مطالبہ کیا ۔ انہوں نے قیمت کی بنیاد پر موجودہ 18 فیصد جی ایس ٹی کے بجائے جنرل سیلز ٹیکس (جی ایس ٹی) کے لئے ایک مخصوص شرح کی بھی درخواست کی جس کے مطابق درآمدی مرحلے پر قیمتوں کا غلط اعلان ہوسکتا ہے اور مقامی صنعت پر منفی اثر پڑسکتا ہے۔

وفاقی وزیر جام کمال خان نے یقین دلایا کہ ان خدشات کو وزارت صنعت و پیداوار، وزارت خزانہ اور ایف بی آر کی مشاورت سے دور کیا جائے گا۔

انہوں نے آٹو پارٹس اور موبائل فونز کی مقامی مینوفیکچرنگ کی حوصلہ افزائی کے لئے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی ۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2024

Comments

Comments are closed.