BR100 Increased By (1.2%)
BR30 Increased By (1.12%)
KSE100 Increased By (0.74%)
KSE30 Increased By (0.73%)
BAFL 57.80 Increased By ▲ 0.60 (1.05%)
BIPL 27.28 Increased By ▲ 0.39 (1.45%)
BOP 34.40 Increased By ▲ 0.71 (2.11%)
CNERGY 10.89 Increased By ▲ 0.28 (2.64%)
DFML 18.40 Increased By ▲ 0.35 (1.94%)
DGKC 210.60 Increased By ▲ 0.70 (0.33%)
FABL 101.18 Increased By ▲ 2.23 (2.25%)
FCCL 54.90 Increased By ▲ 1.16 (2.16%)
FFL 16.76 Increased By ▲ 0.30 (1.82%)
GGL 25.09 Increased By ▲ 1.27 (5.33%)
HBL 304.74 Increased By ▲ 2.32 (0.77%)
HUBC 222.00 Increased By ▲ 3.06 (1.4%)
HUMNL 10.57 Increased By ▲ 0.03 (0.28%)
KEL 7.41 Increased By ▲ 0.13 (1.79%)
LOTCHEM 29.90 Increased By ▲ 0.25 (0.84%)
MLCF 96.74 Increased By ▲ 0.38 (0.39%)
OGDC 319.83 Increased By ▲ 1.61 (0.51%)
PAEL 43.35 Increased By ▲ 1.58 (3.78%)
PIBTL 17.10 Increased By ▲ 0.29 (1.73%)
PIOC 300.99 Increased By ▲ 4.37 (1.47%)
PPL 222.90 Increased By ▲ 2.73 (1.24%)
PRL 52.16 Increased By ▲ 3.11 (6.34%)
SNGP 108.05 Increased By ▲ 1.92 (1.81%)
SSGC 29.50 Increased By ▲ 0.36 (1.24%)
TELE 8.96 Increased By ▲ 0.14 (1.59%)
TPLP 13.10 Increased By ▲ 0.59 (4.72%)
TRG 60.48 Increased By ▲ 0.26 (0.43%)
UNITY 10.57 Increased By ▲ 0.55 (5.49%)
WTL 1.26 Increased By ▲ 0.03 (2.44%)

وفاقی حکومت آئندہ مالی سال 25۔2024 کیلئے 18 کھرب روپے سے زائد مالیت کا وفاقی بجٹ آج (بدھ) پیش کرے گی ۔ موجودہ حکومت کا یہ پہلا وفاقی بجٹ ہے۔

وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب بدھ کی شام قومی اسمبلی کے اجلاس میں بجٹ پیش کریں گے۔

یہ بجٹ ملکی اور بین الاقوامی محاذوں پر معیشت کو درپیش موجودہ چیلنجز اور مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے تیار کیا گیا ہے ۔ ذرائع نے بتایا کہ اس دستاویز میں عوام کی مشکلات کو کم کرنے، زرعی شعبے میں بہتری لانے، انفارمیشن ٹیکنالوجی (آئی ٹی) ، صنعتی ترقی، کاروبار کو فروغ دینے اور برآمدات میں اضافے پرخصوصی توجہ دی گئی ہے۔

حکومت عوام دوست، کاروبار دوست اور ترقی پسند وفاقی بجٹ پیش کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ یہ بجٹ خسارے پر قابو پانے کے لئے مالی استحکام کے مقصد سے پالیسیوں پر عمل کرے گا۔

بجٹ میں مالیاتی انتظام کے علاوہ ریونیو موبلائزیشن، معاشی استحکام اور نمو کے لیے اقدامات، غیر ترقیاتی اخراجات میں کمی، روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور ملک کی سماجی و اقتصادی خوشحالی کیلئے عوام دوست پالیسیاں شامل ہوں گی۔

یہ گورننس کو بہتر بنانے اور سرمایہ کاری کے لئے نجی شعبے کو فروغ دینے کے لئے اصلاحات متعارف کرانے کے علاوہ سماجی شعبے کی ترقی پر بھی توجہ مرکوز کرے گا۔

محصولات کے حوالے سے حکومت ٹیکس وصولی کے نظام میں بہتری لانے، ٹیکس بیس کو وسیع کرنے اور ٹیکس دہندگان کو سہولت فراہم کرنے کے لیے اقدامات متعارف کرائے گی۔

رواں مالی سال (2023-24) کے دوران محصولات میں زبردست اضافے کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت کی جانب سے مالی سال 2024-25 کے لیے محصولات کی وصولی کا ہدف 12 کھرب روپے سے زائد مقرر کیے جانے کا امکان ہے۔

ذرائع نے بتایا کہ نئے مالی سال کے وفاقی بجٹ کیلئے تمام ترتیاریاں مقررہ نظام الاوقات کے مطابق زور و شور سے جاری ہیں۔

Comments

Comments are closed.