BR100 Increased By (0.48%)
BR30 Increased By (0.63%)
KSE100 Increased By (0.4%)
KSE30 Increased By (0.39%)
BAFL 58.70 Increased By ▲ 0.26 (0.44%)
BIPL 25.37 Increased By ▲ 0.17 (0.67%)
BOP 34.29 Increased By ▲ 0.30 (0.88%)
CNERGY 8.16 Increased By ▲ 0.05 (0.62%)
DFML 20.86 Increased By ▲ 0.02 (0.1%)
DGKC 195.38 Increased By ▲ 2.41 (1.25%)
FABL 89.94 Increased By ▲ 0.15 (0.17%)
FCCL 53.30 Increased By ▲ 0.47 (0.89%)
FFL 18.01 Increased By ▲ 0.06 (0.33%)
GGL 19.55 Increased By ▲ 0.58 (3.06%)
HBL 286.90 Increased By ▲ 1.40 (0.49%)
HUBC 215.25 Increased By ▲ 0.87 (0.41%)
HUMNL 10.86 Decreased By ▼ -0.02 (-0.18%)
KEL 8.15 Increased By ▲ 0.13 (1.62%)
LOTCHEM 27.75 Decreased By ▼ -0.14 (-0.5%)
MLCF 86.97 Increased By ▲ 0.46 (0.53%)
OGDC 322.27 Increased By ▲ 2.31 (0.72%)
PAEL 39.90 Increased By ▲ 0.48 (1.22%)
PIBTL 16.89 Increased By ▲ 0.22 (1.32%)
PIOC 267.15 Increased By ▲ 1.09 (0.41%)
PPL 229.29 Increased By ▲ 1.11 (0.49%)
PRL 34.79 Increased By ▲ 0.11 (0.32%)
SNGP 99.45 Increased By ▲ 0.27 (0.27%)
SSGC 27.06 Increased By ▲ 0.46 (1.73%)
TELE 8.59 Increased By ▲ 0.31 (3.74%)
TPLP 8.62 Increased By ▲ 0.40 (4.87%)
TRG 69.50 Decreased By ▼ -0.21 (-0.3%)
UNITY 11.69 Increased By ▲ 0.02 (0.17%)
WTL 1.29 Increased By ▲ 0.01 (0.78%)
پاکستان

ٹیکسز میں اضافہ نہ کیا تو بار بار آئی ایم ایف کے پاس جانا پڑے گا ، وزیر خزانہ

  • سمت مثبت ہے، سرمایہ کار اسٹاک مارکیٹ پر اعتماد کا اظہار کر رہے ہیں ، محمد اورنگزیب
شائع July 8, 2024 اپ ڈیٹ July 8, 2024 10:52am

وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ اگر پاکستان نے اپنے ٹیکس محصولات میں خاطر خواہ اضافہ نہیں کیا تو وہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) سے مالی امداد کے پیکج مانگتا رہے گا۔

محمد اورنگزیب کا یہ بیان صدرمملکت کی جانب سے وفاقی بجٹ پر دستخط کے چند روز بعد سامنے آیا ہے ۔واضح رہے کہ بجٹ پر حزب اختلاف، تجارتی تنظیموں اور یہاں تک کہ حکومت کے اتحادیوں کی جانب سے بھی تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔

ٹیکس سے بھرپور بجٹ کا مقصد جولائی 2025 تک 13 ٹریلین روپے (46.6 ارب ڈالر) جمع کرنا ہے جو رواں مالی سال کے مقابلے میں تقریبا 40 فیصد زیادہ ہے ۔ مالیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ بجٹ کا مقصد آئی ایم ایف کو مطمئن کرنا ہے، جس نے بارہا اسلام آباد سے کہا ہے کہ وہ اپنی کمزور معیشت کی ترقی کو یقینی بنانے کے لیے ٹیکس اصلاحات لائے۔

برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز سے بات کرتے ہوئے وزیرخزانہ نے کہا کہ وہ رواں ماہ آئی ایم ایف کے ساتھ عملے کی سطح کے معاہدے پر پہنچنے کے لیے ’نسبتا پراعتماد‘ ہیں جس کا تخمینہ ان کی حکومت نے 6 سے 8 ارب ڈالر کے درمیان لگایا ہے۔

پاکستان کو امید ہے کہ آئی ایم ایف بیل آؤٹ پیکج معیشت کو مستحکم کرے گا، جو ایشیا میں بدترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والی معیشتوں میں سے ایک ہے جو ڈبل ڈیجٹ افراط زر، سست نمو اور کم زرمبادلہ ذخائر کی وجہ سے مشکلات کا شکار ہے۔

پاکستان کے معاشی اشاریوں میں گزشتہ چند ماہ کے دوران بہتری ریکارڈ کی گئی ہے اور جون میں افراط زر کی شرح کم ہو کر 12.6 فیصد رہ گئی جو مئی 2023 میں ریکارڈ 38 فیصد تھی ۔ پاکستان کی اسٹاک مارکیٹ میں حالیہ ہفتوں کے دوران بلند شرح نمو ریکارڈ کی گئی ہے جبکہ مرکزی بینک کے زرمبادلہ ذخائر 9 ارب ڈالر سے زائد ہوگئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سفر کی سمت مثبت ہے اور سرمایہ کار اسٹاک مارکیٹ پر اعتماد کا اظہار کر رہے ہیں ۔ تاہم انہوں نے تسلیم کیا کہ پاکستان کے ٹیکس جمع کرنے والے ادارے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کو عوام منفی نظر سے دیکھتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ لوگ کرپشن کی وجہ سے، ہراسانی کی وجہ سے، لوگوں کی جانب سے تیز رفتار پیسے مانگنے کی وجہ سے، پیسے کی سہولت کی وجہ سے ٹیکس اتھارٹی کے ساتھ معاملہ نہیں کرنا چاہتے ہیں۔

وزیر خزانہ نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ معیشت کس طرح درآمدات پر منحصر ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آباد کو موجودہ یا جمع شدہ قرضوں کی ادائیگی کے لئے قرض لینا پڑا۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں قرضوں کی ادائیگی کی صلاحیت پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ جب تک معیشت کا درآمد پر انحصار رہے گا، ہمارے پاس ڈالر ختم ہوتے رہیں گے اور ہمیں بالآخر قرض دینے والوں کے پاس واپس جانا پڑے گا۔

اپریل سے وزیر اعظم شہباز شریف ملک کے اہم شعبوں میں غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنے کے لئے سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور چین کے دورے کر چکے ہیں ۔ ان کی حکومت نے بارہا پاکستان کے اتحادیوں کو یقین دلایا ہے کہ وہ قرض نہیں بلکہ باہمی فائدہ مند شراکت داری چاہتے ہیں۔

محمد اورنگزیب نے خلیجی سرمایہ کاروں کے ایکویٹی اور بورڈ سیٹوں کے مطالبات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ ہم پر منحصر کرتا ہے کہ ہم انہیں سرمایہ کاری کے قابل منصوبے فراہم کریں

محمد اورنگ زیب نے خلیجی سرمایہ کاروں کے ایکوٹی اور بورڈ نشستوں کے مطالبے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا اب وقت آگیا ہے کہ ہم حقیقی شکل اختیار کریں ۔ سرمایہ کاری کے قابل منصوبے فراہم کرنے کے لئے گیند ہماری کورٹ میں ہے.

Comments

Comments are closed.