BR100 Increased By (0.89%)
BR30 Increased By (1.25%)
KSE100 Increased By (0.63%)
KSE30 Increased By (0.69%)
BAFL 58.68 Increased By ▲ 0.24 (0.41%)
BIPL 25.49 Increased By ▲ 0.29 (1.15%)
BOP 34.46 Increased By ▲ 0.47 (1.38%)
CNERGY 8.18 Increased By ▲ 0.07 (0.86%)
DFML 20.98 Increased By ▲ 0.14 (0.67%)
DGKC 196.16 Increased By ▲ 3.19 (1.65%)
FABL 90.00 Increased By ▲ 0.21 (0.23%)
FCCL 53.36 Increased By ▲ 0.53 (1%)
FFL 18.14 Increased By ▲ 0.19 (1.06%)
GGL 19.10 Increased By ▲ 0.13 (0.69%)
HBL 288.34 Increased By ▲ 2.84 (0.99%)
HUBC 215.65 Increased By ▲ 1.27 (0.59%)
HUMNL 10.93 Increased By ▲ 0.05 (0.46%)
KEL 8.15 Increased By ▲ 0.13 (1.62%)
LOTCHEM 28.05 Increased By ▲ 0.16 (0.57%)
MLCF 87.50 Increased By ▲ 0.99 (1.14%)
OGDC 322.75 Increased By ▲ 2.79 (0.87%)
PAEL 40.20 Increased By ▲ 0.78 (1.98%)
PIBTL 17.17 Increased By ▲ 0.50 (3%)
PIOC 273.00 Increased By ▲ 6.94 (2.61%)
PPL 230.15 Increased By ▲ 1.97 (0.86%)
PRL 34.86 Increased By ▲ 0.18 (0.52%)
SNGP 99.49 Increased By ▲ 0.31 (0.31%)
SSGC 27.00 Increased By ▲ 0.40 (1.5%)
TELE 8.71 Increased By ▲ 0.43 (5.19%)
TPLP 8.69 Increased By ▲ 0.47 (5.72%)
TRG 70.05 Increased By ▲ 0.34 (0.49%)
UNITY 11.73 Increased By ▲ 0.06 (0.51%)
WTL 1.29 Increased By ▲ 0.01 (0.78%)

وفاقی حکومت آئندہ مالی سال 25۔2024 کیلئے 18 کھرب روپے سے زائد مالیت کا وفاقی بجٹ آج (بدھ) پیش کرے گی ۔ موجودہ حکومت کا یہ پہلا وفاقی بجٹ ہے۔

وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب بدھ کی شام قومی اسمبلی کے اجلاس میں بجٹ پیش کریں گے۔

یہ بجٹ ملکی اور بین الاقوامی محاذوں پر معیشت کو درپیش موجودہ چیلنجز اور مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے تیار کیا گیا ہے ۔ ذرائع نے بتایا کہ اس دستاویز میں عوام کی مشکلات کو کم کرنے، زرعی شعبے میں بہتری لانے، انفارمیشن ٹیکنالوجی (آئی ٹی) ، صنعتی ترقی، کاروبار کو فروغ دینے اور برآمدات میں اضافے پرخصوصی توجہ دی گئی ہے۔

حکومت عوام دوست، کاروبار دوست اور ترقی پسند وفاقی بجٹ پیش کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ یہ بجٹ خسارے پر قابو پانے کے لئے مالی استحکام کے مقصد سے پالیسیوں پر عمل کرے گا۔

بجٹ میں مالیاتی انتظام کے علاوہ ریونیو موبلائزیشن، معاشی استحکام اور نمو کے لیے اقدامات، غیر ترقیاتی اخراجات میں کمی، روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور ملک کی سماجی و اقتصادی خوشحالی کیلئے عوام دوست پالیسیاں شامل ہوں گی۔

یہ گورننس کو بہتر بنانے اور سرمایہ کاری کے لئے نجی شعبے کو فروغ دینے کے لئے اصلاحات متعارف کرانے کے علاوہ سماجی شعبے کی ترقی پر بھی توجہ مرکوز کرے گا۔

محصولات کے حوالے سے حکومت ٹیکس وصولی کے نظام میں بہتری لانے، ٹیکس بیس کو وسیع کرنے اور ٹیکس دہندگان کو سہولت فراہم کرنے کے لیے اقدامات متعارف کرائے گی۔

رواں مالی سال (2023-24) کے دوران محصولات میں زبردست اضافے کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت کی جانب سے مالی سال 2024-25 کے لیے محصولات کی وصولی کا ہدف 12 کھرب روپے سے زائد مقرر کیے جانے کا امکان ہے۔

ذرائع نے بتایا کہ نئے مالی سال کے وفاقی بجٹ کیلئے تمام ترتیاریاں مقررہ نظام الاوقات کے مطابق زور و شور سے جاری ہیں۔

Comments

Comments are closed.