BR100 Decreased By (-0.98%)
BR30 Decreased By (-0.58%)
KSE100 Decreased By (-0.58%)
KSE30 Decreased By (-0.71%)
BAFL 56.99 Increased By ▲ 0.26 (0.46%)
BIPL 27.15 Increased By ▲ 0.17 (0.63%)
BOP 33.70 Decreased By ▼ -0.05 (-0.15%)
CNERGY 9.98 Increased By ▲ 0.10 (1.01%)
DFML 17.99 Decreased By ▼ -0.01 (-0.06%)
DGKC 204.49 Decreased By ▼ -0.44 (-0.21%)
FABL 100.00 Decreased By ▼ -0.10 (-0.1%)
FCCL 53.50 Increased By ▲ 0.41 (0.77%)
FFL 16.65 Increased By ▲ 0.13 (0.79%)
GGL 24.78 Decreased By ▼ -0.06 (-0.24%)
HBL 301.90 Increased By ▲ 2.08 (0.69%)
HUBC 217.98 Increased By ▲ 0.90 (0.41%)
HUMNL 10.81 Increased By ▲ 0.20 (1.89%)
KEL 7.23 Increased By ▲ 0.01 (0.14%)
LOTCHEM 29.78 Increased By ▲ 0.47 (1.6%)
MLCF 92.25 Increased By ▲ 0.09 (0.1%)
OGDC 318.00 Increased By ▲ 1.71 (0.54%)
PAEL 41.99 Decreased By ▼ -0.05 (-0.12%)
PIBTL 16.50 Increased By ▲ 0.09 (0.55%)
PIOC 302.00 Increased By ▲ 1.76 (0.59%)
PPL 217.88 Increased By ▲ 1.04 (0.48%)
PRL 52.11 Increased By ▲ 1.25 (2.46%)
SNGP 102.45 Increased By ▲ 0.73 (0.72%)
SSGC 27.08 Increased By ▲ 0.10 (0.37%)
TELE 8.55 Decreased By ▼ -0.10 (-1.16%)
TPLP 13.42 Increased By ▲ 0.03 (0.22%)
TRG 59.99 Increased By ▲ 0.73 (1.23%)
UNITY 10.25 Decreased By ▼ -0.05 (-0.49%)
WTL 1.23 No Change ▼ 0.00 (0%)

سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) نے قرض لینے والوں کے لیے ”فصل قرض انشورنس اسکیم“ اور ”لائیو سٹاک انشورنس اسکیم“ کا مکمل ازسرنو جائزہ لینے کی تجویز پیش کی ہے تاکہ یہ یقینی بنایا جاسکے کہ وہ حقیقی معنوں میں کسانوں کو قیمتی انشورنس کوریج فراہم کریں۔

فصلوں اور لائیو سٹاک انشورنس کے منظرنامے پر ایس ای سی پی کی نئی رپورٹ کے مطابق، اس ازسرنو تشخیص / جائزے میں پریمیم کی حد، ذمہ داری کی حد، کوریج، دعووں کے طریقہ کار، لازمی نفاذ اور جانوروں کی ٹیگنگ کے لئے جدید طریقوں کو اپنانے سمیت اہم چیلنجوں کو حل کیا جانا چاہئے۔

اسی طرح پنجاب فصل بیمہ اسکیم کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے تاکہ بغیر کلیم بونس کے پریمیم کی ادائیگی، کسان رجسٹریشن کے عمل کو ہموار بنانے، اس اسکیم میں مزید انشورنس کمپنیوں کو شامل کرنے اور پیداوار کی پیمائش کے موجودہ طریقوں کو اپ ڈیٹ کرنے جیسے مسائل سے نمٹا جا سکے۔

مزید برآں، ان اسکیموں کے لئے ایک مسلسل تشخیص اور نگرانی کا طریقہ کار بنانا ضروری ہے تاکہ تمام اہم اسٹیک ہولڈرز: بیمہ کمپنیوں، بینکوں، ریگولیٹرز، محکمہ زراعت اور کسانوں کو درپیش فوائد اور چیلنجوں کا جائزہ لیا جاسکے۔ اہم بات یہ ہے کہ انشورنس سبسڈی کے جواز کے لئے ثبوت پر مبنی اصولوں کی ضرورت ہوتی ہے ، جس کے لئے نگرانی اور تشخیص کے عمل کے ذریعہ جاری اعداد و شمار جمع کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔

ایس ای سی پی نے یہ تجویز بھی پیش کی ہے کہ قومی سطح پر لازمی فصل انشورنس اسکیم کو مندرجہ ذیل اعلی ٰ سطحی غور و خوض کے ساتھ مراحلہ وار متعارف کرایا جائے۔

(1)۔ اس اسکیم میں زمین داروں اور کرایہ داروں سمیت قرض لینے والے اور غیر قرض دار دونوں فصل مالکان کا احاطہ کیا گیا ہے، جس میں صوبائی محکمہ زراعت زمین کی ملکیت کی بنیاد پر فائدہ اٹھانے والوں کی حیثیت کا تعین کرتے ہیں۔

(ii) اس میں پاکستان بھر میں خریف اور ربیع کے موسموں کی تمام بڑی فصلیں شامل ہیں۔

(iii) بیمہ شدہ خطرات میں فصل کی پیداوار کو متاثر کرنے والے موسمی، قدرتی یا حیاتیاتی واقعات اور بیمہ کی مدت بوائی سے لے کر کٹائی تک شامل ہے۔

(iv) اسکیم پیرامیٹرک ڈھانچے پر بنائی گئی ہے اور فصل کاٹنے کے تجربے کی پیمائش کے ٹیکنالوجی پر مبنی طریقوں کا استعمال کرتے ہوئے دعووں کا اندازہ لگایا جاتا ہے۔

(v) اس اسکیم کو پول/کنسورشیم پر مبنی ڈھانچے کے ذریعے لاگو کیا جاتا ہے جس میں تمام خواہشمند بیمہ کمپنیوں کو مطلوبہ ری بیمہ انتظامات کے ساتھ شامل کیا جاتا ہے۔

(vi) ایس ای سی پی نے مزید کہا کہ پریمیم سبسڈیز لینڈ ہولڈنگ کے سائز پر مبنی ہیں اور فنانسنگ وفاقی حکومت اور متعلقہ صوبوں کے درمیان شیئر کی جاتی ہے۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2024

Comments

Comments are closed.